Published From Aurangabad & Buldhana

یونیفارم سول کوڈ افسانہ ہوگا یا سچائی؟


مجتبیٰ منیب

یونیفارم سول کوڈ ،جسے بہت سارے لوگ اب تک افسانہ سمجھتے آرہے تھے، جس کے بارے میں لگتا تھا کہ یہ صرف اور صرف ایک پالیٹیکل جملہ ہے جو کبھی کبھار سیاست گرمانے استعمال کیا جاتا ہے اب یہ سب شاید حقیقت کی طرف چل پڑا ہے۔

کیوں؟ کیسے؟ تو آپ لوگوں نے سنا ہوگا کہ دہلی ہائی کورٹ نے بس ابھی ابھی ایک فیصلہ کے دوران یہ بات کہی ہے کہ بھارت کا سماج اب یونیفارم سول کوڈ کی جانب بڑھ سکتا ہے، دہلی ہائی کورٹ نے آگے بڑھ کر کہا کہ اب سینٹر کو کامن سول کوڈ کا ڈرافٹ تیار کرنا شروع کردینا چاہیے۔

یونیفارم سول کوڈ یعنی ہر معاملے میں پورے بھارت کے لئے ایک قانون ہو۔ کوئی الگ الگ سے مذہبی قوانین نہ ہوں بلکہ تمام مذہبوں کے ماننے والوں کے لئے ایک قانون بنا دیا جائے ۔ دہلی ہائی کورٹ نے یہ بات کہتے ہوئے بتایا کہ بھارت کا سماج اب دھیرے دھیرے homogeneous بنتا جارہا ہے اور اب تمام مذہبوں کے درمیان موجود رکاوٹیں ہٹتی جارہی ہیں۔ لائیو منٹ کی رپورٹ کے مطابق دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس پرتبھا ایم سنگھ جنہوں نے یہ فیصلہ سنایا ہے انہوں نے کہا کہ عدالتیں بار بار Personal Laws کی وجہ سے Conflict میں رہتی ہیں۔ الگ الگ مذہبوں اور قوموں سے تعلق رکھنے والے لوگ شادی کے معاملوں میں یہ Conflicts لیکر آتے ہیں ۔ جبکہ نئی نسل کے نوجوانوں کو ان مذہبی قانونوں کی بندش میں نہیں رہنا ہے۔ اسی لئے جسٹس پرتبھا کے مطابق اب کامن سول کوڈ کی جانب بڑھنا چاہیے۔

یونیفارم سول کوڈ کا مطلب تو ہم سب جانتے ہیں۔ ویسے UCC یعنی لوگوں کی نجی زندگی سے جڑے معاملات جیسے شادی ، طلاق، کسی کو گود لینا، وراثت کی تقسیم وغیرہ کے معاملات میں تمام مذہبوں اور قوموں کو پرے رکھ کر Common law بنایا جائے اور سب کو وہ ماننا پڑے گا۔ آج کی تاریخ میں ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ملک کا دستور اور قانون الگ الگ مذہبوں و قوموں کو انکے حساب سے ان معاملات میں قانون بنانے اور اس پر عمل کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ جیسے کہ ہندو میریج ایکٹ، Hindu Succession Act, Indian Christian Marriages Act, Indian Divorce Act, Parsi Marriage and Divorce Act, etc.

مسلم پرسنل لاز بھی موجود ہیں لیکن وہ Codified نہیں ہیں۔ حالانکہ اس کے کچھ حصے چند قوانین کے تحت آتے ہیں جیسے شریعت ایپلیکشن ایکٹ اور Dissolution of Muslim Marriage Act. ان تمام قوانین میں ان کے اپنے مذہبوں اور قوموں کے حساب سے rules mention کیے گئے ہیں۔ جوظاہر سی بات ہے الگ الگ ہیں۔
اب دہلی ہائی کورٹ نے کس طرف اشارہ کیا ہے؟ دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ جس طرح دستور کے آرٹیکل 44 میں موقع رکھا گیا تھا اب یونیفارم سول کوڈ لاگو کردینا چاہیے۔ جس کا ذکر سپریم کورٹ نے بھی بار بار کیا ہے۔ ایسا کوڈ جو سب کے لئے کامن ہو۔ کورٹ کے مطابق اس کی وجہ سے ان Personal matters میں جھگڑے کم ہونگے یا کم از کم جھگڑوں پر فیصلہ دینا آسان ہوگا۔ کورٹ کے مطابق زیادہ تر مسئلہ الگ الگ مذہبی قوانین کی وجہ سے ہوتا ہے۔ عدالت نے یہ بات اس وقت کہی جب وہ مینا کمیونیٹی کے معاملہ میں ہندو میریج ایکٹ 1955 کو لاگو کرنے کے بارے میں بات کی جا رہی تھی۔ جو کیس آیا تھا اس کے مطابق ایک جوڑے نے طلاق کی عرضی دی تھی، انکی شادی ۲۴ جون ۲۰۱۲ کو ہوئی تھی ۔ طلاق ہندو میریج ایکٹ کے سیکشن 13-1 (ia) کے مطابق مانگا گیا تھا۔ طلاق کی عرضی ۲ دسمبر ۲۰۱۵ کو Husband کی طرف سے ڈالی گئی تھی۔ بیوی کی جانب سے اسے reject کرنے کی ڈیمانڈ یہ کہتے ہوئے کی گئی تھی کہ وہ راجستھان کی ایک خاص ST کمیونیٹی سے تعلق رکھتی ہے اس لئے اس پر ہندو میریج ایکٹ لاگو نہیں ہوسکتا۔ پہلے یہ معاملہ فیملی کورٹ میں آیا تھا جہاں پر یہ کہتے ہوئے طلاق کی عرضی ٹھکرادی گئی کہ لڑکی مینا کمیونٹی پر ہندو میریج ایکٹ لاگو نہیں ہوتا۔ دہلی ہائی کورٹ نے فیملی کورٹ کے فیصلے پر روک لگاتے ہوئے کیس کی سنوائی کی اجازت دی۔ اور اس معاملے میں یونیفارم سول کوڈ کی بات کی۔
اصلیت میں یونیفارم سول کوڈ کیا ہے؟ UCC کی شروعات بھارت کی آزادی سے پہلے ہوئی تھی جب برٹش کی حکومت تھی۔ 1835 میں ایک رپورٹ میں یہ بات کہی گئی تھی کہ بھارت میں جرائم، ثبوت، اور تمام قسم کے معاہدوں کے لئے ایک ہی قانون ہونا چاہیے۔ ہاں اس رپورٹ میں یہ ضرور کہا گیا تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے ذاتی قوانین کو اس سے الگ رکھنا چاہیے۔

یونیفارم سول کوڈ کے تحت جو بات کی جاتی ہے اس کے مطابق پورے بھارت میں ایک قانون چلنا چاہیے جو تمام مذہب کے ماننے والوں پر لاگو ہوجس میں جیسے کہ پہلے بات ہوئی شادی، طلاق، وراثت اور گود لینے جیسے تمام چیزیں شامل ہیں۔ اس کے لئے دستور کے سیکشن ۴۴ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ سیکشن ۴۴ جو کہ دستور کا Directive Principal ہے جس میں ستائے گئے لوگوں کو انصاف دلانے اور الگ الگ کلچرل گروپس کو ہم آہنگ کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے دستور کو تیار کرتے وقت کہا تھا کہ UCC ملک میں آنا چاہیے لیکن ڈاکٹر امبیڈکر نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کو زبردستی تھوپا نہیں جانا چاہیے، یہ voluntary ہونا چاہیے۔ اور اسی لئے دستور میں آرٹیکل 35 کو ڈالا گیا تھا۔ یہ ویسا ہی تھا جیسا کشمیر سے آرٹیکل 371 کے بارے میں ڈاکٹر امبیڈکر نے کہا تھا کہ اس کو ہٹانے کا راستہ اوپر سے نہ ہو بلکہ وہاں کے لوگوں کی مرضی سے ہو۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے Constituent Assembly کی اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ’’ کسی کو بھی یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اگر اسٹیٹ کے پاس طاقت ہے تو وہ فوراً یونیفارم سول کوڈ کو نافذ کردے۔ وہ طاقت اس وقت غلط مانی جائیگی اگر آپکے بنائے قانون پر دیش کے مسلمانوں یا کرسچن یا دوسری قومیں اعتراض کریں۔ میرے حساب سے اگر کوئی حکومت ایسا کرتی ہے تو وہ پاگل ہوگی‘‘۔

جب بھی یہ مسئلہ اٹھتا ہے بہت صاف بات ہے کہ اس کا مقصد دو ہی چیزوں کے لئے ہوتا ہے، سرکار کی جانب سے اقلیتوں کو ڈرانے کے لئے اور سرکاری میڈیا و سرکار کی جانب سے جنتا کو اصل مدعوں سے بھٹکا کر ایک نیا کھلونا دینے کے لئے، لیکن کھلونا ایسا جس سے خوشی نہیں بلکہ پورے سماج میں بے چینی پھیلتی ہے۔ یہ مدعا ہمیشہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے ہم نواں ہی اٹھاتے آئے ہیں۔ بی جے پی نے 2019 کے انتخابات کے موقع پر اپنے مینی فیسٹو میں اس کو ڈالا تھا۔ آپ اس بات کو اس سے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ 2018 میں لا کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ بات لکھی تھی کہ فلحال ہمارے ملک میں یونیفارم سول کوڈ کی ضرورت نہیں ہے۔ جس میں وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ بھارت جیسے diverse ملک میں الگ الگ قوانین ہی ہونے چاہیے اور اسی کی وجہ سے لوگوں کا احترام باقی رہے گا۔ اگر ہم اس کو لاتے ہیں تو یہ حالات کو simplify کرنے کے بجائے اور بگاڑ دے گا۔ لا کمیشن نے کہا تھا کہ خود دستور نے لوگوں کو الگ الگ provision دیے ہیں جیسے کہ اقلیتوں کو الگ سے ، آدی واسیوں کو الگ سے۔ بلکہ خود civil procedure code اور Criminal Procedure Code میں exemptions دیے گئے ہیں تو پھر یو سی سی کیسے حل ہوسکتا ہے؟اور جیسا کہ آپ نے سنا یہ زیادہ پرانا نہیں بلکہ 2018 ہی کی بات ہے۔
اب یو سی سی کو لیکر گوا کی مثال دی جاتی ہے کہ وہاں پر لاگو ہے لیکن وہ بھی پوری طرح صحیح نہیں ہے وہ اس لئے کہ گوا جو کہ ایک وقت پورتوگل کی سرکار کے تحت آتا تھا وہاں آج بھی پورتیگیز کالونیوں کو رہنے کی اجازت دی گئی ہے اور انکے لئے Portuguese Civil code چلتا ہے ۔ حیرت ہے ناں کہ ہمارے ملک میں دوسرے ملک کا قانون آج بھی چلتا ہے۔ ساتھ ہی وہاں پر کرسچن کے لئے اور ہندوؤں کے لئے الگ الگ سے میرج ایکٹ بنائے گئے ہیں۔ آپکو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ گوا میں خود ہندوؤں کی اسپیشل ڈیمانڈ پر میرج ایکٹ میں تبدیلی کرکے انہیں دوسری شادی کی اجازت دی گئی ہے۔

یہ بات بھی غور کرنے کی ہے کہ ہمارے ملک میں یونیفارم سول کوڈ کے supporter اکثر وہی لوگ نکلے ہیں جو لو جہاد کے فلسفے کو بھی مانتے ہیں۔ لو جہاد جو کہ ایک سیاسی ہتھکنڈا ہےلیکن ملک کی اقلیتوں کو ڈرانے اور ظلم کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اگر یونیفارم سول کوڈ آتا ہے تو forced conversion کے نام پر بنائے گئے قوانین کو بھی ختم کرنا پڑے گا- ہمارے دیش میں یونیفارم سول کوڈ لاگو کرنے کی ایک اور پریشانی ہے۔ ہمارے ملک میں جتنے قسم کے مذہب، قومیں یا علاقے بستے ہیں تو ان سب کو ایک قانون کے تحت لانا بہت مشکل ہے۔ آپ صرف اتنا دیکھ لیجیے کہ آپ نے کشمیر سے پ نے کشمیر سے 370 تو ہٹا دیا لیکن اس کے آگے ایک اور قدم 371 کا ہے جو ملک کی کئی ریاستوں میں لاگو ہے۔ آپ وہ کیسے ہٹائیں گے۔ ہندو، مسلم، کرسچن، سکھ، جین وغیرہ کو ایک قانون کے تحت لانے کی بات کو تو الگ رکھ لیجیے، خود ہندوؤں میں جتنے سیکشن ہیں ان کو ایک جگہ لانا بہت مشکل ہے۔

خود دہلی ہائی کورٹ نے جو یہ بات کہی ہے معاملہ ہندو کمیونٹی ہی میں سے تھا۔ راجستھان کی مینا کمیونیٹی کی ایک عورت کا دعویٰ تھا کہ ان کی قوم پر ہندو میرج ایکٹ لاگو نہیں ہوتا۔ ہم ہمارے اس پیارے ملک کو اب ذات پات سے مکت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن آپ دیکھ رہے ہیں کہ آج بھی ملک میں دلت جو کہ ایک ہندو ہی ہے وہ شادی کرتا ہے تو گھوڑی پر نہیں بیٹھ سکتا، مونچھ نہیں رکھ سکتا اور بہت کچھ۔ اگر رکھ لے تو ہندو کمیونیٹی ہی کے دوسرے لوگ اس پر ظلم کرنے لگتے ہیں۔ بہت سارے لوگ جو یونیفارم سول کوڈ لانا چاہتے ہیں وہ اصل میں شاستری لا لانا چاہتے ہیں جو کہ بھارت میں 1955 سے پہلے کا حال تھا ، جب ہندو کوڈ لاگو نہیں ہوا تھا ۔ جس میں عورت کو نہ طلاق دینے کا حق تھا نہ جائیداد میں حصہ مانگنے کا اور نہ ہی کوئی ذاتی آزادی حاصل تھی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اسٹار چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ جی نے کہا تھا کہ عورت کو آزادی کی ضرورت نہیں بلکہ حفاظت کی ضرورت ہے۔ یو سی سی کے بارے میں اور بھی بہت سی باتیں ہیں کہ آخر اس کو لاگو کرنے کا راستہ کیا ہوگا۔ ایک کا سب پر تھوپا جائیگا یا سب کی بات سنی جائیگی۔ سب کی سنی جائیگی تو قانون کیسے تیار ہوگا۔ ہاں یہ تو ہوسکتا ہے کہ آپ انصاف کے نام پر قانون کاغذ پر سب کے لئے بنا دیں لیکن کیا وہ لاگو بھی سب کے لئے ہوگا یا صرف اقلیتوں کو ڈرانے یا ملک میں اور زیادہ نفرت پھیلانے کے لئے ہوگا۔

ویسے دہلی ہائی کورٹ نے سرکار کو نفرت پھیلانے والوں کو ایک اور readymade مدعہ دے دیا گیا ہے۔ اب اس پر بنا سر پیر کر میڈیا میں خوب چرچا ہوگی۔ بات پارلیمنٹ میں بھی جائے گی۔ وہ اس لئے کہ ایک تو کورونا management کی وجہ سے سرکار بدنام ہے دوسرا اتر پردیشن میں الیکشن آنے والے ہیں۔ اتر پردیش میں تو الیکشن کا کمیونل جھنڈا لہرا یا جاچکا ہے۔ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے population control bill پیش کیا ہے اور اب بی جے پی کے اتر پردیش ہی سے ممبر پارلیمنٹ روی کشن اور راجستھان سے ممبر پارلیمنٹ کروری لال مینا پارلیمنٹ میں پرائیویٹ ممبرس بل کے تحت population control bill اور Uniform Civil Code کو پیش کرنے والے ہیں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!