Published From Aurangabad & Buldhana

بچوں میں اسمارٹ فون کی لت پر طبی ماہرین کی تشویش

DW

دور حاضر میں مواصلات کے جدید آلات خصوصاﹰ اسمارٹ فون کے استعمال نے انسانی زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں لائی ہیں۔ اسمارٹ فون کو اکیسویں صدی کی اہم ترین ایجادات میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسمارٹ فون نے زاتی اور سماجی روابط میں بے انتہا آسانیاں پید ا کرنے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں پر علم و آگاہی کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ تاہم انسانی ترقی کےاس ایک انتہائی اہم سنگ میل کے بے شمار فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے غلط استعمال سے جڑے نقصانات بھی سائنسی بنیادوں پر ثابت شدہ ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں طبی ماہرین ان مضر اثرات کے حوالے سے آگاہی پھیلانے میں مصروف ہیں۔ اٹھارہ کروڑ سے زائد موبائل صارفین کے ساتھ پاکستان کا شمار بھی دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں موبائل فون کا استعمال بہت زیادہ ہے۔

ملازمت چھوڑنی پڑی
گزشتہ چند سالوں میں اسمارٹ فون کے گھر گھر پہنچ جانے سے اس کی رسائی بچوں سے لے کر ہر عمر کےفرد تک ہو چکی ہے۔ کراچی شہر کے ایک رہائشی محمد زبیر آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ تھے اور انہوں نے دس سال تک ایک سافٹ ویئر کمپنی میں ملازمت کی۔ تاہم ایک سال قبل انہوں نے آئی ٹی کے شعبے کو چھوڑ کر اپنا ایک نیا کاروبار شروع کیا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے محمد زبیر نے کہا کہ آٹھ سال انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملنے والی ایک اچھی ملازمت انہیں صرف اس لیے چھوڑنی پڑی کہ ڈاکٹر نے انہیں یومیہ چار گھنٹے سے زیادہ برقی آلات کے استعمال سے منع کر دیا تھا۔

32 سالہ محمد زبیر کے مطابق انہیں مسلسل گردن اور ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف کی شکایت رہتی تھی۔ اس شکایت کے دور نہ ہونے پر انہوں نے اپنا طبی معائنہ کروایا۔ ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ لیپ ٹاپ اور موبائل فون کے مسلسل استعمال کی وجہ سے انکی گردن ایک جانب زیادہ جھکی رہنے کے بعد اب اپنی ہئیت تبدیل کر رہی ہے اور یہ کہ اسی سبب ریڑھ کی ہڈی کے مہرے بھی اپنی جگہ سے کھسکنے لگے ہیں۔ اس طبی معالج نے زبیر کو تکلیف دور کرنے کے لیے فزیو تھراپی کے ساتھ ساتھ اپنی روٹین بھی تبدیل کرنے کی تجویز دی۔

کم عمر بچوں میں اسمارٹ فون کا استعمال
اس نوعیت کے مسائل صرف محمد زبیر جیسے جوان افراد کو ہی درپیش نہیں۔ پاکستان میں کم عمر بچوں کے اسمارٹ فون استعمال کرنے کے منفی اثرات بھی سامنے آرہے ہیں۔ طبی امور کے ماہرین بچوں میں اسمارٹ فون کے بڑھتے استعمال کو انکی صحت کے لیے خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اب کم عمر بچوں سمیت نوجوانوں کی تمام سرگرمیوں کا دارومدار موبائل فون پر ہے۔

ڈاکٹر مغیز شیرانی سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا، ”حالیہ دنوں میں بچوں اور بڑوں میں موبائل فون کا بہت زیادہ استعمال دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس کے کئی فوائد بھی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اب معاشرے پر اس صورتحال کے منفی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بڑی عمر کے افراد میں مسلسل موبائل ٹائپنگ کی وجہ سے ہاتھ کی نسیں متاثر ہوتی ہیں اور کئی بار نوبت سرجری تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح بچوں کے بہت زیادہ برقی آلات استعمال کرنے سے ان کے دماغ پر اثر پڑتا ہے۔ ڈاکٹر شیرانی کا کہنا تھا ، ” ایک امریکی تحقیق کے مطابق موبائل فون کا کثرت سے استعمال بچوں میں کینسر کے امکانات بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ بچے اکیلا محسوس کرتے ہوئے سماجی تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘‘

اس اعصابی ماہر کا مزید کہنا تھا،” ایک ہی مقام پر موجود رہ کر زیادہ وقت گزارنے سے بچوں میں سستی بڑھ جاتی ہے اور اس کے نتیجے کے طور پر وہ موٹاپے کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔ کم عمری میں جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوجاتی ہے۔ مسلسل اسکرین کو دیکھنے سے سردرد کی شکایات ہوتی ہے۔ اس کے بعد گردن میں تکلیف کی شکایت ہوتی ہے۔ اور پھر ریڑھ کی ہڈی پر اثر پڑھنے لگتا ہے۔‘‘

موبائل فون کےجسمانی ودماغی صحت پر اثرات
ڈاکٹر ضیاءالدین یونیورسٹی میں فزیو تھراپی کے شعبے کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عابد مہدی کاظمی کے مطابق لیپ ٹاپ، ڈیسک ٹاپ اور موبائل فون کی اسکرینوں پر زیادہ دیر نظریں جمائے رکھنے سے آنکھوں کو بھی سخت نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا،” ان اسکرینوں سے نیلے رنگ کی جو روشنی خارج ہوتی ہے وہ آنکھوں کو کئی طرح سے نقصان پہنچاتی ہے۔ آپ محسوس کر سکتے ہیں کہ آپ کے بچوں کی آنکھیں سرخ ہیں، وہ اپنی آنکھیں رگڑتے رہتے ہیں یا وہ دھندلا نظر آنے کی شکایت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جوڑوں کے درد، گردن میں درد اور سر درد سے متعلق مسائل بہت عام ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اگر احتیاطی تدابیر نہ اپنائی جائیں تو جسمانی صحت سے جڑے مسائل میں شدت آجاتی ہے،” اس میں وقت سے پہلے جسم کا جھک جانا یعنی کبڑا پن شامل ہے۔ یہ بچوں پر موبائل فون کا پہلا نقصان دہ اثر ہے۔ زیادہ ٹیکسٹ یا میسج ٹائپنگ ٹینڈونائٹس کا باعث بن سکتی ہے۔ جس میں اعصاب اور پٹھوں کا کھنچاؤ شامل ہے۔ غلط طریقے سے موبائل پکڑنے کی وجہ سے یہ ہاتھوں، کمر اور گردن میں درد کا باعث بنتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر مغیز شیرانی نے بتایا کہ مسلسل اسکرین دیکھنے سے دماغ پر بھی اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا، ” کم عمر بچے تناؤ کا شکار ہونے لگیں گے اور ہر چیز کے بارے میں فکر مند ہونے لگتے ہیں۔ موڈ میں تبدیلیاں اور عام چیزوں کے ساتھ ان میں بے صبری بھی دیکھنے میں آتی ہے۔بچے تناؤ، اضطراب اور افسردگی کا بھی زیادہ شکار ہوتے ہیں۔‘‘

اسمارٹ فون کے نقصانات سے کیسے بچا جائے؟
جامعہ کراچی کی پروفیسر ڈاکٹر نائمہ شہریار نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موبائل فون کو محفوظ طریقے اور ذمہ داری سے استعمال کرنے کے بارے میں آگاہی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھ اکہ اس سلسلے میں خاص طور پر بچوں کے لیے کچھ ضوابط اور فون کے استعمال کے دورانیے کا تعین ضروری ہے۔

ڈاکٹر مغیز کا کہنا ہے کہ بہتر صحت کے لیے نیند کا پورا کرنا بہت ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے، ”نیند کا باقاعدہ شیڈول بنانے کے لیے سونے سے پہلے اپنا سیل فون بند کردیں۔ بچوں کو سکھائیں کہ موبائل فون پر مختصر سی گفتگو کی جائے۔ والدین خود موبائل کا استعمال کم کریں بچوں پر بھی اس کے اثرات نظر آئیں گے اور وہ بھی اس کے استعمال کو محدود کرینگے۔‘‘ انہوں نے تجویز دی کہ بچوں کو روزانہ کچھ وقت دوڑنے، کھیلنے یا چہل قدمی کی سرگرمیوں میں گزارنا چاہیے ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!