Published From Aurangabad & Buldhana

اورنگ آباد: ضبط شدہ الیکٹرک گاڑیوں کی جانچ کیلئے ٹیکنیشین موجود نہیں

گورنمنٹ انجینئرنگ کالج میں جمع پانچ ای بائیک کی تکنیکی جانچ التواء میں‘ گاڑیوں کو موڈیفائی کرنے والے تقسیم کاروں پر جرمانہ کی کارروائی کرنے کا اشارہ

اورنگ آباد: (نامہ نگار) قانون کی خلاف ورزی کی پاداش میں ضبط شدہ گاڑیوں کی جانچ کیلئے ٹیکنیشین موجود نہ ہونے کی وجہ سے انتظامیہ کے سامنے ضبط شدہ گاڑیوں کا مسئلہ حل کرنے کا چیلنج کھڑا ہوگیا ہے۔

واضح ہو کہ ریجنل ٹرانسپورٹ آفس (RTO) نے موٹر وہیکل ایکٹ کی خلاف ورزی کرکے گاڑیوں کو من مانے طریقے سے موڈیفائیڈ کرنے کی پاداش میں 12 ای بائیک ضبط کرلی تھیں۔ ان میں سے پانچ ای بائیک گورنمنٹ انجینئرنگ کالج میں جانچ کیلئے روانہ کی گئی تھیں‘ تاہم گاڑیوں کی جانچ کیلئے انجینئرنگ کالج میں ماہر ٹیکنیشین نہ ہونے کی وجہ سے گاڑیوں سے متعلق معاملہ فیصل کرنا انتظامیہ کیلئے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ خیال رہے کہ گاڑی مالکان گاڑیوں کی رفتار بڑھانے کیلئے مرکزی موٹر وہیکل ایکٹ کو پامال کررہے ہیں‘ گاڑیوں میں ضرورت سے بڑی الیکٹرک بیٹریاں نصب کرنے کے معاملات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے‘ اور چلتی ہوئی گاڑیوں میں آگ لگنے کی وارداتیں بھی رونماء ہورہی ہیں۔

جس کے باعث گاڑی سواروں سمیت راستے سے گذرنے والے شہریوں کی جانوں کو بھی خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں گذشتہ دِنوں آر ٹی او انتظامیہ نے موڈیفائیڈ گاڑیوں کی جانچ مہم چلائی تھی‘ جانچ مہم کے دوران 12 ای بائیکس میں زیادہ پاور کی بیٹریاں اور دیگر بے ضابطگیاں پائی گئی تھیں‘ جس پر انتظامیہ نے ان گاڑیوں کو ضبط کرلیا تھا۔ ضبط شدہ گاڑیوں میں سے پانچ گاڑیاں تکنیکی جانچ کیلئے انجینئرنگ کالج بھیجی گئی تھیں‘ لیکن کالج انتظامیہ نے ماہر ٹیکنیشین نہ ہونے کا جواز بتلاکر گاڑیوں کی جانچ کرنے سے انکار کردیا۔ یہ بات ٹرانسپورٹ آفیسر سنجے میتریوار نے کہی۔

میتریوار نے بتایا کہ گاڑیوں کی تکنیکی جانچ کیلئے انجینئرنگ کالج میں درکار سازو سامان نہیں ہے‘ جس کی وجہ سے گاڑیوں کی تکنیکی جانچ کرنے سے انتظامیہ نے معذرت کرلی ہے۔ لہٰذا اب ان گاڑیوں کی تکنیکی جانچ کو پسِ پشت ڈالتے انتظامیہ نے تقسیم کاروں (سیلرس) پر جرمانہ کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!