Published From Aurangabad & Buldhana

یوگی نفرت آمیز تقریر معاملہ: جیل میں قید کیس کرنے والے پرویز کی بیوی کو پولس دے رہی ہے دھمکیاں ، NHRCمیں کی شکایت

گورکھپور: اتر پردیش کے وکیل پرویز پرواز کی بیوی نے قومی حقوق انسانی کمیشن (NHRC) کو خط لکھ کر بتایا کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے نفرت آمیز تقاریر پر عدالت میں کیس کرنے کے بعد انہیں ہی جعلی عصمت دری کے مقدمہ پولس کی جانب سے گرفتار کیے جانے کے بعد مقامی پولس انہیں اور انکے بچے کو بھی دھمکا رہی ہے۔ انہیں بھی جعلی مقدمات کے عنوان سے دھمکایا جا رہا ہے۔ پرویز جو کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف 2007سے تقریر کے ذریعہ نفرت پھیلانے پر مقدمہ لڑ رہے تھے انہیں پچھلے مہینہ ایک عصمت دری کے معاملے میں گرفتار کر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے گورکھ پور عدالت کو یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف دائر نفرت آمیز تقریر کے عنوان سے درج مقدمہ کو دوبارہ کھولا جائے۔

پرویز کی بیوی ریحانہ بیگم نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ جون 2018میں پرویز کے خلاف جعلی عصمت دری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تفتیش کے بعد مقامی پولس کو درج کیس جعلی لگا اور پولس نے مقدمہ بند کردیاتھا۔ لیکن اسے دوبارہ کھولا گیا اور تازی تفتیش کے عنوان سے پرویز کوعین الہ آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی سنوائی سے ٹھیک ایک دن قبل 25؍ستمبر کو گرفتار کرلیا گیا ۔پرویز اور انکے ساتھی جن پر بھی الزام لگایا گیا ہے دونوں بھی اپنے خلاف دائر مقدمہ کے خلاف ہائی کورٹ گئے تھے۔ عدالت نے 26ستمبر کو پرویز کے ساتھی کی گرفتاری پر روک لگا دی تھی۔ لیکن پرویز جیل ہی میں ہیں۔

ریحانہ نے لکھا ہے کہ ’’ کورکھپور پولس مجھے اور میرے بیٹے کو ستا رہی ہے جبکہ میرے اور میرے بیٹے خلاف ایک بھی مقدمہ نہیں ہے۔ پولس ہم کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسانے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ سب اس لئے ہورہا ہے تاکہ میرے شوہر پرویز نے جو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا وہ اسے واپس لے لیں‘‘۔ ریحانہ نے NHRCسے حفاظت کی درخواست کی ہے۔

واضح ہوکہ موجودہ یو پی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جب گورکھپور سے ممبر پارلمنٹ تھے نے ایک نفرت آمیز تقریر کی تھی جس کی وجہ سے وہاں فرقہ وارآنہ تشدد ہوا تھا۔ پرویز اور دیگر نے یوگی کے خلاف نفرت پھیلانے کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ مقامی پولس نے اس مقدمہ کو بنا کوئی وجہ بتائے بند کردیا تھا۔ پرویز نے ہائی کورٹ میں اسے چیلنج کیا تھا۔ بعد میں وہ سپریم کورٹ بھی گئے تھے۔ سپریم کورٹ نے پچھلے ماہ 11ستمبر 2018کو گورکھپور عدالت کو حکم دیا کہ وہ اس معاملے میں مناسب فیصلہ دے ۔ سپریم کورٹ کے اس حکم کے دو ہفتہ بعد ہی پرویز کو عصمت دری کے مقدمہ میں گرفتارکر جیل بھیج دیا گیا۔ یو پی کی سماجی تنظیم رہائی منچ نے اس موقع پر کہا کہ چونکہ یہ معاملہ وزیر اعلیٰ سے جڑا ہوا ہے تو یہ طاقت اور اقتدار کا غلط استعمال ہے۔ چونکہ یوگی کے خلاف سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے پاس یہ مقدمہ موجود ہے اس لئے پرویز کی بیوی کی درخواست کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!