Published From Aurangabad & Buldhana

بھارت میں بنایا گیا پہلا کورونا کا ٹیکہ ‘کو ویکسن’، انسانوں پر ٹرائل جولائی سے شروع کرنے کی دی گئی اجازت

نئی دہلی : کورونا انفیکشن کے بڑھتے ہوئے قہر کے درمیان پوری دنیا میں کورونا ویکسین اور دواؤں پر تجربہ جاری ہے۔ کئی ممالک میں ویکسین کا انسانوں پر تجربہ بھی شروع ہو گیا ہے اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اب بھارت میں بھی ایک ویکسین کے انسانوں پر ٹرائل کی اجازت مل گئی ہے۔ یہ ویکسین بھارت میں ہی تیار کیا گیا ہے اور نام ہے ‘کوویکسن’۔ ڈی سی جی آئی (ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا) نے اس ٹیکہ کے انسانوں پر ٹیسٹ کی اجازت دے دی ہے اور امکان ہے کہ بہت جلد یعنی جولائی سے یہ ٹیسٹ شروع ہو جائے گا۔


دراصل ‘کوویکسن’ نامی ٹیکہ کو بنانے کا سہرا ‘بھارت بایوٹیک’ کمپنی کے سر جاتا ہے جس نے آئی سی ایم آر (انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ) اور این آئی وی (نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی) کے تعاون سے کورونا کے خلاف جاری جنگ میں ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ بھارت میں اگلے مہینے سے اس ٹیکہ کا پہلے اور دوسرے مرحلے کا تجربہ شروع ہوگا۔ کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹیکہ کو بنانے میں آئی سی ایم آر اور این آئی وی کا تعاون بہت اہم رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اب تک کورونا انفیکشن سے لڑنے کے لیے کسی بھی طرح کا ٹیکہ نہیں بن پایا ہے۔ چونکہ کورونا انفیکشن بہت تیزی کے ساتھ ملک میں پھیل رہا ہے، اس لیے ‘کوویکسن’ کے انسانوں پر ٹرائل کو بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے اور سبھی کی نظر اس ٹرائل پر ہے۔ اس سے قبل روس نے ایک ویکسین کا انسانوں پر ٹرائل کیا ہے اور اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں، لیکن جن مریضوں پر اس کا استعمال کیا گیا تھا، ان کا ابھی تک حتمی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔

قومی آوازبیورو

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!