Published From Aurangabad & Buldhana

58000کروڑ کا زراعتی قرض صرف 615لوگوں میں تقسیم: RTI

فہرست میں زیادہ تر بڑی کمپنیاں شامل

نئی دہلی: دی وائرکی جانب سے داخل کردہ قانون حق تعلیم کی درخواست سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2016میں سرکاری بنکوں کے ذریعہ تقریباً 58561کروڑ روپئے کا قرض صرف 615کھاتوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔اس کا مطلب ان 615میں سے ہر ایک کو 95کروڑ روپئے دیے گئے ہیں۔ یہ معلومات ریزرو بنک آف انڈیا نے RTIکے جواب میں دی۔

یہ بات بھی واضح رہے کہ پیش کیے بنک کھاتوں میں سے زیادہ تر بڑی کمپنیوں کے ہیں جو ذرعی تجارت کرتی ہیں اور انہوں نے انتہائی کم سودپر بنکوں سے Priority Sector Lending (PSL)کے تحت قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔
آر بی آئی کی PSLپالیسی ان شعبوں کا احاطہ کرتی ہے جس سے آبادی کا بڑا حصہ متاثر ہوتا ہے جیسے ذراعت، چوٹی ومیڈیم صنعتیں وغیرہ۔ PSLکے تحت بنکوں کواپنی قرض کی رقم کا 18فیصد حصہ ذرعی شعبہ کے لئے رکھنا ہے۔آج کی تاریخ میں ذرعی قرض 4فیصد شرح پر دیا جاتا ہے۔ کسانوں کی تنظیم کے بانی سوراجیہ ویدیکا نے دی وائر سے بتایا کہ ذرعی تجارت میں شامل بہت سی بڑی کمپنیوں نے قرض لیا ہے۔ ان کمپنیوں میں ریلائنس فریش بھی شامل ہیں۔ ریلائنس ذرعی پیداوار کی خرید و فروخت کی تجارت کرتی ہے لیکن اس نے بھی اس زمرے میں گوڈاؤن کی تعمیر کے لئے ذرعی قرض حاصل کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عام کسانوں کو یہ قرض نہیں مل پاتا ہے اس لئے کہ بڑے بڑے تاجر اس کو لے لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ شاید بنکوں کو بھی اس طرح کا قرض دینے میں آسانی ہوتی ہے۔ ذرعی میدان کے ماہر دیویندر شرما نے کہا کہ ایک کمپنی کو 100کروڑ روپئے کا قرض دینا زیادہ آسان ہے اس کے مقابل کہ آپ وہی 100کروڑ روپئے 200لوگوں میں تقسیم کریں۔ اور یہ اس لئے بھی کیا جاتا ہے کہ کم محنت میں 18فیصد کا نشانہ حاصل کیا جائے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!