Published From Aurangabad & Buldhana

نربھیا اجتماعی آبروریزی معاملہ: جلد پھانسی پرلٹکائے جا سکتے ہیں چاروں قصوروار

نئی دہلی: دہلی کےلیفٹیننٹ گورنرکے ذریعہ نربھیا ریب کیس کے چاروں قصورواروں کی رحم کی درخواست کومسترد کرنے کے بعد اوروہیں حیدرآباد میں خاتون ڈاکٹرآبروریزی اور قتل معاملے سے ملک میں ہنگامہ آرائی سےتہاڑجیل میں بند چاروں قیدیوں کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ ایشیا کے سب سے محفوظ تہاڑجیل میں سزا کاٹ رہے قصورواروں کی جان اب بیچ میں لٹکتی ہوئی نظرآرہی ہے۔ کیونکہ انہیں پھانسی دینےکےمطالبے میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس لئےاب تہاڑجیل میں بھی اس کی آہٹ آنےلگی ہے، لیکن تہاڑجیل میں کوئی مستقل جلاد نہیں ہے۔

حالانکہ تہاڑجیل میں افضل گروکوجب پھانسی دی گئی تھی، تب میرٹھ سے جلاد منگوایا گیا تھا۔ تہاڑجیل میں آخری قیدی افضل گروہی تھا، جسے پھانسی پرلٹکایا گیا تھا۔ افضل گروکو 2004 میں ہوئےپارلیمنٹ حملےکا قصوروارپایا گیا تھا، جس کے بعد اسے سپریم کورٹ کے ذریعہ پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔

تہاڑجیل میں 9 فروری 2013 کوہوئی تھی آخری پھانسی
افضل گروکو43 سال کی عمرمیں 9 فروری 2013 کوتہاڑجیل کے جیل نمبر 3 میں پھانسی پرلٹکایا گیا تھا، لیکن افضل گروکوپھانسی پرلٹکانے والے جلاد کا نام آج تک خفیہ رکھا گیا ہے۔ یہ دو دہائی بعد ہونے والی پھانسی تھی، کیونکہ اس سے قبل تہاڑجیل میں ہی سال 1989 میں سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کے قاتلوں کو پھانسی پرلٹکایا گیا تھا۔ ان کے قاتلوں کو پھانسی پرلٹکائے جانے والے جلادوں کا نام کالواورفقیرا تھا۔

تہاڑجیل میں کوئی مستقل جلاد نہیں
بتادیں کہ تہاڑجیل میں پھانسی دینے کےلئےکوئی مستقل جلاد نہیں ہے، جس کے بعد لوگوں میں یہ جاننےکی خواہش بڑھ گئی ہےکہ آخروہ جلاد کون ہوگا؟ جو نربھیا معاملےکےقصور واروں کو پھانسی پرلٹکائےگا۔ کیونکہ جتنی تیزی سے حالات بدلےہیں، اس سےایسا لگ رہا ہےکہ کبھی بھی نربھیا معاملہ کے چاروں قصورواروں کوپھانسی پرلٹکایا جاسکتا ہے۔ اس لئے پورے ملک کےعوام اب اس لمحےکےانتظارمیں ہیں، جب نربھیا کے قصورواروں کو پھانسی پر لٹکایا جائےگا۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہوگا کہ تہاڑجیل انتظامیہ کن جلادوں کواس سزاکےلئے منتخب کرتے ہیں؟

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!