Published From Aurangabad & Buldhana

ہر موسم کے قصور وار ۔ نہرو۔ پنڈت نہرو حاضر ہو‘ پنڈت نہرو حاضر ہو۔ ویڈیو

نئی دہلی۔ سال2003میں راشٹرایہ سیوم سیوک سنگھ( آر ایس ایس ) کے سربراہ کے ایس سدرشن نے مہاتماگاندھی کو ’’ دوغلطیوں‘‘ کے لئے مورد الزام ٹہرایا ۔ ایک خلافت تحریک کی حمایت کرنا اور دوسرا جواہرلال نہرو کو ملک کا پہلا وزیراعظم بننے کا موقع دینا۔

انہوں نے مزید کہاتھا کہ ’’ اس کے نتیجے میں دو دشمن پاکستان او ربنگلہ دیش ہمیشہ کے لئے بنادئے‘‘۔سال2014میں سنگھ کے ملالم ترجمان کیسری میں کہاگیاکہ ’’ گاندھی کے قتل اور ملک کی تقسیم جیسے قومی سانحات میں نہرو کی ذاتی سیاست کارفرماہے ۔

تقسیم ہند کے متعلق ناتھو رام گوڈ سے کے مباحثہ کی جانچ کے بعد ‘ اگر تاریخ کا مطالعہ کرنے والے طلبہ کے احساس میں گوڈسے کو غلط سمت لے جانے کام کرتے ہیں ‘وہ انہیں ذمہ دار نہ ٹہراسکیں۔

مکمل طور پر نہرو ملک کی تقسیم کے ذمہ دار ہیں‘‘۔تاہم بی جے پی کے سابق منسٹر ایم جے اکبر نے اپنی نہرو کی بائیوگرافکل کام ‘ دی میکنگ آف انڈیا میں کہا ہے کہ ’’ سردارپٹیل ہندوستان کے مضبوط شخص تھے انہوں نے نہرو سے قبل تقسیم ہند کے ائیڈیا کو بڑے پیار سے قبول کرلیاتھا‘‘۔

سال 2009میں اس کے وقت گجرات چیف منسٹر نریندر مودی نے سابق بی جے پی منسٹر جسونت سنگھ کی کتاب پر امتناع عائد کردیاتھا جس میں انہوں نے بانی پاکستان محمد علی جناح ‘ نہرو اور سردار پٹیل کو تقسیم ہند کو مساوی قصور وار قراردیاتھا۔

لوک سبھا میں پچھلے سال مودی نے کہاتھا کہ ’’ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ہر گز نہیں ہوتا اگر پٹیل( نہرو کے بجائے) ملک کے پہلے وزیراعظم بن جاتے‘‘۔

بی جے پی مسلسل نہرو کو دستور کے ارٹیکل 370کے لئے ذمہ دار ٹہراتی ہے ‘ جس نے جموں او رکشمیر کو خود مختاری کا اختیار دیا ہے ۔

یہ خود مختار سلطنتوں کی ہندوستان میں شمولیت کی شرط تھی۔ حالانکہ کچھ مصنفین کا یہ بھی ماننا ہے کہ پٹیل نے حیدرآباد( ضم ہونے سے قبل) یا مشرقی پاکستان کے بدلے کشمیر پر ہندوستان کے دعوی کو لٹکا کر رکھ دیاتھا ۔

مہاتما گاندھی کے پڑ پوترے راج موہن گاندھی نے اپنی سوانح عمری کی تحریر کے کام میں پٹیل ۔ ایک زندگی میں پٹیل کی ایک تقریر جو انہوں نے سلطنت کے انڈین یونین میں شمولیت کے بعد جونا گڑھ میں کی تھی کا حوالہ دیا لکھا کہ’’ ہم کشمیر کے رضامند ہوجائی ں گے اگر وہ ( پاکستان) حیدرآباد کے تیار ہوتے ہیں‘‘۔

بھارت کیسری ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی پر لکھی کتاب ۔ ماڈرن اثرات جس کو ایس سی داس نے تحریر کیاتھا میں لکھا ہے کہ پٹیل نے مشرقی پاکستان کے لئے کشمیر وادی پر بہت کم مفاہمت کی اور اس میںیہ کہ’’ وہاں پر ایک بات چیت اس حساس موضوع پر ڈاکٹر مکھرجی اور ہندوستان کے مرد آہن سردار پٹیل کے درمیان میں پیش ائی تھی‘‘۔ جن سنگھ کے بانی مکھرجی کو بی جے پی قابل ستائش قراردیتی ہے۔

پچھلے سال پوٹڈیچری میں مودی نے کہاتھا کہ ’’ ایک خاندان پچھلے 48سالوں سے راست یا بالراست اس ملک پر حکمرانی کرتا رہا ہے ۔ ہمارے سترہ سال کی وزیر اعظم کا دور بھی ہے اور اس کے بعد ان کی بیٹی کے چودہ سال اور بیٹے کے پانچ سال کا بھی دور اقتدار ہے‘‘۔

تاہم نہر واور اندرا گاندھی دونوں ہی جنگ آزاد ی میں سرگرم رول اد ا کرچکے ہیں ۔ نہ تو ان کی برقراری مسلسل تھی اور نہ ہی اس پر خود بہ خود کوئی بحث ہوئی تھی۔سال1947سے 1964ان کے انتقال تک نہرو وزیراعظم رہے ۔ ان کے بعد لال بہا در شاستری وزیراعظم بنے۔

اندرا گاندھی پہلی مرتبہ1966میں وزیراعظم بنیں۔

نہرو نے 1950میں امریکہ کی جانب سے ایک غیررسمی طریقے پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں مستقبل نشست کی پیشکش کو مستردکردیاتھا ‘ جس کا مطلب تھا کہ نو تشکیل شدہ جمہوری چین کی کمیونسٹ زیر قیادت عوامی جمہوری چین کے دعوی پر روک لگانا ہے۔

بعدازاں 1955میں سویت یونین کی جانب سے ٹھیک اسی طرح کی تجویز کو نہرو نے ٹھکرادیا۔نہرو ہندوستان کے لئے مستقبل نشست چاہتی تھی مگر اقوام متحدہ کی مقبولیت سے متاثرہوکر نہیں ۔ ان کاماننا تھا کہ چین کو نظر اندازکرنا خطرناک ثابت ہوسکتا تھا۔

کئی سالوں سے چین جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو بطور بین الاقوامی دہشت گرد قراردینے کی قرارداد کو کونسل میں اپنے ویٹو پاؤر کااستعمال کرتے ہوئے روک لگارہا ہے۔اس نے ممبئی دہشت گرد حملے کے ماسٹر مائنڈ ذکی الرحمن لکھوی کو جیل سے رہاکرانے کے لئے ہندوستان کی تجویز پر بھی اقوام متحدہ میں روک لگائی ہے ۔

لفٹنٹ جنرل ٹی بی ہینڈریسن بروکس اور برگیڈیر پریمندر سنگھ بھگت برائے انڈین آرمی نے چین کے ساتھ1962میں جنگ کا جائزہ لیاتھا۔سال2014میں اقتدار میںآنے سے کچھ قبل پارٹی کی ایم پی روی شنکر پرساد نے راجیہ سبھا میں کہاتھا کہ ’’ ہینڈریسن بروکس کی رپورٹ صحیح انداز میں منظرعام پر نہیں ائی ہے ۔ اس میں جواہرلال نہر و کو ذمہ دار ٹہرایاگیا ہے جو صحیح بھی ہے‘‘۔

بی جے پی اکثر کانگریس پر مذکورہ رپورٹ کو پیش کرنے میں ناکامی کا موردالزام ٹہراتے ہوئے اکثر تنقید کا نشانہ بناتی ہے ‘ اس رپورٹ کو آسڑیلیائی صحافی نیویلا ماکسویل نے منظر عام پر لایاتھا۔ اس رپورٹ میں نہرو حکومت کی تبت کے متعلق ’’ آگے جانے کی پالیسی ‘‘ اور فوج کی غیرمعمولی عجلت کو ذمہ دار قراردیاگیاتھا۔ اقتدار میں

آنے کے بعد بھی بی جے پی نے رپورٹ کو منظرعام پر لانے کاکام نہیں کیا اور فینانس منسٹر ارون جیٹلی نے اس پر لکھا اپنا ایک بلاگ پوسٹ بھی ہٹادیاتھا۔

سنگھ اور اس کی ملحقہ تنظیمیں نہرو کو گاؤ کشی پر امتناع کی مخالفت کرنے اور ان کی حکومت کے ہندو پرنسل لاء قائم کرنے میں رکاوٹ پیدا کرنے کے حوالے سے نہرو کو مسلسل نشانہ بناتے ہیں۔گاؤ ذبیحہ پر امتناع کے لئے لوک سبھا میں1954کو کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سیٹھ گوئند داس نے ایک قرارداد پیش کی۔

نہرو نے کہاکہ ’’ اس بے ہودے مطالبہ کو قبول کرنے سے بہتر میں استعفیٰ دیدوں گا‘‘۔نہرو کا ایک کارٹون جس میں انہیں گائے ذبح کرتے ہوئے دیکھا جارہا ہے جن سنگھ نے 1962کی انتخابی مہم میں مدھیہ پردیش میں تقسیم کیا۔

ہندو کوڈ بل کا مسودہ جس کے تحت ہندو خواتین کو جائیداد کے معاملے میں بہت زیادہ حقوق فراہم کئے جاتے ہیں دستوری اسمبلی میں پیش کئے جانے کے بعد ‘ ایک ’’ کل ہند مخالف ہندو کوڈ بل کمیٹی‘‘ ان کے مخالفین نے تشکیل دی اور سنگھ نے بل کے خلاف ریالیاں نکالتے ہوئے نہرو او رامبیڈکر کو اس کا ذمہ دار ٹہرایا۔ اسی سال میں سنگھ کے ترجمان آرگنائزر نے کہاکہ ’’ ہم ہندو کوڈ بل کی مخالفت کرتے ہیں‘‘

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!