Published From Aurangabad & Buldhana

مہاراشٹر: بی جے پی کو جھٹکا، ’شیوا اسمارک‘ منصوبہ میں بدعنوانی کا انکشاف

بحرِ عرب میں بننے والے ’شیواسمارک‘ کی ابھی تک ایک اینٹ بھی نہیں رکھی گئی، لیکن بدعنوانی کا انکشاف ہوگیا۔ یہ انکشاف آج یہاں کانگریس وراشٹروادی کانگریس پارٹی نے مشترکہ طور پر ایک پریس کانفرنس میں دستاویزی ثبوت کے ساتھ کیا ہے جس میں ڈیویژنل اکاؤنٹ آفیسر نے سینٹرل ویجلینس کمیشن کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی کی نشاندہی کی ہے۔

کانگریس کے دفتر گاندھی بھون میں ہوئی اس پریس کانفرنس میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان نواب ملک اورکانگریس کے ریاستی جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت موجود تھے۔ اس بدعنوانی کا انکشاف کرتے ہوئے ان دونوں لیڈران نے ڈیویژنل اکاونٹ آفیسر کے دفتری نوٹ کو میڈیا کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ ’شیواجی کے نام پر اقتدار میں آنے والی بی جے پی حکومت نے شیواجی کو بھی نہیں چھوڑا ہے اور ان کی یادگار قائم کرنے کے نام پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے 12وزراءپر بدعنوانی کا الزام ہے جنہیں یہ حکومت خود ہی کلین چیٹ دے کر خود کو پاک باز ثابت کرتی ہے، جبکہ سچائی یہ ہے کہ شیوااسمارک جس کی ابھی تک ایک اینٹ بھی نہیں رکھی گئی ہے، اس کو بھی انہوں نے نہیں چھوڑا اور ٹینڈرنگ کے عمل میں سی وی سی کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے من پسند کنٹریکٹر کو کنٹریکٹ دے دیا ہے۔

اس موقع پر نواب ملک نے کہا کہ شیواجی کی یادگار قائم کرنے کا فیصلہ ہماری حکومت کے دور میں ہوا تھا، لیکن محکمہ ماحولیات کی جانب سے منظوری نہ ملنے کی وجہ سے ہم یہ کام شروع نہیں کرسکے تھے۔ جبکہ اسی حالت میں وزیراعظم مودی کے ہاتھوں اس حکومت نے’ جل پوجن‘ کروایا لیکن ابھی تک کام شروع نہیں ہوسکا ہے اور حکومت کی بدعنوانی سامنے آگئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے دفتر سے ایل اینڈ ٹی کو کنٹریکٹ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایل اینڈ ٹی سے حکومت کو اتنی محبت کیوں ہے کہ تمام کنٹریکٹ اسی کو مل رہے ہیں؟ جبکہ سی اے جی کے افسران تحریری طور پر اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ اس معاملے میں ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔نواب ملک نے کہا کہ اس بدعنوانی کے دیگر دستاویزی ثبوت ہم دوسرے مرحلے میں پیش کریں گے۔ میٹرو ریل پروجیکٹ میں زبردست بدعنوانی ہوئی ہے، کنٹریکٹروں پر شرائط لاگو کرکے تین چار کنٹریکٹروں کو 40 فیصد کمیشن کی بنیاد پر کنٹریکٹ دیا گیا ہے۔اس معاملے میں ممبئی میونسپل کارپوریشن سے بلیک لسٹڈ کمپنی جئے کمار کو 7 ہزار کروڑ روپئے کا کنٹریکٹ دیا گیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ صرف بدعنوانی کا کھیل ہے۔

کانگریس کے ترجمان سچن ساونت نے کہا کہ ریاستی حکومت نے عوام کو بحرِ عرب میں شیواجی کی یادگار تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ جس کے تحت 2017 میں اس کا ٹینڈر جاری کیا گیا۔ اس ٹینڈر میں ایل اینڈ ٹی نامی کمپنی نے تقریباً 3 ہزار826 کروڑ روپئے کی بولی لگائی تھی۔ اس ٹینڈر میں اس یادگار کی اونچائی 121.2میٹر تھی، جس میں 83.2میٹر کا مجسمہ اور 38 میٹر کی تلوار شامل تھی۔ لیکن سی وی سی کے رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایل اینڈ ٹی کمپنی سے باگینگ کرکے کٹریکٹ کی رقم 2ہزار500کروڑ روپئے تک کیا گیا۔ اس مرحلے میں مجسمے کے مجوزہ نقشے میں تبدیلی کرتے ہوئے اونچائی تو 121.2میٹر ہی دکھائی گئی لیکن حقیقت میں اس کی اونچائی 75.7میٹر تک کم کی گئی اور تلوار کی اونچائی 45.5 میٹر بڑھادی گئی۔ اسی کے ساتھ یادگار کارقبہ 15.6 ہیکٹر سے کم کرکے 12.8ہیکٹر کردیا گیا۔ اس میں بھی پہلے مرحلے میں محض 6.8 ہیکٹر پر تعمیراتی کام ہونے والا ہے۔

سچن ساونت نے مزیدکہا کہ اس معاملے میں حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پروجیکٹ کو 28فروری 2018کو وزیراعلیٰ کی جانب سے منظوری دیئے جانے کے بعد اسی دن ایل اینڈٹی کمپنی کی منظوری کے لئے پی ڈبلیو ڈی محکمہ نے مکتوب روانہ کیا اور ایل اینڈٹی کمپنی نے تمام امور پر ایک ہی دن میں غور وفکر کرنے کے بعد دوسرے روز یعنی کہ یکم مارچ کو 2018کو اپنی رضامندی کا جوابی مکتوب بھی دے دیا۔ اور اسی دن صبح کو ہی وزیراعلیٰ کے ذریعے ایل اینڈٹی کمپنی کو ایگریمنٹ لیٹر بھی دیدیا گیا۔ یہ اور اس طرح کے کئی ثبوت ہیں جس سے یہ صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ اس پورے معاملے میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پورے معاملے کی شکایت ہم سی وی سی سے کریں گے، اگر سی وی سی نے مناسب کارروائی نہیں کی تو ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

https://www.qaumiawaz.com/national/maharashtra-bjp-in-trouble-congress-and-ncp-alligation-for-corruption-in-shiva-smark-project

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!