Published From Aurangabad & Buldhana

کسان تحریک میں تشدد کے بعد دہلی کے 5 علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات بند

متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا مظاہرہ گزشتہ دو مہینوں سے دہلی کی سرحدوں پر جاری ہے اور یوم جمہوریہ کے موقع پر آج کسانوں نے ’ٹریکٹر پریڈ‘ دہلی کی سڑکوں پر نکالی۔ اس ٹریکٹر پریڈ کے ذریعہ کسان مظاہرین مودی حکومت کے خلاف پرامن طریقے سے اپنی ناراضگی ظاہر کرنا چاہ رہے تھے، لیکن کئی مقامات پر تشدد کے واقعات پیش آئے جس نے کسانوں کی پرامن تحریک کو زبردست جھٹکا پہنچایا ہے۔ لال قلعہ میں بھی کئی مظاہرین نے گھس کر پرچم کشائی کی ہے، جس کے بارے میں کسان لیڈران کا کہنا ہے کہ وہ کسان نہیں بلکہ سیاسی پارٹیوں سے جڑے ہوئے لوگ ہیں۔

اس درمیان مرکزی وزارت داخلہ نے ایک حکم جاری کرتے ہوئے دہلی میں 5 مقامات پر انٹرنیٹ خدمات بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ تشدد کے واقعات کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے سنگھو بارڈر، ٹیکری بارڈر، غازی پور بارڈر، مکربا چوک اور نانگلوئی میں انٹرنیٹ خدمات عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ کے حکم کے مطابق آج رات 12 بجے تک ان پانچوں مقامات پر انٹرنیٹ خدمات بند رہیں گی۔

واضح رہے کہ ٹریکٹر پریڈ کے لیے مقررہ راستوں سے ہٹ کر مبینہ طور پر کسان مظاہرین کا ایک گروپ لال قلعہ میں داخل ہو گیا اور قومی راجدھانی واقع اس تاریخی وراثت کے کچھ گنبدوں پر پرچم لہرائے گئے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق پولس کے ذریعہ آئی ٹی او سے کھدیڑے گئے مظاہرین کسانوں کا ایک گروپ اپنے ٹریکٹر لے کر لال قلعہ احاطہ پہنچ گئے۔ یہ مظاہرین لال قلعہ احاطہ میں گھس گئے اور اس ’پرچم ستون‘ پر اپنا پرچم لگاتے ہوئے نظر آئے جہاں سے وزیر اعظم 15 اگست کو قومی پرچم لہراتے ہیں۔

قومی آوازبیورو

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!