Published From Aurangabad & Buldhana

59منٹ میں MSMEکو قرض کے مودی کے اعلان کا گجرات سے تعلق؟

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے 2نومبر کو اعلان کیا تھا کہ چھوٹی صنعتوں کو صرف 59منٹ میں 1کروڑ روپئے تک کا قرض مل جائیگا۔ حکومت اسے شاندار قدم قرار دے رہی ہے۔ لیکن مہیشور پیری نام کے شخص نے ایک فیس بک پوسٹ کے ذریعہ پوری اسکیم کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے ہیں ۔ مہیشور پیری کیریر ۔360کے بانی چیئر من ہیں۔ مہیشور نے حکومت کی اسکیم اور گجرات کی کمپنی کیپٹل ورلڈ کے درمیان تعلق تلاش کیا ہے۔ مارچ 2017تک احمدآبار کی کیپٹل ورلڈ کوئی کام نہیں کرتی تھی اور اس کمپنی کے ایک موجودہ ڈائریکٹر 2014میں مودی کی تشہیر ی مہم کی کمان سنبھالی تھی۔ مہیشور کے مطابق کمپنی 30؍ مارچ2015میں بنی تھی لیکن 31؍ مارچ 2017تک اسکے پاس کوئی تجارت نہیں تھی۔ اس وقت اسکی کمائی صرف 15000روپئے ہی تھی۔ اس کمپنی میں جناد شاہ اور وکاس شاہ ہیں۔ کمپنی کے بورڈ میں ایک ڈائریکٹر ونود مودھاہیں جو کہ نرما اور مدرا جیسی کمپنیوں کے اسٹراٹجک ایڈوائزر بھی ہیں ۔ مدرا کمپنی کچھ دنوں قبل تک انل امبانی کے پاس تھی۔

59منٹ میں قرض اور کیپٹل ورلڈ کے درمیان تعلق پر بات کرتے ہوئے مہیشور نے چند سوالات اٹھائے ہیں جس میں پوچھا کہ احمدآباد کی اس کمپنی کو اس اسکیم کے لئے کس بنیاد پر چنا گیا؟ یہ سوال اس لئے اٹھتا ہے کیونکہ مارچ 2017تک کیپٹل ورلڈ کی تجارت کچھ نہیں تھی۔ سیدھے کہیں تو اس کی حیثیت اس معاملے کچھ بھی نہیں تھی۔ کوئی تجربہ نہ ہونے کے باوجود کمپنی کو اتنے بڑے قومی پروجیکٹ کی ذمہ داری کیسے مل گئی؟کانٹریکٹ کی شرائط کیا کیا ہیں؟ اورکیپٹل ورلڈ کو اس سے کیا کمائی ہوگی؟

واضح ہو کہ اس اسکیم کے لئے صنعتوں کو کیپٹل ورلڈ سے ہوکر گذرنا ہے۔ یہی کمپنی بنک اور امیدوار صنعتوں کے درمیان ہوگی۔ اس کے چلتے جو مزید سوالات اٹھتے ہیں اس میں یہ ہے کہ درخواست دینے والی تمام کمپنیوں کو اپنی معلومات اس نجی کمپنی کے پاس جمع کرانی ہوگی جس کے بعد اس معلومات کی حفاظت کا سوال کھڑا ہوتا ہے۔ اس اسکیم کی فیس تقریباً 1180روپئے ہے اور جتنی کمپنیاں عموماً درخواست دیتی ہیں اس کی وجہ سے کیپٹل ورلڈ کے پاس بہت بڑی رقم جمع ہوجائیگی۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ رقم کس کے پاس جائیگی؟

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!