Published From Aurangabad & Buldhana

ہم جنس پرستی کو سپریم کورٹ نے جائز قرار دے دیا

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک تاریخی فیصلے میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 377 کے التزامات کو غیر منطقی قرار دیتے ہوئے دو بالغوں کے درمیان باہمی رضامندی سے ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے باہر نکال دیا۔چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس روھنگٹن ایف نریمن اور جسٹس اندو ملہوترا کی آئینی بنچ نے دفعہ377 کے التزامات کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کا مشترکہ طور پر تصفیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایل جی بی ٹی طبقہ کو ہر وہ حق حاصل ہے ، جو ملک میں کسی عام شہری کو حاصل ہے ۔اس معاملے میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس روھنگٹن ایف نریمن، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس اندو ملہوترا نے الگ الگ مگر رضامندی کا فیصلہ سنایا۔ عدالت کا کہنا تھا، ”دفعہ 377 کے کچھ التزامات غیر منطقی اور من مانے ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا چاہئے ۔آئینی بنچ نے رقاص نوتیج جوہر، صحافی سنیل مہرا، شیف ریتو ڈالمیا، ہوٹل کاروباری امن ناتھ ، کیشو سوری اور کاروباری عائشہ کپور اور انڈین ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ (آئی آئی ٹی) کے 20 سابق اور موجودہ طالب علموں کی درخواستوں پر یہ فیصلہ سنایا۔ ان سب نے دو بالغوں کی طرف سے باہمی رضامندی سے ہم جنسی تعلقات قائم کرنے کو جرم کے دائرے سے باہر رکھنے کی درخواست کرتے ہوئے دفعہ 377 کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا تھا۔سب سے پہلے چیف جسٹس نے خود اور اپنے ساتھ جسٹس کھانولکر کی جانب سے اپنا فیصلہ سنایا اور کہا کہ ملک میں سب کو برابری کا حق ہے ۔ سماج کی سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ کوئی شخص اپنی شخصیت سے بچ سکتا نہیں۔ سماج میں ہر کسی کو جینے کا حق ہے ”۔آئینی بنچ نے عام رضامندی سے 158 سال کی پرانی تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کے اس حصے کو منسوخ کر دیا۔ عدالت نے تاہم، جانوروں اور بچوں کے ساتھ غیر فطری جنسی تعلقات بنانے کے جرم کے معاملے میں دفعہ 377 کے ایک حصے کو پہلے کی طرح جرم کے زمرے میں قائم رکھا ہے ۔عدالت نے کہا کہ دفعہ 377 ایل جی بی ٹی کے ارکان کو پریشان کرنے کا ہتھیار تھا، جس کی وجہ سے اس سے امتیازی سلوک ہوتا ہے ۔جسٹس نریمن نے الگ سے سنائے گئے فیصلے میں کہا کہ اس بنیاد پر کسی بھی طرح کا امتیاز بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور جہاں تک کسی ذاتی مقام پر باہمی رضامندی سے غیر فطری جنسی تعلقات بنانے کا سوال ہے تو نہ نقصان دہ ہے اور نہ ہی معاشرے کے لئے متعدی ہے ۔جسٹس نریمن نے اپنے فیصلے میں حکومت اور میڈیا گروپوں پر زور دیا کہ وہ عدالت عظمی کے اس فیصلے کی وسیع پیمانے پر تشہیر کریں ۔قابل ذکر ہے کہ ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے باہر رکھنے کا مسئلہ پہلی بار غیر سرکاری تنظیم ناز فاؤنڈیشن نے 2001 میں دہلی ہائی کورٹ میں اٹھایا تھا۔ ہائی کورٹ نے 2009 میں اپنے فیصلے میں دفعہ 377 کے التزامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ایسے رشتوں کو جرم کے دائرے سے باہر کر دیا تھا، لیکن ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سریش کوشل وغیرہ نے عدالت عظمی میں چیلنج کیا تھا، جس نے 2013 میں ہائی کورٹ کے ، فیصلے الٹ دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کے لئے دائر درخواست کو خارج کردیا تھا ۔ سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے بارے میں دائر کریکٹیو پیٹیشن اب بھی زیر التواء ہیں۔آئینی بینچ نے نوتیج جوہر اور دیگر کی طرف سے علیحدہ سے دائر رٹ پٹیشن کی چار دن کی مسلسل سماعت کے بعد گزشتہ 17 جولائی کو اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ عدالت عظمی نے کہا تھا، اگر ہم ہم جنس پرستی کو جرم کے دائرے سے باہر بھی کرتے ہیں، تب بھی کسی سے جبراً ہم جنس پرستی جرم ہی رہے گا۔

ہم جنس پرستی RSSکے نزدیک جرم نہیں!!!
آر ایس ایس کے آل انڈیا پرچارک ارون کمار نے کہاکہ "سپریم کورٹ کی طرح ہم بھی ایسے تعلقات کو جرم نہیں سمجھتے ہیں۔ تاہم، ہم جنس پرستی اور ان کے تعلقات فطری نہیں ہیں اور نہ ہی ہم اس قسم کے تعلقات کو فروغ دیتے ہیں”۔

ہم جنس پرستی مذہبی اور تہذیبی اقدار کے خلاف ۔ محمود مدنی
نئی دہلی، 6 ستمبر (یو این آئی) جمعےۃ علماء ہند نے ہم جنسی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہندوستان کے مذہبی اور تہذیبی اقدار کے خلاف قراردیا ہے ۔جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمودمدنی نے یہ بات کہی ہے ۔انہوں نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں دعوی کیا کہ ہمارامعاشرہ پہلے ہی جنسی جرائم اورتشددکے مسا ئل سے دوچارہے ،اب ایسے حالات میں ہم جنسی کی اجازت دینا نا قابل فہم ہے ۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو ۲۰۱۳ء میں دیے گئے اپنے فیصلے پر قائم رہنا چاہیے تھا جس میں ہم جنسی کے قانون کو باقی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔مولانا مدنی نے استدلال کیا کہ ہم جنسی فطرت سے بغاوت ہے ،اس سے بے راہ روی اور بے چینی پھیلے گی اور جنسی جرائم میں اضافہ ہو گا ۔

حسب امید بالی ووڈکی جانب سے ستائش
سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد حسب امید بالی ددڈ اداکاروں نے اس پورے معاملے کی ستائش کی۔ عامر خان نے اس موقع پر کہا کہ عدلیہ نے اپناکام کردیا ہے اب ہمیں اپنا کام کرنا ہے۔فلم ساز کرن جوہر نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے ٹوئیٹ کیا ہے کہ آج انہیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے نکال دیا گیا ہے۔۔۔ اس فیصلے سے ملک کو آکسیجن ملی ہے ۔

ملک اخلاقی تنزل کی جانب گامزن ہوجائیگا: جماعت اسلامی ہند
سیکشن 377پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق جماعت اسلامی ہند کے سیکریٹری جنرل محمد سلیم انجینئر نے کہا کہ ’’جماعت کو سپریم کورٹ کے اس فیصلہ سے مایوسی ہوئی ہے۔ اس سے قبل جماعت نے دیگر مذہبی رہنماؤں کے ساتھ مل کر دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے اسے جرم باقی رکھنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔آج کے اس فیصلے سے ملک اخلاقی تنزل کی جانب گامزن ہوجائیگا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے ملک کا خاندانی نظام بکھر جائیگااور فطرت کے بھی خلاف ہے۔جماعت اسلامی انسانوں کے بنیادی حقوق پر بھروسہ رکھتی ہے لیکن ہم شہریوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ آزادی کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری بھی آتی ہے۔

اسلام کے ساتھ عام سماجی حیثیت سے بھی نقصان دہ :مولانااسرارالحق قاسمی
نئی دہلی، 6ستمبر (یو این آئی) عدالتِ عظمی کے اس فیصلے پر افسوس جتاتے ہوئے ممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے کہاکہ عدالت کایہ فیصلہ آئندہ کے لئے اس ملک کے سماجی سسٹم اور اجتماعی ڈھانچے کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔مولاناقاسمی نے کہاکہ ہم صرف اس حیثیت سے ہم جنس پرستی کو غلط نہیں سمجھتے کہ اسلام نے اسے غلط قراردیاہے بلکہ عام سماجی نقطۂ نظر سے بھی ہم جنس پرستی ایک نقصان دہ عمل ہے اوراس سے خاندانی وعائلی نظام کے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہوجائے گا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!