Published From Aurangabad & Buldhana

جمعہ نامہ: پیگا سوس اور اسلام

ڈاکٹر سلیم خان

ارشادِ ربانی ہے:’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں‘‘۔برے گمان کرنے والے ان کے حق میں ثبوت جمع کرنے کی خاطر جاسوی کی جانب پیش قدمی کرتے ہیں ۔ اللہ کی کتاب اس سے بھی منع کرتی ہے، فرمایا: ’’ تجسس نہ کرو‘‘۔ ٹوہ میں لگنے کے بعد جو باتیں معلوم ہوتی ہیں وہ مزید بڑی برائی کی جانب راغب کرتی ہے اس لیے حکم دیا گیا:’’ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے‘‘۔ اس خرابی کی شدت کے اظہار کی خاطر یہ مثال دی گئی کہ: ’’ کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ دیکھو، تم خود اس سے گھن کھاتے ہو اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے‘‘۔ انفرادی سطح پر یہ رذائل اخلاق مختلف معاشرتی مسائل کا سبب بنتے ہیں لیکن اگر عالمی سطح پر سرکاریں ان سے متصف ہوجائیں تو پیگا سوس جیسا فتنہ عالمِ وجود میں آجاتا ہے۔ یہ دراصل جاسوس کا باپ ہے۔

حزب اختلاف جانتے بوجھتے سوال کررہا ہے کہ پیگاسوس کا استعمال کیوں کیا گیا تو اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ بلیک میل کرنے کی خاطر اس آسیب کی خدمات حاصل کی گئیں۔ انگریزی زبان میں بلیک میل کا استعمال اس مجرمانہ حرکت کے لیے کیا جاتا ہےجس میں مفادات کے حصول کی خاطر مطالبات کی عدم تکمیل پر ایذا رسانی کی دھمکی دی جاتی ہے۔ اس جبر میں کوئی خفیہ راز فاش کرکے جسمانی تکلیف یا مجرمانہ مقدمہ کے ذریعہ مالی و سیاسی فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ راز جوئی کے بغیرچونکہ اس غلیظ مقصد کا حصول ممکن نہیں ہے اس لیے جاسوسی کرائی جاتی ہے۔ اس کا ہدف ان لوگوں کو بنایا جاتا ہے جن سے اقتدار کو خطرہ ہویا جن کے خلاف دل میں حسد کے جذبات پنپ رہے ہوں ۔ اپنے حریف سے بغض و حسد اس کو بدنام کرکے اپنی سیاسی دوکان چمکانے کی ترغیب دیتا ہے۔جاسوسی کے ذریعہ فراہم کردہ راز اپنے جرائم کی پردہ داری کے لیے بھی ڈھال کے طور پر استعمال کیے جاتےہیں۔

اسلام نے راز داری کو جو تقدس عطا کیا ہے اس کا احترام کیے بغیر پیگاسوس جیسی برائی کا قلع قمع ممکن نہیں ہے۔ قرآن حکیم کا حکم ہے کہ : ’’مومنو تمہارے غلام لونڈیاں اورجو ‘بچے ابھی بلوغ کی عمر کو نہیں پہنچے تین اوقا ت میں تم سے اجازت لیا کریں‘‘۔ یعنی پردے کےوقت میں بلااجازت گھر کے نوکر چاکر اور بچے بھی خلل نہیں ڈال سکتے کجا کے کوئی غیر یا سرکار مخل ہوجائے۔ اس کے آگے فرمایا:’’’اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہئے جس طرح ان سے اگلے (یعنی بڑے لوگ) اجازت حاصل کرتے رہے ہیں۔‘‘ عام لوگوں کی بابت یہ حکم دیا گیا کہ ’’مومنو اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں گھر والوں سے اجازت لیے اور ان کو سلام کئے بغیر داخل نہ ہوا کرو۔‘‘

رسول اکرم ﷺ نے یہ بشارت دی ہے کہ :’’ جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اﷲ دنیا وآخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا‘‘۔ یعنی دوسروں کے راز افشاء کرکے فائدہ اٹھانے کے بجائے ان پر پردہ ڈال دینا چاہیے ۔ حدیث میں جاسوسی کی وعید یوں بیان ہوئی ہے کہ :’’جس شخص نے کسی قوم کی باتوں پر کان لگایا حالانکہ وہ اسے ناپسند سمجھتے ہوں یا وہ اس سے راہ فرار اختیار کرتے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا‘‘۔ اس برائی کو ہر کوئی باعثِ ننگ سمجھتا ہےاور اس کا مرتکب شرم کے مارے انکار کرتا ہے ۔ اسی لیےحکومت ہند انکار کے باوجود تحقیق سے گریز کر رہی ہے تاکہ وہ بے نقاب نہ ہوجائے ۔ اس حالت پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے قول کا یہ مفہوم صادق آتا ہے کہ :’’راز اس وقت تک آپ کا غلام ہے جب تک افشاء نہ ہو مگر بیان کے بعد آپ اس کے غلام ہوجاتے ہیں ‘‘ ۔ سرکاری جاسوسی کا رازفاش ہوچکا ہے۔ اس کی عزت ملیا میٹ ہوچکی ہے اور وہ فی الحال اپنا وقار بچانے کی خاطر ہاتھ پیر ماررہی ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!