Published From Aurangabad & Buldhana

NCPULنے کی مدرسہ بورڈ چیر من کے ساتھ میٹنگ، مدارس میں جلد قائم ہونگے کمپیوٹر سینٹر

نئی دہلی: اردو زبان کو فروغ دینے کے بجائے نیشنل کاؤنسل فار پرموشن آف اردو لینگویج (NCPUL) کے نئے ڈائریکٹر اب مدرسہ کی تعلیم پر دھیان دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دو دن قبل مدرسہ بورڈ کے مختلف افسران کے ساتھ ایک میٹنگ NCPULکے مرکزی دفتر فروغ اردو بھون میں منعقد کی جس میں مدرسہ تعلیم پر گفتگو کی۔

ڈاکٹر شیخ عقیل احمد جو کہ حال ہی میں NCPULکے ڈائریکٹر بنے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ عقیل احمد RSSکی وجہ سے ڈائریکٹر بنے ہیں۔ انہوں نے نشست بلا کر مدرسہ کی تعلیمی سطح کو بہتر بنانے پر گفتگو کی۔ اپنے افتتاحی کلمات میں انہوں نے کہا کہ کاؤنسل مختلف مدرسہ بورڈ کے ذمہ داران سے مل کر اردو کو فروغ دینے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ ملک میں سرکاری اسکولوں سے زیادہ مدارس ہیں‘‘۔ اگر مدرسہ کی تعلیم میں کمپیوٹر کی تعلیم اور جدیدٹیکنالوجی کو شامل کیا جائے تو یہ مدرسہ کے بچوں کو بہتر تعلیم مہیاء کرانے میں کافی معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مدرسہ چلانے والوں کو غلط فہمی ہے کہ حکومت جدید تعلیم کے نام پر مدارس پر کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ مدرسہ کی خود مختاری پو کوئی ضرب نہیں لگائی جائیگی۔

مدھیہ پردیش مدرسہ بورڈ کے چیرمن پروفیسر سید عماد الدین نے مشورہ دیا کہ کاؤنسل مدارس میں زیادہ سے زیادہ کمپیو ٹر سینٹر قائم کرے۔جبکہ راجستھان مدرسہ بورڈ کی چیر پرسن مہروالنساء تاک نے کہا کہ مدرسہ کے اساتذہ کی ٹریننگ پر کام کرنا چاہیے۔ اور اسکا اہتمام NCPULکرے۔ اتراکھنڈ کے شعبہ تعلیم کے نائب رجسٹرار اخلاق احمد نے بتایا کہ حکومت نے پچھلے 4سالوں سے SPQEMکا فنڈ مدارس کو نہیں دیا ہے۔ حکومت کو پہلے اس مسئلہ کی جانب توجہ دینی چاہیے۔ NCPULکے عقیل احمد نے کہا کہ وہ ان تمام مشوروں پر غور کریں گے۔

اس نشست میں ان مہمانان کے علاوہ مغربی بنگال مدرسہ بورڈ کے چیئر من ایس کے ابو طاہر قمرالدین ، اڑیسہ مدرسہ بورڈ کے چیئرمن لئیق الدین احمد، چھتیس گڑھ مدرسہ بورڈ کے چیئرمن مرزا اعجاز بیگ بھی موجود تھے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!