Published From Aurangabad & Buldhana

فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کی موت پر طالبان کا اظہارِ افسوس! قتل کے الزامات کی تردید

نئی دہلی: افغانستان میں تیزی سے اپنے پیر جما رہے طالبان نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ پولٹزر ایوارڈ یافتہ صحافی دانش صدیقی کو انہوں نے قتل کیا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دانش کی موت کے علاوہ اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ صحافی انہیں اطلاع کئے بغیر جنگ زدہ علاوہ میں داخل ہو رہے ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد نے سی این این – نیوز18 سے خصوصی گفتگو کے دوران یہ بیان دیا۔

رپورٹ کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد نے کہا، ’’ہمیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ کون سی جھڑپ کے دوران صحافی کی موت ہوئی۔ ہم نہیں جانتے کہ ان کی موت کیسے ہوئی۔ کوئی بھی صحافی اگر جنگ زدہ علاقہ میں داخل ہوتا ہے تو اسے ہمیں اس کی اطلاع دینی چاہیئے۔ ہم مخصوص افراد کا پورا خیال رکھیں گے۔ ہندوستانی صحافی دانش صدیقی کی موت پر ہمیں افسوس ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ صحافی بغیر کسی اطلاع کے جنگ زدہ علاقے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘‘

گزشتہ روز شائع ہونے والی خبروں میں افغان کمانڈر کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ دانش صدیقی جمعہ کے روز پاکستان سے ملحقہ ایک سرحد کے قریب افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے مابین ہونے والای جھڑپ کو کور کرنے کے دوران جان بحق ہو گئے تھے اور ان کی عمر 38 سال تھی۔

افغان کمانڈر نے روئٹرز کو بتایا کہ دانش صدیقی اور ایک سینئر افغان افسر طالبان کی جانب سے ہونے والی فائرنگ کے دوران اس وقت ہلاک ہوئے جب افغان اسپیشل فورس سپین بولدک کے مرکزی بازار کے علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لئے لڑ رہی تھی۔ روئٹرز کے صدر مائیکل فریڈن برگ اور ایڈیٹر ان چیف الیساندرا گیلونی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا، "خطے میں حکام کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے اور معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ دانش ایک مایہ ناز صحافی، بہترین شوہر، والد اور ایک بہت پسند کئے جانے والے ساتھی تھے۔ اس مشکل وقت میں ہم ان کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔”

ادھر، نیوز ایجنسی پی ٹی آئی نے خبر دی ہے کہ طالبان نے دانش صدیقی کے جسد خاکی کو ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی (آئی سی آر سی) کے حوالے کر دیا ہے۔ حکومت ہند کو طالبان کے ذریعے جسد خاکی آئی سی آر سی کے حوالے کئے جانے کی اطلاع موصول ہو چکی ہے اور ہندوستانی حکام اسے واپس لانے کے لئے کارروائی کر رہے ہیں۔

دانش کا جسد خاکی طالبان نے ریڈ کراس کے حوالے کردیا

افغانستان میں طالبان کے حملے میں اپنی جان گنوانے والے فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کا جسد خاکی طالبان نے ریڈ کراس کے حوالے کردیا ہے اور اب اسے ملک میں لانے کے لئے کابل میں ہندوستانی سفارت خانہ افغان حکومت کے رابطے میں ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کابل میں ہندوستانی سفارت خانہ مسٹر صدیقی کی میت کو واپس لانے کے لئے افغانستان حکومت سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا ، "ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ میت طالبان نے انٹرنیشنل ریڈ کراس کے حوالے کردی ہے۔”

ذرائع نے بتایا کہ ہندوستانی سفارتخانے کے اہلکار میت حاصل کرنے کے لئے افغان حکومت اور انٹرنیشنل ریڈ کراس کے ساتھ ہم آہنگی اور تعاون پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں یہاں کی وزارت خارجہ کے عہدیدار ان کے اہل خانہ کو تمام سرگرمیوں کے بارے میں باخبر رکھے ہوئے ہیں۔ واقعے کے وقت ، وہ قندھار کے ضلع اسپن بولدک میں افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان عسکریت پسندوں کے درمیان قندھار میں شدید لڑائی کی کوریج کر رہے تھے۔ اسے قندھار میں افغان فورسز کی سیکورٹی حاصل تھی ۔

ہندوستان میں افغانستان کے سفیر فرید مامودے نے جمعہ کے روز ایک ٹویٹ میں یہ معلومات شیئر کی۔ مسٹر مامودے نے ٹویٹ کرکے کہا : "جمعرات کی رات قندھار میں دوست دانش کے قتل کے بارے میں جان کر بہت افسردہ ہوں ۔ہندوستانی صحافی اور پلتزر انعام یافتہ دانش افغان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تھے۔ میں ان سے دو ہفتہ قبل ملا تھا ، جب وہ کابل جا نے والے تھے۔ میری ہمدردیاں ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ ”

وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئےٹوئیٹ کیا ، "دانش صدیقی نے اپنے غیر معمولی کام کی وراثت چھوڑ دی ہے۔ انہیں فوٹو گرافی کے لئے پلتزر ایوارڈ ملا تھا اور انہیں قندھار میں افغان فورسز سیکیورٹی حاصل تھی۔ میں اس کی ایک تصویر شیئر کر رہا ہوں۔ عاجزانہ خراج عقیدت۔ خدا ان کی روح کو سکون عطا کرے۔ ”

مسٹر صدیقی ممبئی میں رہتے تھے۔ انہوں نے دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے معاشیات میں گریجویشن کی اور 2007 میں اسی یونیورسٹی سے ماس کمیونی کیشن کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے انٹرن اور رپورٹنگ کی حیثیت سے 2010 میں رائٹرز میں شمولیت اختیار کی۔ بعد میں اس نے فوٹو جرنلزم کرنا شروع کیا۔ انہیں سال 2018 میں فوٹوگرافی کے لئے پلتزر ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

قومی آواز

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!