Published From Aurangabad & Buldhana

ہندوستان ایشین چمپئنز ٹرافی کا مشترکہ فاتح

گیند بازخلیل احمد کی بہترین شروعات

عمان میں منعقد ایشین چمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ کے دوران اس بار ہندوستانی ٹیم جس شاندار کھیل کا مظاہرہ کر رہی تھی اس سے ایسا یقینی لگ رہا تھا کہ ہندوستان کو چمپئن بننے سے روکا نہیں جا سکتا مگر فائنل کے دن ہونے والی بارش نے ہندوستان کواکیلے چمپئن نہیں بننے دیا اور بارش کی وجہ سے میچ نہیں ہونے کی صورت میں ہندوستان اور پاکستان کومشترکہ فاتح قرار دیا گیا۔

مینجمنٹ کے فیصلے کے بعد ہندوستان نے ٹاس میں جیت حاصل کی اس لئے پہلے سال ٹرافی ہندوستان کے پاس رہے گی اس کے بعد آئندہ سال اسے پاکستانی ٹیم کے حوالے کر دیا جائے گا۔ہندوستانی خیمے میں اس بات پر ناراضگی تھی کہ فائنل کےلئے ایک متبادل دن ہونا چاہئے تاکہ اگر کسی وجہ سے میچ نہ ہو سکے تو اگلے دن میچ ہو جائے۔

ہندوستان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹورنامنٹ کے دوران زیادہ گول کرنے کی وجہ سے اسے مشترکہ فاتح قرار دئے جانے کے بجائے اکیلے فاتح قرار دیا جائے۔گزشتہ بار2016میں ہندوستان نے فائنل میں پاکستان کو شکست دے کر ٹرافی حاصل کی تھی۔

چونکہ ہندوستانی ٹیم کو ٹرافی ملی اس لئے گولڈ میڈل پاکستان کو دیا گیا جسے بعد میں ہندوستان کے حوالے کیا جائے گا۔ہندوستان کے آکاش دیپ کو پلیئر آف دی ٹورنامنٹ جبکہ سری جیش کو گول کیپر آف دی ٹورنامنٹ کا خطاب ملا۔لیگ میچوں کے دوران ہندوستان نے پاکستان کے شاندارخلاف جیت حاصل کی تھی اس لئے فائنل میں اس کی جیت کی پیشین گوئی کی گئی تھی مگر بارش نے ہندوستان کی امیدوں اور ہاکی ماہرین کی پیشین گوئی کو غلط ثابت کر دیا۔

2011 میں یہ ٹورنامنٹ اب تک پانچ مرتبہ ہی ہوا ہے اور ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ یہاں کسی دوسری ٹیم نے خطاب نہیں جیتا ہے۔ہندوستان اور پاکستان دونوں ہی ٹیمیں اب تین تین بارا یشین چمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ جیت چکی ہیں۔ اس بار مشترکہ چمپئن بننے کے علاوہ ہندوستان نے 2011اور2016میں جبکہ پاکستان نے2012اور2013میں اس ٹرافی پر قبضہ کیا تھا۔

ہندوستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلی گئی پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز ہندوستان نے 3-1سے جیت لی۔شروع میں تو ویسٹ انڈیز نے بہتر کھیل پیش کیا مگر بعد کے میچوں میں اس کی کارکردگی خراب رہی اور ہندوستان سیریز جیتنے میں کامیاب رہا۔کپتان وراٹ کوہلی مین آف دی سیریز قرار پائے۔

کوہلی اپنے ونڈے کیریئر میں ساتویں بار مین آف دی سیریز بنے ہیں۔ وہ اب ویوین رچرڈز، ہاشم آملہ، کرس گیل، یوراج سنگھ، سوربھ گانگولی اور رکی پونٹنگ جیسے کرکٹروں کہ فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جو سات سات بار مین آف دی سیریز منتخب ہوئے۔ون ڈے میں سب سے زیادہ مرتبہ مین آف دی سیریزکا ریکارڈ سچن تندولکر کے نام ہے جو اپنے کیریئر کے دوران 15 بار مین آف دی سیریزقرار پائے۔ سنت جے سوریہ گیارہ اور شان پولاک نو بار مین آف دی سیریزبنے ہیں۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سیریز کے دوران خلیل احمد کی بہترین گیند بازی نے سب کو متاثر کیا۔خود کوچ روی شاستری کہہ چکے ہیں کہ انہیں ایک بہتر گیند باز مل گیا ہے۔خلیل نے اب تک چھ ون ڈے میچ کھیلے ہیں جن میں انہوں نے گیارہ وکٹیں حاصل کی ہیں۔

واضح رہے کہ شروع کے چھ میچو ں میں یہ کمال ظہیر خان بھی نہیں کر سکے تھے۔راجستھان کے ٹونک سے تعلق رکھنے والے خلیل نے ہانگ کانگ کے خلاف اپنے پہلے ہی میچ میں تین وکٹ لئے تھے۔اس کے بعد افغانستان کے خلاف انہیں ایک وکٹ ملا اور اب ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے دوران انہیں سات وکٹیں ملیں۔آنے والے دنوں میں خلیل قومی ٹیم میں کب تک بنے رہتے ہیں اور ٹیم کےلئے کتنے بہتر ثابت ہوتے ہیں یہ دیکھنا بڑا دلچسپ ہوگا۔

ان دنوں ہندوستانی کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف جیت کے بعدنہ صرف اپنے کھیل کی وجہ سے سرخیوں میں ہے بلکہ ٹیم کے کھلاڑیوں نے انگلینڈ میں ہونے والے عالمی کپ کے دوران بورڈ سے کچھ ایسی ڈیمانڈ کی ہے جس سے ہر کوئی حیران ہے۔ساتھ میں بیوی یا محبوبہ رکھنے کا مطالبہ تو ٹھیک ہے مگر کھلاڑیوں نے یہ مطالبہ کرکے ہر کسی کو حیران کر دیا ہے کہ عالمی کپ کے دوران ان کے لئے مناسب تعداد میں دوسرے پھل ہو نہ ہوں مگر کیلوں کا انتظام ہونا چاہئے۔

ایسا مانا جا رہا ہے کہ انگلینڈ کے دورہ پر ہندوستانیوں کھلاڑیوں کو ضرورت کے حساب سے کیلے نہیں مل پائے تھے اس لئے وہ بورڈ سے اس بات یقینی بنا رہے ہیں کہ آئندہ انہیں کیلوں کی پریشانی نہ رہے۔

پاکستان کے سابق کپتان اظہر علی جنہیں چمپئنز ٹرافی جیتنے کا شرف حاصل ہے نے ون ڈے کرکٹ کو الوداع کہہ دیا ہے۔پاکستان کے لئے53ون ڈے میچ کھیلنے والے اظہر ٹسٹ میچ کھیلتے رہیں گے۔اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے تین سنچریوں اوربارہ نصف سنچریوں کی مدد سے 1845رن بنائے۔اظہر نے پہلا میچ 2011میں آئر لینڈ کے خلاف سب کہ آخری میچ اسی سال جنوری میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا۔اظہرنے بطور کپتان12 میچ جیتے اور 18میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!