Published From Aurangabad & Buldhana

جالنہ و مراٹھواڑہ ریلوے کے اہم مسئلہ کو حل کرنے کے لئے مرکزی ریل وزیر دانوے سے ملاقات

جالنہ (محمد اظہر فاضل فوٹو مظہر سوداگر جالنہ) جالنہ ریلوے سنگھرس سمیتی نے جالنہ ریلوے کے مختلف دیرینہ مسائل و مطالبات کو لیکر آج مرکزی وزیر برائے ریلوے راؤ صاحب دانوے سے ملاقات کی اور میمورنڈم دیکر مطالبات کو پیش کیا جسے دانوے نے بغور سنا ۔سمیتی نے انھیں بتایا کہ جالنہ ریلوے جنوبی وسطی ریلوے کا ایک حصہ ہے اور حیدرآباد۔ منماڑ نظام دور کا ریلوے ہے لیکن آزادی کے 70 سال بعد بھی یہ ریلوے لائن پسماندہ بنی ہوئی ہے۔ جسے D.M.R. اور محکمہ ریلوے مسلسل نظرانداز کررہا ہے۔ لہذا گووندبھائی صراف نے مراٹھواڑا ریلوے کو انصاف دلانے کے لئے ناندیڑ میں محکمہ ریلوے قائم کیا۔

جسکا مقصد مراٹھواڑہ اور مہاراشٹرا کے تعلیم یافتہ بےروز گاروں کو ملازمت اور شہری سہولیات دلانا تھا لیکن یہ سہولیات ہمیں میسر نہیں ہے ، نظام اور برطانوی حکومتوں نے جالنہ کو ملک اور ریاست کا مرکز ی علاقہ تسلیم کرتے ہوئے 200 ایکڑ اراضی محفوظ کی ہے۔ نظام حکومت نے جالنہ کو ایک اہم جنکشن بنانے کے ارادے سے 1907 میں جالنہ – کھامگاؤں ریلوے کا آغاز کیا تھا۔ لیکن ، آزادی کے بعد ، مرکزی حکومت نے جالنہ کو نظرانداز کیا۔ اس جگہ کا استعمال کر کے ریاست کے تعلیم یافتہ افراد کو روزگار مہیا کیا جاسکتا ہے۔ جالنہ میں سنٹرل ریلوے کا ایک ڈویژنل دفتر قائم کرنے سے روزگار کا ایک نیا باب کھلا سکتا ہے ۔

اس راستے میں پربھنی تا مدکھیڈ ڈبل لائن کی جا چکی ہے جسے منماڑ تک مکمل کیا جانا چاہئے کردی گئی ہے۔ جس سے منماڑ سے دہلی ٹرینوں کا دباؤ کم ہوگا۔ اگر ڈبل لائن اس راستے پر کی گئی تو کچھ ٹرینیں منماد اورنگ آباد ۔جالنہ – ہنگولی۔ اکولہ روٹ پر باآسانی چل سکے گی ۔ ساتھ ہی جالنہ۔ کھامگاؤں اور سولا پور-جالنہ-جلگاؤں نئی ​​ریلوے لائن کاموں کو جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی ناندیڑ ڈیویژن کے ذمہ دار اوپیندر سنگھ ، جو محکمہ ریلوے میں منیجر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں ، نااہل ہے اور اس کے کام سے متعلق عوامی نمائندوں ، تنظیموں اور ملازمین میں عدم اطمینان ہے انکے بدلے ایک قابل مینیجر کی تقرری کی جائےنیز اورنگ آباد مراٹھواڑہ کا صنعتی علاقہ ہے ،جہاں مختلف ریاستوں سے لوگ مزدوری کرنے آتے ہے ان کو سامنے رکھتے ہوئے ، اورنگ آباد سے بنگلور – ناگپور – اجمیر ، دھن آباد – بیکانیر اور دیگر مقامات تک نئی ریلوے شروع کی جانی چاہئے۔اس وفد میں فیروز علی مولانا،گنیش چودھری ،سبھاش دیویدان،بابو ماما ستکر،کے علاوہ سمیتی کے عہدیداران موجود تھے ۔۔۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!