Published From Aurangabad & Buldhana

ہندتوا کی اسرائیل سے اتنی محبت کیوں؟

مجتبیٰ منیب

اکثر یہ ذہن میں آتا ہوگا کہ آخر کیوں ہندتوا کے ماننے والے (ہندونہیں بلکہ جو ہمارے ملک میں extremist ہیں ) وہ ہمیشہ سے Zionist اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا اسے کھل کر support کرتے ہیں۔ آخر کیوں انسانی جانوں کو بچانے کے بجائے اس کا جشن منایا جاتا ہے۔ہم ایک جانب تصویروں میں بچے، بوڑھے، عورتیں سب کی جانیں جاتے دیکھتے ہیں۔ ہم تباہ ہوئی عمارتیں اور بے گھر و مجبور لوگوں کو دیکھتے ہیں اور دوسری جانب چند انسانوں کو جشن مناتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ انسانی فطرت تو نہیں ہوسکتی کہ وہ اتنا سخت دل ہوجائے کہ اسے انسانیت کا خیال نہ رہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ملک کے ہندوتوا نیشنلسٹ کی اسرائیل کے لئے کافی محبت پائی جاتی ہے۔ پچھلے مہینے جب الجراح کی زمینوں پر قبضہ کے بہانے اسرائیل نے فلسطین پر حملے کیے بچوں سے لیکر کئیوں کی جانیں لے لی تو ہندوتوا کے ماننے والوں نے بڑھ چڑھ کر سوشل میڈیا پر اسرائیل کا سپورٹ کیا۔آپ نے الجراح کے وہ دیڈیوز سوشل میڈیا پر دیکھیں ہونگے کہ اچانک وہاں بسے فلسطینیوں کو اسرائیلی لوگ اور فوج آکر نکال دیتی ہے اور کہتی ہے کہ اب یہ انکا گھر نہیں۔ دنیا جہاں گذرتے وقت کے ساتھ خود کو زیادہ سے زیادہ Civilized کہہ رہی ہے وہیں ایسا بھی ہوسکتا ہے انسانیت پسند اس کو شاید ہضم نہ کرپائیں، آپ بتائیے نہ کہ آپ جن گھروں میں یا زمینوں پر نسلوں سے رہ رہے ہوں یا سابق مالک سے خریدا ہو وہاں پر طاقت کی بنیاد آپکو نکال دے تو ہر انسان کی سمجھ اسکو غنڈہ گردی، Against the Law or Humanity ہی کہے گا۔ لیکن یہ ہوتا آرہا ہے اور تب بھی ہوا اور اسکو support کرتے ہم نے اپنے ملک کے لوگ بھی دیکھے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ یہ کام کرنے والے ہندوتوا کے ماننے والے ہیں نہ کہ ہندو دھرم کے ماننے والے وہ اس لئے کہ جہاں آپ نے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے والے کئی رام ، تیجسوی ، دھرو ، رمیش دیکھے تھے تو بہت سارے رویش، اپورا، ابھیسار اور سدھارت بھی دیکھے جنہوں نے کھل کر اسرائیل کی مخالفت کی۔ یہ بات امید بھی دیتی ہے اور ہمت بھی۔

ہم نے نفرت کے messengers کے ٹویٹر اور فیس بک پر وہ Hashtags دیکھے جس میں #IndiaStandsWithIsrael اور #IStandWithIsrael اور #israelLivesMatter شامل ہیں۔ خود بنگلور سے بی جے پی ممبر آف پارلیمنٹ تیجسوی سوریہ جو اپنا سارا Political Career مسلم دشمنی پر بنانا چاہتے ہیں انہوں نے بھی اسرائیل کے پچھلے حملے کے وقت ٹویٹر پر لکھا تھا کہ ’’ We are with you. Stay strong, Israel‘‘۔ حالانکہ ایک جانب اسرائیلی شہریوں نے کھل کر ان بھارتیوں کی بے عزتی کر دی تھی کہ ہمیں تمہارا سپورٹ نہیں چاہیے وہیں خود اسرائیل کے پچھلے صدر نتن یاہو نے جن ملکوں کا شکریہ اپنے ٹویٹ کے ذریعہ ادا کیا تھا اس میں بھارت کا ذکر نہیں کیا تھا۔ عجیب ہے نہ کہ آپ بار بار خود کو کسی کا قریبی بتائیں اور وہ آپ کو گننے کے لئے بھی تیار نہ ہو۔ ایسا اندھے چیلوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسے Desperation بھی کہتے ہیں۔ یہ مانا کہ اپنی قوم کو لیکر ایک natural concern ہوتا ہے لیکن وہ concern آپکو دوسری قوم سے نفرت کرنے پر ابھارے ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپکی قوم کی محبت میں مسئلہ ہے۔ ہمارے ملک کے ہندووں کے نزدیک ملک کی زمین کی حیثیت ماں کی ہوتی ہے یہ انکا belief ہے جس کا انکو اختیار ہے وہ بالکل کریں، لیکن اپنی ماں سے محبت کے نتیجے میں آپ دوسرے کی ماں سے نفرت کریں یہ کہاں کا logic ہوگا۔ ہم اپنے اس ملک میں کیا ایسا دیکھتے ہیں کہ ایک محلے میں کوئی آدمی اپنی ماں سے تو بے انتہا محبت کرتا ہو اور اس کے نتیجے میں پڑوسی کی ماں کو گالیاں دیتا ہو۔ بلکہ ہوتا تو یہ ہے کہ جو اپنی ماں کی عزت کرتا ہے اس کے دل میں دوسرے کی ماں کے لئے بھی اتنی ہی عزت ہوتی ہے۔

ویسے زائیونیزم کو Idolize کرنے کا ہندتوا کا معاملہ کافی پرانا اور deep rooted ہے۔ Supremacism برتری‘ Exclusivism اخراج اور سب سے اہم مسلمانوں سے نفرت یہ تینوں چیزیں ان دونوں فلسفوں میں شامل ہے۔ دونوں بھی نسلی نیشنلزم سے بندھے ہیں جس میں citizenship کو define کیا جاتا ہے اور holy lands کی باتیں کی جاتی ہیں۔ یہاں اکھنڈ بھارت کی سرحدیں ہیں تو وہاں گریٹر اسرائیل کانقشہ۔ اپنی مذہبی شناخت، religious identity جس میں ان کے مقصد تک پہنچنے کے لئے مسلمانوں کا صفایا لازمی ہے۔Humanity کے گراؤنڈ پر آپ سوچیں کہ یہ کیسے allow کیا جائیگا کہ آپکا اپنی growth کا راستہ کسی دوسری قوم کو صاف کرنے سے گذرے ، یہ کیسے ہوسکتا ہے اور کسی بھی اچھے مذہب کی یہ teaching کیسے ہوسکتی ہے۔ جسے لگتا ہے کہ اسکا نظریہ زیادہ صحیح ہے وہ دوسروں کو convince کرے، دلیلیں دے اور لوگوں کو اس کا حصہ بنائے۔ اگر آپ زور زبردستی سے اپنے فلسفے کو لاگو کرنا چاہتے ہیں اس کا مطلب یا تو آپ نے طریقہ غلط چنا یا مذہب و فلسفہ۔ Zionist کے نیشن کا جو فلسفہ ہے اس میں بھی ہندوتوا کا فلسفہ شامل ہے۔ اسرائیل کے بننے سے کافی پہلے ساورکر جی جو کہ ہندوتوا کے چیمپین تھے انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ’ ایک راشٹرا ‘ (common nation ) ، ایک ذات ( common race ) اور common culture یا ایک ہی سنسکرتی ہندوتوا کے تین اہم حصے ہیں۔ ساورکر جی نے یہ بھی کہا تھا کہ انڈین یعنی کے صرف ہندو۔ اور مسلمان و کرسچن جو کہ ہندو نہیں ہیں اس لئے اصل انڈین نہیں ہوسکتے۔ ساورکر جی نے کھل کر Zionism کو سپورٹ کیا تھا اور اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’’ دنیا میں نسلی بنیادوں پر پہچانے جانے والے صرف اور صرف ہندو اور یہودی ہے۔ یہودی ، نہ انہیں کبھی عروج ملا نہ شکر کرنے کا کوئی موقع، نہ چھت لیکن انہوں نے اپنی جگہ حاصل کی۔ اگر یہودیوں کا سپنا پورا ہوسکتا ہے اگر فلسطین یہودی اسٹیٹ میں بدل سکتا ہے ، پوری دنیا میں رہنے اور پیدا ہونے کے باوجود وہ انکی مقدس زمین انکی مدرلینڈ سے زیادہ محبوب ہوسکتی ہے۔ تو اور بھی بہت کچھ ہوسکتا ہے۔

جس چیز نے ہندوتوا اور یہودیوں کو یکجا کیا ہوا ہے وہ انکا نیشنلزم کو لیکر ملتا مقصد اور اقلیتوں کے ساتھ انکا رویہ ہے۔ جہاں Zionism نے فلسطینیوں کو تشدد اور دہشت کے ذریعہ انکی زمینوں سے نکالا ، ہندوتوا پہلے مسلمانوں اور کرسچن کا درجہ کم کرکے ان سے حقوق چھین کر اپنا راستہ بنانا چاہتی ہے اور بعد میں نمبر دوسروں کا بھی آئے گا۔ دونوں کو اپنی کھوئی ہوئی civilisation کو دوبارہ حاصل کرنا ہے جس کا راستہ ان لوگوں کو پاک کرنے سے گذرتا ہے جنہیں یہ Invader اور Impure مانتے ہیں۔ عجیب سے فلسفے ہیں۔ ایک جانب آپ ترقی کرتی اور Human rights کو improve کرتی دنیا دیکھتے ہیں اور دوسری جانب آپ ایسی حیوانیت دکھاتے ہیں۔ میں پھر سے وہی کہوں گا کہ جو لوگ یہ راستہ چنتے ہیں یا تو انہوں نے اپنے مذہب و فلسفے کو غلط سمجھا ہے یا غلط مذہب کو چنا ہے۔

ہندوتوا کے دوسرے چیمپین گرو گولوالکر نے 1939 میں اپنی کتاب ’’ We or Our Nationhood Defined” میں لکھا ہے کہ انڈیا اصلیت میں ایک ہندو نیشن ہے ، ہندوستان۔۔۔۔ جو ہندوستان میں Non-Hindu ہیں انہیں لازمی طور پر ہندو کلچر اور زبان اپنانا ہوگا۔ یا تو وہ غیر ملکی بن جائیں یا ہندو نیشن میں دوسرے درجہ کے citizen کی طرح رہیں جس میں وہ کسی قسم کا دعویٰ یا مطالبہ نہیں کرسکتے انہیں کوئی حقوق حاصل نہیں ہونگے۔ گرو گولوالکر نے خود اپنی political ideology کو Zionism اور judiac exhortations سے لیا ہے اور اسلام کو blame کرتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ گولواکر فلسطین میں اسرائیل کے بننے کو support کرتے ہیں۔

ہندوتوا اور Zionism کی politics میں زمین land سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ یہاں ہمارے پاس کشمیر کے ساتھ اکھنڈ بھارت کا مسئلہ ہے تو وہاں فلسطین کے ساتھ گریٹر اسرائیل جس میں سعودی عرب دوسرے ملک آتے ہیں۔ ایک مشہور International Affairs پر لکھنے والے ہیں اسلم رضا ،ان کے مطابق یہاں کشمیر میں دھارہ 370 ہٹانے کے بعد بی جے پی نے وہاں پر زمین acquisition کے قانون میں بہت ساری تبدیلیاں کر دی ہیں جس کی وجہ سے مسلم آبادی کے تناسب میں بہت فرق آنے والا ہے۔ رضا صاحب کے مطابق کشمیر میں زور زبردستی کے ساتھ آبادی کو جس طرح بدلا جا رہا ہے وہ بالکل اسرائیل کی قبضہ کی پالیسیوں کی کاپی ہے ۔ جہاں اکثریت طاقت کے زور پر سب کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

یہ باتیں بھی موجود ہیں کہ بی جے پی اور اس کی parent organization آر ایس ایس ، بھارت کو ethno-religious state میں بدلنا چاہتے ہیں جس میں ہندوؤں کے لئے اسپیشل rights ہوں اور باقی کے کم ۔ اور اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ بھارت میں بھی Citizenship Amendment Act پاس کیا گیا جس میں مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی صاف موجود تھی۔ یہ بالکل اسرائیل کے Law of Return کی طرح ہے۔ یہاں پر بھارت میں اس قانون کے ذریعہ چند ملکوں سے ہندوؤں کو سٹی زن شپ دینے کا موقع دیا گیا تھا اور یہاں بسنے والے مسلمانوں سے انکے بھارتی ہونے کا ثبوت مانگا گیا تھا۔ ثبوت تو سب مانگنے کی بات تھی لیکن نشانہ مسلمان ہیں یہ ہر انصاف پسند جانتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس کے خلاف صرف مسلمان نہیں سڑکوں پر اترے بلکہ تمام مذہبوں کے لوگ راستوں پر مہینوں سراپا احتجاج رہے۔

ایک فلسطینی اکیڈمک ایڈورڈ کے مطابق Zionism نے شروع میں ہی اپنی مومنٹ میں خود کو انتہائی مہذب بتایا جو جنگلیوں کو سکھانے آئی ہے۔ انہوں نے عربوں کو حقیر، fearsome, irrational and brutal پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب law of return لایا گیا تو اس میں دوسرے ملکوں میں بسے ہوئے یہودیوں کو اسرائیل بسانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ انہیں تمام حقوق دیے گئے لیکن اس زمین کے مالک فلسطینی ، انہیں وہ حقوق نہیں دیے گئے۔ مذہب کو citizenship کا سب سے main criteria بنا کر بھارت کو بھی اسرائیلی شکل دینے کی کوشش لگتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بی جے پی ممبران کھل کر اسرائیل کو سپورٹ کرتے ہیں حالانکہ انڈین پالیسی میں فلسطین کو سپورٹ کرنا شروع ہی سے طئے تھا۔ حد تو یہ تھی کہ ایک مرتبہ واجپئی جی کے دور میں جب یہ مشہور ہونے لگا کہ بی جے پی تو اسرائیل کو سپورٹ کرتی ہے تو واجپئی جی کو پبلک پروگرام میں آکر یہ صفائی دینی پڑی کہ ہم ہمیشہ فلسطین کے حق میں ہیں اور جس جگہ پر اسرائیل نے قبضہ کیا ہے وہ اسکی نہیں اور اسرائیل کو وہ لوٹانی پڑے گی۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!