Published From Aurangabad & Buldhana

2008کے دھماکوں میں سناتن سنستھا کا ہاتھ!!!

انڈیا ٹوڈے کے اسٹنگ آپریشن کے ذریعہ دعویٰ

ممبئی: 2008مہاراشٹر بم دھماکوں میں مبینہ طور پر شامل رہے سناتن سنستھا کے کارکنان کا اصلی چہرہ بے نقاب ہوتا نظر آرہا ہے۔ انڈیا ٹوڈے کے اسٹنگ آپریشن میں سناتن سنستھا کے منگیش دنکر اور ہری بھاؤ کرشنا دویکر نے 2008میں مہاراشٹر کے سنیما گھروں کے باہر بم دھماکوں میں اپنے شامل ہونے کو قبول کیا ہے۔ مہاراشٹر میں سنیما گھروں میں باہر بم دھماکوں کے الزام میں ATSنے ان دونوں کا نام چارج شیٹ میں شامل کیا تھا ۔ دونوں کارکنان کو عدالت نے پہلے ملزم بنایا تھا پھر بعد میں ثبوت کی کمی کی وجہ سے 2011میں انہیں رہا کردیا تھا۔ لیکن اب 7 سال بعد کیمرے کے سامنے انہوں نے خود اپنا جرم مان لیا ہے۔

منگیش دنکر نکم نے انڈیا ٹوڈے خصوصی تفتیشی ٹیم کے کیمرے کے سامنے کہا کہ ’’ واشی میں تھا تو صرف رکھا اور آگیا تھا۔ اتنا ہی کام تھا‘‘۔ نکم نے کیمرے کے سامنے قبول کیا ہے کہ 2008میں واشی میں ایک سنیما ہال کے باہر اسی نے بم رکھا تھا۔ اسٹنگ میں نکم نے ایسا کرنے کی وجہ بھی بتائی۔ نکم کا کہنا ہے کہ واشی سنیما گھر میں ہندو دیوی دیوتاؤں کی غلط تصویر پیش کی جارہی تھی۔ اس لئے اس سنیما کو بند کروانے کے لئے وہاں بم رکھا گیا تھا۔ نکم نے یہ بھی قبول کیا ہے کہ سناتن سنستھا کا دوسرا کارکن ہری بھاؤ کرشنادویکر بھی اسکے ساتھ اس کام میں شامل تھا۔
واضح ہوکہ سناتن سنستھا ایک بھگوا تنظیم ہے جسے 1999میں ڈاکٹر جینت آٹھولے نے قائم کیا تھا۔ مہاراشٹر و گوا کے ساتھ ملک کے کئی حصوں میں اس کے دفاتر ہیں۔ ہندتو کے عنوان سے تشدد کے الزامات میں اکثر سناتن سنستھا کا نام آتا ہے۔ حال ہی میں کرناٹک اور مہاراشٹر کے ڈاکٹر دابھولکر، گوری لنکیش، کلبرگی اور پنسارے جیسے سماجی کارکنان و صحافیوں کے قتل میں پولس نے پوری ریاست سے بہت سارے بھگوا دہشت گردوں کو بم ہتھیاروں کے ذخیروں کے ساتھ پکڑا تھا۔
2008میں مہاراشٹر کے سنیما گھروں میں ہوئے بم دھماکوں میں ATSنے 6لوگوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی، جن میں منگیش دنکر نکم، ہری بھاؤ کرشنا دویکر، وکرم ونئے بھاوے، سنتوش سیتارام آنگرے، رمیش ہنومنت گڈکری اور ہیمنت تکارام کا نام شامل تھا۔2011میں گڈکری اور بھاوے کو 10سال کی سزا اور11000روپئے کا جرمانہ لگا تھا۔ باقی تمام بری ہوگئے تھے۔

دویکر نے اسٹنگ آپریشن میں کیا کہ اس پر جو الزام عائد کیا گیا تھا اس نے اس سے زیادہ بڑا جرم کیا تھا۔اس نے کہا کہ جب پولس اس کے پاس آئی تو اس نے وہ سب کچھ دے دیا تھا جو اسکے پاس تھا۔ جب اس سے انڈیا ٹوڈے پوچھا کہ اس کے پاس کیا سامان تھا تواس نے کہا کہ اس کے پاس 2ریوالور، ڈیٹونیٹرس، جلاٹن اسٹک اور ڈیجیٹل میٹر تھے۔

اہم نکات
*چارج شیٹ میں نام آنے کے بعد ثبوتوں کی کمی کے وجہ سے چھوٹ گئے تھے نکم اور دویکر
* انکا کام صرف بم رکھ کر آجانا تھا
*ATSنے 6لوگوں کے خلاف چارج شیٹ کی تھی داخل جس میں نکم اور دویکر کے علاوہ وکرم ونئے بھاوے، سنتوش سیتارام آنگرے، رمیش ہنومنت گڈکری اور ہیمنت تکارام کا نام تھاشامل
* میں گڈکری اور بھاوے کو 10سال کی سزا اور11000روپئے کا جرمانہ لگا تھا۔ باقی تمام بری ہوگئے تھے۔
* انڈیا ٹوڈے کے اسٹنگ آپریشن میں خود قبول کیا جرم

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!