Published From Aurangabad & Buldhana

ہندوستان میں 91فیصد نجی کمپیوٹرس میں چوری کے سافٹ ویئر : مائیکرو سافٹ

مائیکرو سافٹ نے اس جانچ کے لئے امسال مئی سے جولائی کے درمیان میں 9ایشیائی ممالک سے نجی کمپیوٹر خریدے تھے

ممبئی: سافٹ ویئر کی مشہور کمپنی مائیکرو سافٹ کے مطابق اس نے ہندوستان سے جو نجی کمپیوٹر خریدیں ہیں ان میں سے 90%میں چوری کے سافٹ ویئر ہیں۔رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے ساتھ ایشیائی ممالک میں دیگر8ممالک ہیں جہاں پر اکثر نجی کمپیوٹر میں چوری کے سافٹ ویئر استعمال ہوتے ہیں۔

مائیکرو سافٹ نے یہ کمپیوٹر مئی سے جولائی کے درمیان خریدے تھے۔ جس کے بعد ان کی جانچ کی گئی، جانچ میں یہ بات پتہ چلی کہ ان 9ممالک سے حاصل شدہ نجی کمپیوٹروں میں سے 83%میں چوری کے سافٹ ویئر موجود ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق جہاں ان 9ایشیائی ممالک میں چوری کے سافٹ وئیر والے کمپیوٹر 83%ہیں وہیں ہندوستان میں یہ تناسب 91%ہے۔ ہندوستان کے بعد اس فہرست میں 90%کی تعداد کے ساتھ انڈونیشیاء پھر 73%کے ساتھ تائیوان، 55%کے ساتھ سنگا پور اور 43%کے ساتھ فلیپائن کا نام آتا ہے۔ اس فہرست میں سب سے خراب ریکارڈ جنوبی کوریا، ملیشیاء، ویتنام اور تھائی لینڈ کا جہاں کے 100%خریدے گئے نجی کمپیوٹروں میں چوری کے سافٹ وئیر پائے گئے ہیں۔

مائیکرو سافٹ کی معاون جنرل کاؤنسل اورڈیجیٹل جرائم کی ریجنل ڈائریکٹر میری جو شیراڈے کے مطابق اس جانچ اور سروے کے لئے مائیکروسافٹ نے 9ممالک سے 166نجی کمپیوٹر خریدے تھے، جن میں سے 22نجی کمپیوٹر ہندوستان کی الگ الگ دکانوں سے خریدے گئے تھے جن میں 20کمپیوٹر میں چوری کے سافٹ وئیر پائے گئے۔ گاہکوں سے اصلی سافٹ ویئر خریدنے کا مطالبہ کرتے ہوئے شیراڈے نے بتایا کہ چوری کے سافٹ وئیر استعمال کرنے سے وائرس اور ’مال وئیر ‘ خطرہ ہوتا ہے جو کہ ان 20کمپیوٹر میں سے 17کمپیوٹروں میں پایا گیا ہے۔ ان 9ممالک سے جو 166نجی کمپیوٹر حاصل کیے گئے تھے ان میں سے 137یعنی 83%کمپیوٹروں میں چوری کے سافٹ وئیر پائے گئے ہیں۔ واضح ہو کہ کمپیوٹر میں مال وئیر (Malware) کی وجہ سے ڈجیٹل جرائم ہوتے ہیں اور آپ سے آپ کی چیز چرائی جاسکتی ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!