Published From Aurangabad & Buldhana

یوگی کو سپریم کورٹ سے جھٹکا، پھر چلے گا مقدمہ

عرضی گزار راشد خان نے کہا ’’اترپردیش حکومت ذیلی عدالت میں مقدمہ کی سماعت بند کرنے کی مناسب وجہ سپریم کورٹ میں نہیں بتا پائی، لہذا یو گی کے خلاف پھر سے مقدمہ چلانے کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘

نئی دہلی: گورکھپور میں 2007 میں ہوئے فساد کے دوران اشتعال انگیز تقریر کرنے کے معاملہ میں اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ سپریم کورٹ نے گورکھپور کی عدالت کو حکم دیا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف مقدمہ چلایا جائے اور معاملہ کی پھر سے سماعت کی جائے۔سپریم کورٹ نے اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے ایک پرانی اشتعال انگیز تقریر کے معاملے میں منگل کو سماعت کی اور متعلقہ مجسٹریٹ کو قانون کے دائرے میں حکم جاری کرنے کا حکم دیا۔چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی تین رکنی بینچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر پٹیشن کا تصفیہ کر دیا ہے۔

گورکھپور کی عدالت نے یہ کہتے ہوئے معاملہ کی سماعت بند کردی تھی کہ مقدمہ چلانے کی منظوری ان کے پاس نہیں ہے۔ ہائی کورٹ نے 2008 میں اس معاملے میں راشد خان کی درخواست مسترد کر دی تھی، جسے انہوں نے عدالت عظمی میں چیلنج کیا تھا۔

جسٹس مشرا نے کہا، ’’ہم گورکھپور کے مجسٹریٹ کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں قانون کے دائرے میں اپنا مناسب حکم سنائے‘‘۔
عرضی گزار راشد خان نے کہا ’’اترپردیش حکومت ذیلی عدالت میں مقدمہ کی سماعت بند کرنے کی مناسب وجہ سپریم کورٹ میں نہیں بتا پائی، لہذا یو گی کے خلاف پھر سے مقدمہ چلانے کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘ سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ ٹرائل کورٹ پھر سے اس معاملہ پر غور کرے اور اپنے ضمیر کا استعمال کرتے ہوئے حکم صادر کرے۔قابل ذکر ہے کہ یہ معاملہ قریب 11 سال پرانا ہے۔ 27 جنوری 2007 کو آدتیہ ناتھ کے گورکھپور میں فرقہ وارانہ فساد ہوا تھا۔ اس فساد میں دو لوگوں کی موت واقع ہو ئی تھی اور کئی لوگ زخمی بھی ہوئے تھے۔

اس فساد کے لئے اس وقت کے رکن پارلیمنٹ اور موجودہ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ، اس وقت کے ایم ایل اے رادھا موہن داس اگروال اور گورکھپور کی اس وقت کی میئر انجو چودھری پر اشتعال انگیز تقریر کرنے اور فساد بھڑکانے کا الزام لگا تھا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!