Published From Aurangabad & Buldhana

پاکستان میں بجلی کا بڑا بریک ڈاون، کئی علاقوں سے ابھی بھی بجلی غائب

پاکستان میں پیر کی صبح کو بجلی کا نظام تعطل کا شکار ہو گیا۔ اسلام آباد، کراچی، لاہور اور پشاور جیسے بڑے شہروں سمیت ملک کے تقریباً تمام علاقے اس بریک ڈاون سے متاثر ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے معاملہ کی جانچ کا حکم دے دیا ہے۔

پاکستان کی وزارت توانائی کے مطابق صبح سات بجکر 34 منٹ پر نیشنل گرڈ کی سسٹم فریکوئنسی کم ہوئی جس سے بجلی کے نظام میں بڑا بریک ڈاؤن ہوا۔ تاہم وزارت کا کہنا ہے کہ اب سسٹم کی بحالی پر کام تیزی سے جاری ہے۔ واضح رہے ابھی تک کئی علاقوں میں بجلی کا بحران جاری ہے۔

بجلی کے بریک ڈاون کا معاملہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔ کچھ لوگ اس ناکامی کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کو مورودالزام ٹھہرا رہے ہیں۔

بریک ڈاون کیوں ہوا؟
پاکستان کے توانائی کے وفاقی وزیر خرم دستگیر نے ملک بھر میں بجلی کے بریک ڈاون کی تصدیق کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ وولٹیج کی فلکچوئیشن کی وجہ سے یہ بریک ڈاون ہوا ہے۔ وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا، ”ملک میں بجلی کا کوئی بڑا فالٹ نہیں آیا، امید ہے آئندہ 12 گھنٹوں میں ملک بھر میں بجلی مکمل طور پر بحال ہو جائے گی‘‘۔

انہوں نے مزید کہا، ”یہ کوئی بڑا بریک ڈاؤن نہیں ہے، موسم سرما میں ملک بھر میں بجلی کی طلب کم ہونے اور معاشی اقدام کے تحت ہم رات کے وقت بجلی پیدا کرنے کے نظام کو عارضی طور پر بند کر دیتے ہیں، تاہم آج پیر کی صبح سات بجے کے قریب ایک ایک کر کے سسٹم کو آن کیا جا رہا تھا تو اس دوران جامشورو اور دادو کے درمیان فریکوئنسی کی کمی کی وجہ سے بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا‘‘۔

انہوں نے کہا، ”بریک ڈاؤن شمال سے جنوب تک آیا ہے اور ہم آہستہ آہستہ جنوب سے شمال کی طرف سسٹم بحال کر رہے ہیں۔ تربیلا اور وارسک سے کچھ سسٹم بحال کرنا شروع کر دیے ہیں‘‘۔

بجلی بحال کرنے کی کوششیں جاری
خرم دستگیر نے دعویٰ کیا کہ تربیلا اور وارسک سے کچھ گرڈ بحال کر دیے ہیں۔اور اب ایک ایک کرکے سسٹم کو دوبارہ آن کرنا ہے۔ ان کے مطابق پوری کوشش ہو گی کہ 12 گھنٹوں تک پورے میں ملک بجلی کے نظام کو بحال کر دیا جائے۔

وزارت توانائی کے مطابق، ”وارسک سے گرڈ اسٹیشنوں کی بحالی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اسلام آباد سپلائی کمپنی اور پشاور سپلائی کمپنی کے محدود تعداد میں گرڈ بحال کر دیے گئے ہیں‘‘۔ حکام کا کہنا ہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں کے-الیکٹرک کا عملہ صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور بحالی کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ 9 جنوری 2021 کو بھی پاکستان میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے بجلی کا بہت بڑا بریک ڈاون ہوا تھا اور پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا تھا۔ اس بریک ڈاون کی وجہ سے ملک کے بیشتر علاقے 18 گھنٹے تک بجلی سے محروم رہے تھے۔ اس بریک ڈاون کے لیے گڈو پاور پلانٹ کے سات ملازمین کو معطل کر دیا گیا تھا۔

ڈی ڈبلیو

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!