Published From Aurangabad & Buldhana

یوپی میں NSAاب مسلمانوں کے خلاف نیا ہتھیار

فرقہ وارانہ تشدد میں یک طرفہ کاروائی، یوگی حکومت میں 1سال میں 160لوگوں پر NSA

لکھنؤ: 4مارچ 2018کو اتر پردیش میں بی جے پی کی یوگی حکومت کو ایک سال مکمل ہوا۔ یوگی نے یہ کہہ کر حکومت سنبھالی تھی کہ وہ ریاست میں قانون کی حکومت قائم کریں گے اور اس دور کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے اس دور حکومت میں ایک بھی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا ہے۔

اس کے 10دن بعد ہی مرکزی وزارت داخلہ نے پارلیمنٹ میں چند اعدادو شمار پیش کیے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد کے معاملوں میں اتر پردیش ریاستوں کی فہرست میں سب سے اوپر ہے۔2017میں یوپی میں 44افراد مارے گئے اور 540افراد زخمی ہوئے ہیں۔اس کے مقابلہ 2016میں 29اموات اور 490لوگ زخمی ہوئے ہیں اور 2015میں 22اموات اور 410لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ اس میں بھی خاص طور سے بلند شہر اور سہارنپور میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد میں صاف طور سے آدتیہ ناتھ کی قیادت والی ہندو یوا و ا ہنی اور مقامی بی جے پی کارکنان کی شمولیت سامنے آئی ہے۔ جو ان فسادات میں شامل تھے ان پر کاروائی تو دکھائی گئی ہے لیکن کوئی سخت قانونی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

16جنوری 2018کو یوگی حکومت نے ایک پریس بیان جاری کیا تھاجس میں کہا گیا تھا کہ اتر پردیش پولس نے ریاست میں قانون و امن کو برقرار رکھنے کے لئے 160لوگوں پر نیشنل سیکیوریٹی ایکٹ (NSA) لاگو کردیا ہے۔ یہ حکومت کی جانب سے انکی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کی گئی تھی۔ان لوگوں کی فہرست میں سب سے مشہور نام بھیم آرمی کے بانی چندر شیکھر آزاد کا ہے جنہیں مئی 2017سے جیل میں بند رکھا گیا ہے۔

NSAعمومی طور ’’ نا وکیل، نا اپیل، نا دلیل‘‘ لے عنوان سے جانا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت احتیاطی وحفاظتی اقددامات کے تحت لوگوں کو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ اس قانون کو 23ستمبر 1980میں لاگو کیا گیا تھا۔ یہ قانون مرکز اور ریاست کو یہ طاقت دیتا ہے جس کے تحت وہ کسی شخص کو ملک کی حفاظت ، دیگر ممالک سے تعلقات ، عوام کی خاطر وغیرہ کے عنوان سے کسی کو بھی تحویل میں لے سکتے ہیں۔ اس کے تحت زیادہ سے زیادہ 12مہینہ تک تحویل میں رکھا جاسکتا ہے۔ یہ حکم نامہ ضلع جج یا پولس کمشنر کے ذریعہ دیا جاسکتا ہے۔اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو بنا وجہ بتائے شروع میں 10دن تک تحویل میں لیا جاسکتا ہے۔جس میں اس آدمی کو اپنی گرفتاری سے متعلق وجہ جاننے کا بھی حق نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی وہ اس عرصہ میں کوئی وکیل کی خدمات لے سکتے ہیں۔ہائی کورٹ کے تین جج حضرات یا انکی قابلیت کے برابر لوگ ہی اس شخص سے متعلق فیصلہ کرسکتے ہیں۔یہ قانون مہاراشٹر کے MPDAقانون کی طرح ہے جس میں ایک سال تک ضمانت بھی نہیں مل سکتی ہے۔

اس معاملہ میں 1سال سے تحویل میں 15افراد کے خاندان والوں سے دی وائر کے صحافی نے ملاقات کی تو پتہ چلا کہ تمام گرفتاریاں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد پیش آئی۔ حتیٰ کہ ان فسادات میں ہندو یوا وا ہنی، ہندو سماج پارٹی اور اکھیل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کے ارکان کی شمولیت کی واضح بات آئی تھی تب بھی صرف مسلمانوں کو ہی جیل میں بند کیا گیا۔ مسلمانوں میں کے تمام ہی ملزمین کو جب سیشن عدالت سے ضمانت ملی تو فوراً بعد ہی پولس نے انہیں NSAکے تحت دوبارہ گرفتار کرلیا۔
اسی طرح کے معاملہ میں کانپور میں دو فرقہ وارانہ فساد پیش آئے تھی لیکن NSA صرف مسلمانوں پر ہی لگا تھا۔ ایک موقع پر میڈیا نے جب یوگی سے پولس تھانوں میں پوجا سے متعلق سوال پوچھا تو 19اگست 2017کو انہوں نے جوا ب دیا تھا کہ اگر وہ راستوں پر نماز پڑھنے کو نہیں روک سکتے ہیں تو پولس تھانوں میں جنم آشٹھمی کو کیسے روک سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مذہبی تہوار قانون سے اوپر ہوتے ہیں۔

یہ اور اسطرح کے بہت سے واقعات ہیں جس میں یوگی حکومت کی جانبدارانہ کاروائی صاف نظر آرہی ہے۔ جن خاندانوں کے افراد کو NSAکے تحت جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے انکے گھروالے تکلیف اور مصیبت کی زندگی گذاررہے ہیں۔ اسکو ل میں پڑھ رہے بچوں کو انکے اساتذہ کی جانب سے تنقید کا نشانہ تو سماج میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!