Published From Aurangabad & Buldhana

ٹیکہ لینے کے بعد بھی لوگ کورونا کا شکار کیوں ہوئے؟ نئی تحقیق میں انکشاف

نئی دہلی: آئی سی ایم آر (انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ) نے ایک تحقیق کے ذریعے انکشاف کیا ہے کہ آخر ٹیکے کی خوراک لینے کے بعد بھی متعدد افراد کورونا وائرس کا شکار کیوں ہو گئے۔ خیال رہے کہ ملک کے کئی شہروں سے یہ شکایت کی گئی تھی کہ کورونا کی دونوں خوراکیں لینے کے بعد بھی لوگ کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔

دراصل کورونا وائرس کا ڈیلٹا ویرینٹ ملک میں دوسری لہر کے عروج کی وجہ بنا تھا اور اسی ویرینٹ کی وجہ سے وہ لوگ بھی کورونا سے متاثر پائے گئے جن کی ٹیکہ کاری مکمل ہو چکی تھی۔ اے بی پی نیوز پورٹل پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ’آئی سی ایم آر‘ نے ایک تحقیق کے ذریعے وجہ کا انکشاف کیا ہے۔ اس تحقیق کا نام بریک تھرو انفیکشن یعنی ٹیکہ کاری کے بعد انفیکشن کے معاملوں کی ہے اور آئی سی ایم آر نے اس تحقیق میں 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو شامل کیا۔

آئی سی ایم آر نے ایسے متاثرین کے نمونے جمع کئے جنہیں کورونا ویکسین کی پہلی یا دونوں خوراکیں دی جا چکی تھیں۔ ان میں 604 مریضوں کو کوی شیلڈ، 71 کو کوویکسین اور دو کو سائنوفارم کا ٹیکہ لگ چکا تھا۔ تحقیق کے دوران معلوم چلا کہ 677 میں سے 86.09 فیصد معاملوں میں انفیکشن کی وجہ کورونا وائرس کا ڈیلٹا ویرینٹ تھا۔ حالانکہ 9.8 فیصد معاملوں میں ہی مریضوں کو اسپتال میں داخل کرانے کی ضرورت پیش آئی اور محض 0.4 فیصد معاملوں میں مریضوں کی موت ہوئی۔

ماہرین پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ کورونا وائرس کا ڈیلٹا ویرینٹ قوت مدافعت کو بھی متاثر کر سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں میں ٹیکہ کاری کے بعد بھی انفیکشن کا اثر دیکھا گیا، تاہم اس طرح کے معاملوں کی تعداد بہت کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی سی ایم آر کی تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگر کورونا کی خطرناک تیسری لہر کو روکنا ہے تو ملک کے لوگوں کی جلد از جلد ٹیکہ کاری مکمل کرنا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں تاحال 39 کروڑ 53 لاکھ سے زیادہ کورونا ویکسین کی خوراکیں دی جا چکی ہیں۔ اس میں شامل 31 کروڑ 61 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو پہلی، جبکہ 7 کروڑ 92 لاکھ سے زیادہ افراد کو کورونا ویکسین کی دوسری خوراک فراہم کی جا چکی ہے۔

قومی آواز

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!