Published From Aurangabad & Buldhana

یوپی حکومت بابری مسجد سماعت مکمل ہونے تک متعلقہ جج کو ریٹائر نہ کرے: سپریم کورٹ

بابری مسجد منہدم کرنے کی سازش معاملہ میں سپریم کورٹ نے اتر پردیش کی یوگی حکومت سے سوال کیا ہے کہ سی بی آئی جج ایس کے یادو کی مدت کار کس طرح بڑھائی جا سکتی ہے۔ اتر پردیش حکومت کو جمعہ تک بتانا ہے کہ اس سلسلے میں قانونی نظام کیا ہیں؟ سپریم کورٹ نے یوگی حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ سی بی آئی جج ایس کے یادو جب تک فیصلہ نہیں دیتے، تب تک انھیں سبکدوش نہ کیا جائے، اور اس کے لیے کیا راستہ اپنایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ سی بی آئی جج ایس کے یادو نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر معاملے کی سماعت مکمل کرنے کے لیے 6 مہینے کا مزید وقت طلب کیا ہے۔ اس خط پر غور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ’’یہ بے حد ضروری ہے کہ سی بی آئی جج ایس کے یادو معاملے کی سماعت پوری کر فیصلہ سنائیں۔‘‘ سپریم کورٹ اب جمعہ کے روز اس معاملے کی سماعت کرے گا۔ دراصل سی بی آئی جج ایس کے یادو 30 ستمبر کو سبکدوش ہو رہے ہیں۔ اسی کے پیش نظر عدالت نے کہا کہ ہم شق 142 کے تحت حکم جاری کریں گے کہ انھیں 30 ستمبر کو سبکدوش نہ کیا جائے۔

غور طلب ہے کہ بابری مسجد گرانے کی سازش کے ٹرائل معاملہ میں سی بی آئی جج کی عرضی پر سپریم کورٹ نے سماعت کی۔ گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے ٹرائل کی سماعت کر رہے سی بی آئی جج ایس کے یادو سے پوچھا تھا کہ وہ کس طریقے سے ٹرائل کو طے وقت میں پورا کریں گے۔ عدالت نے مہر بند لفافے میں جانکاری دینے کے لیے کہا تھا۔ 19 اپریل 2017 کو دو سال میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے جج کی عرضی پر الٰہ آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو نوٹس جاری کیا تھا۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ ایودھیا واقع بابری مسجد منہدم کرنے کی سازش سے متعلق کیس کی سماعت کر رہے سی بی آئی جج ایس کے یادو نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ عرضی میں ہائی کورٹ کے ذریعہ ان کے پرموشن پر روک کا معاملہ اٹھایا گیا۔ ان کے پرموشن پر ہائی کورٹ نے روک لگا دی ہے۔ ہائی کورٹ نے اس لیے یہ روک لگائی ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ معاملہ کی سماعت کر رہے جج کا ٹرانسفر نہ ہو اور روزانہ سماعت ہو۔ جج کا کہنا ہے کہ ان کے پروموشن کو نہ روکا جائے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!