Published From Aurangabad & Buldhana

مرکزی حکومت کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کے بعد ٹک ٹاک کا آیا پہلا بیان

نئی دہلی : گلوان وادی میں چین اور ہندوستان کے فوجیوں کے درمیان جدوجہد کے پیش نظر مرکزی حکومت کی طرف سے ٹک ٹاک سمیت 59 چینی ایپ پر پابندی لگائے جانے کے بعدکمپنی کی جانب سے منگل کو پہلا بیان آیا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ حکم پر عمل کرنے سمت میں کام کر رہے ہیں۔ حکومت نے پیر کی رات 59 چینی ایپ پر پابندی لگائی ہے۔ ٹک ٹاک انڈیا چیف نیکھل گاندھی کی طرف سے آج جاری بیان میں کہاگیا ہے،’’ہم نے ہندوستانی ٹک ٹاک صارف کی کوئی بھی معلومات غیر ملکی حکومت یا پھر چین کی حکومت کو نہیں دی ہے۔


انہوں نے کہا، ’’ہمیں وضاحت اور جواب دینے کے لئے متعلقہ حکومت فریقوں سے ملنے کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔ ٹک ٹاک نے اپنے پلیٹ فارم کو ہندوستان میں 14 زبانوں میں مہیا کراکر انٹرنیٹ کوجمہوریت میں شامل کیا ہے۔ اس ایپ کا استعمال لاکھوں لوگ کرتے ہیں۔ ان میں کچھ اداکار ،افسانہ نگار اور ٹیچر ہیں اور اپنی زندگی کے مطابق ویڈیو بناتے ہیں۔ وہیں کئی صارف ایسے بھی ہیں، جنہوں نے پہلی بار ٹک ٹاک کے ذریعہ انٹرنیٹ کی دنیا دیکھی ہے۔

چینی ایپس میں ٹک ٹاک ہندوستان میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔ حکومت کی پابندی کے بعد گوگل پہلے اسٹور اور آئی فون سے ٹک ٹاک کو ہٹا دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بڑھتے تناؤ کے درمیان حکومت نے چین سے آپریٹ ٹک ٹاک، شیئراٹ، ہیلو، یوسی نیوز، یوسی براؤزر،کلب فیکٹری سمیت 59 ایپ پر پابندی عائد کر دی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی قانون کے تحت ان ایپ پر پابندی لگائی گئی ہے، جو ملک کی خودمختاری اور سالمیت، ملک کی حفاظت اور قومی سلامتی کے لئے جوکھم والے ہیں۔

وزارت نے کہا کہ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس پلیٹ فارم پر مہیا کچھ موبائل ایپ کے سلسلے میں مختلف ذرائع سے ملی شکایتوں کے ساتھ ہی کئی رپورٹ میں ان ایپ کے ملک کے باہر واقع سرور سے قانونی طریقے سے یوزرس کے ڈاٹا کی چوری کرنے یا غلط استعمال کرنے کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد ان پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!