Published From Aurangabad & Buldhana

"ہندوستان کے انتخابات میں 1951 سے لے کر آج تک گائے کا مسئلہ ہمیشہ سے زیر بحث رہا ہے”

نئی دہلی : ہندوستان کے انتخابات میں 1951 سے لے کر آج تک ہمیشہ گائے کا مدعا زندہ رہا ہے ۔ 1951-52 میں جواہر لال نہرو کے مقابلہ میں پھولپور کی سیٹ سے سوامی پربھو دت برہمچاری میدان میں اترے تھے اور انہوں نے گائے کے تحفظ کے نام پر الیکشن لڑا تھا ۔ یہ باتیں مصنف و صحافی رشید قدوائی کی نئی کتاب "بیلٹ – ٹین ایپی سوڈ دیٹ ہیو شیپڈ انڈیاز ڈیموکریسی "میں کہی گئی ہیں۔

مصنف و صحافی رشید قدوائی

کتاب میں کہا گیا ہے کہ اندرا گاندھی کو بھی اس وقت گئو رکشکوں کے پرتشدد احتجاج کا سامنا کرنا پڑگیا تھا ، جب 7 نومبر 1966 کو پارلیمنٹ ہاوس کے باہر 8 سادھووں کا قتل کردیا گیا تھا ۔ اس واقعہ نے اندرا گاندھی کو سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس اے کےسرکار کی قیادت میں ایک کمیٹی کی تشکیل پر مجبور کردیا تھا تاکہ ملک بھر میں گائے کے ذبح پر پابندی عائد کرنے کے امکانات تلاش کئے جا سکیں۔ اندرا گاندھی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) کے سربراہ ایم ایس گولوالکر کو بھی اس کمیٹی کا ایک ممبر بنایا تھا۔ اس کمیٹی کے دیگر ممبران میں پوری کے شنکر آچاریہ وی کورین اور ماہر اقتصادیات اشوک مترا وغیرہ شامل تھے۔ اس کمیٹی کو شروعات میں اپنی رپورٹ سونپنے کیلئے چھ ماہ کا وقت دیا گیا تھا ، مگر اس میں مسلسل تاخیر ہوتی رہی اور بالآخر 1979 میں مرارجی دیسائی حکومت نے اس کو تحلیل کردیا۔

کتاب میں مزید کہا گیا ہے کہ دہائیوں بعد 2014 میں ایک مرتبہ پھر گائے کے ذبح کا معاملہ پوری شدت کےساتھ سامنے آیا اور ملک گائے کے تحفظ کے نام پر گئو رکشک گروپوں کے کئی پرتشدد واقعات کا گواہ بنا ، جس میں مخصوص مذہب اور ذات کے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔

قدوائی نے اپنی کتاب میں کہا ہے کہ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد جب 1984 میں آٹھویں لوک سبھا انتخابات کا اعلان کیا گیا تو اس وقت آر ایس ایس نے راجیو گاندھی کے زیر قیادت کانگریس کی حمایت کی تھی۔ آر ایس ایس کا یہ قدم کئی معنوں میں اہمیت کا حامل تھا ۔ ان کی نئی سیاسی پارٹی بی جے پی کی 1980 میں تشکیل ہوئی تھی اور 1984-85 کے انتخابات میں اس کو بڑی آزمائش کا سامنا تھا۔

کانگریس کے زیر قیادت یوپی اے کی تنزلی کے کچھ وجوہات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قدوائی نے اس کیلئے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی زیر قیادت حکومت کی ناکامیوں کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ کتاب میں کہا گیا ہے کہ یو پی اے کے دس سالہ دور اقتدار کے دوران کانگریس ہیڈکوارٹر نے نئی سوچ پیدا کرنے یا پارٹی کی جانب سے حکومت کو کوئی ٹھوس تجویز دینے میں بہت زیادہ تعاون نہیں کیا ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!