Published From Aurangabad & Buldhana

بھکت کی گہار: مجھ کو تو سچ لگتا ہے، پهر سے بول دوبارہ جهوٹ


ڈاکٹر سلیم خان

نومنتخبہ وزیر صحت من سکھ منڈاویہ کا نام پہلی مرتبہ اخبارات کی زینت اس وقت بنا جب مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فردنویس کورونا کی دوائی ریمڈیسیور کے ذخیرہ اندوز کو بچانے کے لیے پولس تھانے پہنچ گئے اور خوب جم کر ہنگامہ کیا۔ فردنویس کا دعویٰ تھا کہ ان کے پاس مرکزی وزیر من سکھ منڈاویہ کا اجازت نامہ ہے۔ اس وقت پہلا سوال تو یہ سامنے آیا کہ آخر یہ کس محکمہ کے وزیر ہیں کیونکہ فی الحال سارے کام ایک فردِ واحد کرتا ہے اور دوسرا اس کی تائید کرتا پھرتا ہے۔ خیر گوگل بابا کی مدد سے پتہ چلا کہ موصوف وزیر مملکت برائے کیمیکل اور کھاد نیز سڑک اور ہائ وے کے وزیر ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ آخر ان کا دوائیوں سے کیا تعلق تو پتہ چلا کہ انہیں دوائی بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ رابطے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ کام وزارت صحت کے بجائے ان کو کیوں دیا گیا؟ اور ان کے سبب ملک پھر میں کیسا بحران پیدا ہوا یہ تاریخ کا حصہ ہے لیکن انہیں سزا دینے کے بجائے انعام کے طور کابینی وزیر بنادیا گیا اور ڈاکٹر ہرش وردھن بے موت مارے گئے۔

ڈاکٹر ہرش وردھن کو ہٹا کر جب من سکھ منڈاویہ کو وزیر صحت بنایا گیا تو لوگوں نے سوچا کہ ایسا شاید اس لیے کیا گیا ہےکیونکہ وہ مودی اور شاہ کے گجرات سے آتے ہیں لیکن اب پتہ چلا کہ وہ ان کی مانند ڈھٹائی سے جھوٹ بھی بول سکتے ہیں ۔ ایوان بالا میں یہ اعلان کرکے کہ کورونا کی دوسری لہر کے دوران ملک میں آکسیجن کی کمی کے سبب ایک بھی موت نہیں ہوئی من سکھ نے اپنی ڈھٹائی کا ثبوت دے دیا ۔ من سکھ کے بارے یہ مشہور کردیا گیا ہے کہ وہ بولتے کم ہیں اور کام زیادہ کرتے ہیں ۔ ریمیڈیسور اور دوسری حیات بخش ادویات کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکٹنگ نے یہ تو ثابت کردیا کہ وہ کون سے کام زیادہ کرتے ہیں لیکن ایوان بالا میں ان کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے پتہ چلا کہ ان کی خاموشی خیر و برکت کا باعث ہے۔ وہ بولنے پر آئیں تو یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ملک میں آکسیجن سے کوئی موت نہیں ہوئی۔ ویسے وزیر صحت کے اس بیان پر ساری دنیا نے حیرت کاا ظہار کیا لیکن جو لوگ ان مربی مودی جی سے واقف ہیں ان کو کوئی تعجب نہیں ہوا ۔

وزیر اعظم اگرپوری قوم کو خطاب کرتے ہوئے لداخ سرحد پر چینی جارحیت پر یہ اعلان کر سکتا ہے کہ:’’نہ کوئی گھسا اور نہ کوئی موجود ہے اور نہ کسی نے کوئی قبضہ کیا ‘‘ تو ان کا وزیر یہ کیوں نہیں کہہ سکتا کہ کوئی بھی شخص آکسیجن کی کمی سے نہیں مرا۔ چینی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے کئی فوجیوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ چین نے ان کی لاشیں لوٹائیں اور پورے ملک میں غم وا ندوہ کے بادل چھا گئے ۔ چین کو واپس بھیجنے کے لیے ایک سال سے مذاکرات جاری ہیں ہنوز اس میں کامیابی نہیں ملی ۔ اس کے باوجود اگر وزیر اعظم ایسا بے بنیاد دعویٰ کرسکتے ہیں تو ان کا چہیتا وزیر صحت ایسی معمولی بات کیوں نہیں کہہ سکتا ۔ من سکھ منڈاویہ اگر کل کو یہ اعلان فرما دیں کہ ملک میں کورونا سے کوئی موت نہیں ہوئی ۔ یہ ہمارے ملک کو بدنام کرنے کی ایک عالمی سازش تھی تو متاثرین اور مرنے والوں کی اتنی بڑی تعداد بتائی جارہی ہے تب بھی کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ مودی ہے تو ممکن ہے۔ من سکھ منڈاویہ کے اس بیان پر علامہ اقبال کا یہ شعر یاد آتا ہے؎

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی سِکھائے کس نے اسمٰعیلؑ کو آدابِ فرزندی

من سکھ کے احمقانہ بیان کے لیے صرف مودی جی کا فیضانِ نظر ذمہ دار نہیں ہے بلکہ یہ تو سنگھ کی شاکھا( مکتب) کی کرامت ہے۔ اس لیے کہ ایسی حرکت کرنے والے وہ اکیلے نہیں ہیں ۔کورونا وبا کی دوسری لہر جب اپنے شباب پر تھی اور چاروں طرف سے لوگوں کے مرنے کی خبریں آ رہی تھیں اس وقت آکسیجن کی قلت نے اموات میں زبردست اضافہ کردیا تھا اور یہ معاملہ عدالت میں بھی گیا یہاں تک کہ ہائی کورٹ کے جج کو کہنا پڑا پانی سر اونچا ہوچکا ہے۔ آپ خریدیں ،بھیک مانگیں ، چوری کریں لیکن لوگوں کی زندگی بچائیں۔ کئی اسپتالوں نے یہ بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ا ٓکسیجن کی فراہمی میں کمی کی وجہ سے مریضوں کی جان جارہی ہے ۔ ڈاکٹر حضرات دہائی دے رہے تھے کہ ان کے اسپتال میں صرف چند گھنٹے کی آکسیجن بچی ہے اور ان کو درکار مقدار اس کہیں زیادہ ہے۔ مریضوں کے رشتہ دار آکسیجن سلنڈر بھروانے کے لئے در در ٹھوکرے کھا رہے تھے لیکن یوگی جیسے لوگ اعلان کررہے تھے کہ آکسیجن کی کوئی تنگی نہیں ہے اور اگر کوئی ایسی بات کرے گا تو اسے جیل بھیج دیا جائے گا نیز اس کی جائیداد قرق کرلی جائے گی ۔ راجیہ سبھا میں من سکھ کا جواب اس ڈھٹائی کی اگلی کڑی ہے ۔ خیر سے انہوں نے اپنے مخالف ارکان پارلیمان جیل نہیں بھیجا ورنہ یہ بھی ہوسکتا تھا۔

بی جے پی کے اندر اس طرح کی ڈھٹائی دکھانے والے صرف منڈاویہ اور یوگی ہی نہیں بلکہ ایک خاصی طویل قطار ہے اور اس میں تازہ اضافہ گوا کے بی جے پی وزیراعلیٰ پرمود ساونت ہیں ۔ اس سے قبل کہ موصوف کی کذب گوئی پرگفتگو ہو ماضی قریب میں گوا سے آنے والی کچھ خبریں ملاحظہ فرمائیں ۔ مئی کے وسط میں ریاست گوا جیسے چھوٹے سے صوبے سے 76 کورونا مریضوں کی آکسیجن کی کمی کے باعث موت نے پوری قوم کو چونکا دیا۔ یہ معاملہ چار دنوں کے دوران پیش آیا تھا ۔ اس کے بعد گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت کی حکومت اپوزیشن جماعتوں کی تنقیدوں کے حملے کی زد میں آگئی تھی ۔ حزب اختلاف نے ریاستی حکومت سے ہنگامی طور پر اقدامات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پرمود ساونت اور وزیر صحت وشواجیت رانے کے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا تھا ۔حزب اختلاف کی جماعت گوا فارورڈ کے رہنما وجے سردیسائی نے دعویٰ کیاتھا کہ گوا میڈیکل کالج میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے 8 مزید افراد کی موت کا شمار کرلیا جائے 5 دنوں کے اندر سرکاری اسپتال میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے 83 مریض فوت ہوگئے ۔ دریں اثناء گوا سرکار نے ہائی کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ 30 اپریل سے 11 مئی کے درمیان آکسیجن کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے تقریباً 378؍ اموات ہوئی ہیں۔

اس کے باوجود گوا کے وزیر اعلی پرومود ساونت نے ریاستی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ تینوں بڑے میڈیکل کالجوں میں آکسیجن ٹینک لگائی جاچکی ہیں ۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ریاست میں آکسیجن کی کمی کے سبب کسی متاثرہ مریض کی موت نہیں ہوئی ہے ۔ساونت کے مطابق گوا میں آکسیجن کی کمی نہیں تھی۔ گوا میں 40 میٹرک ٹن آکسیجن کی فراہمی ہو رہی تھی ۔ سرکاری اسپتالوں کو کلین چٹ دیتے ہوئے انہوں نے سارا الزام نجی اسپتالوں کے سر منڈھتے ہوئے کہا کہ وہ کووڈ کے سنگین مریض علاج کے لئے گوا میڈیکل کالج بھیجتے ہیں، ایسی صورتحال میں ان کو بچانا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ گوا کے سرکاری اسپتال میں مریضوں کی اموات صرف آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہوئی ہیں۔

مریض نجی اسپتال کا ہو یا سرکاری دواخانے کا وہ گوا کا شہری ہے ۔ اس لیے ایک طرف تو یہ اعتراف کہ نجی اسپتالوں کے مریضوں کو بچانے میں مشکل پیش آرہی اور دوسری طرف یہ کہہ دینا کہ صوبے میں آکسیجن سے کوئی موت نہیں ہوئی نیز اسمبلی کے اندر کچھ اور عدالت میں کچھ الگ بیان دینا دوغلا پن نہیں تو اور کیا ہے؟ ایوان سیاست میں وزیر اعظم سمیت سارے وزراء اور ارکان ِپارلیمان نیز وزیر اعلیٰ اور اسمبلی کے ارکان کو جی بھر کے جھوٹ بولنے کی آزادی ہوتی ہے اور اس کا فائدہ اٹھاکر وہاں خوب جھوٹ کا بازار گرم کیا جاتا ہے ۔ اس پر آنکھیں بند کرکے ایمان لانے بھکتوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ ان اندھے بھکتوں پر مسرت جبیں کا یہ شعر صادق آتا ہے؎

آنکھیں جھوٹ نظارہ جھوٹ،جو بھی ہے ،وہ سارا جھوٹ مجھ کو تو سچ لگتا ہے، پهر سے بول دوبارہ جهوٹ
(۰۰۰۰۰۰۰۰۰جاری)

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!