Published From Aurangabad & Buldhana

ہر سال کی طرح امسال بھی اس میلے میں اردو کی شرکت آٹے میں نمک کے بربر

میلے میں آنے والوں کے لیے دو شرطیں تو لازمی کر ہی دینا چاہیے. ایک تو یہ کہ آنے والوں کو انسانوں کی طرح ہی آنا ہے. مطلب یہ کہ کپڑے پہن کر آنا ہے

نئی دہلی: 26 ویں عالمی کتاب میلے کے پانچویں دن (چھہ تا چودہ جنوری منعقدہ) جانے کا موقع ملا. اس سات روزہ کتاب میلے کا اہتمام نئی دہلی کے پرگتی میدان میں کیا گیا ہے، جس میں 8؍ ہزار پبلیشرز اور 40؍ ممالک کی شرکت نے سے با رونق بنا دیا ہے۔
کتاب میلے میں بڑی تعداد میں محبین کتب شرکت کر رہے ہیں، دانشوروں اور ادیبوں کی موجودگی اور کئی ادبی نشستوں کے اہتمام نے اس اجتماع کو ایک طرف اگر بہت پرکشش بنا دیا تو دوسری طرف یہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ سماج اور معاشرے میں محبان کتب کی تعداد میں بہت زیادہ کمی نہیں آئی ہے۔
ڈجیٹلائزیشن کے انسانی دنیا پر جہاں گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں وہیں کتابوں کی دنیا پر بھی اس کا خاصہ اثر پڑا ہے۔ ادھر کچھ عرصے سے کتابوں کو ڈیجیٹل کرنے کے سلسلے میں اضافہ ہوا ہے، چنانچہ گوگل کے ایک سرچ سے آپ لاکھوں ڈیجیٹل لائبریریاں اور ویب سائٹس دیکھ سکتے ہیں۔ اب تو تقریبا ہر ترقی یافتہ ممالک کی اپنی ڈیجیٹل لائبریری قائم ہو گئی ہے۔
ہر سال کی طرح امسال بھی اس میلے میں اردو کی شرکت آٹے میں نمک کے بربرا ہی رہی
سال بھر اردو ادب کے نام منعقد ہونے والے قورمہ بریانی کے پروگراموں کو دیکھتے ہوئے اندازہ تھا کہ اس میں اردو کا جلوہ دیکھنے کو ملے گا. مگر شاید وہاں حلوہ نہ ہونے وجہ سے قیاس غلط ثابت ہوا.
دہلی میں تیزی سے پھیل رہی فحاشی و عریانیت کی وبا سے یہ ادبی میلہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا. بہت سارے قوانین نہ سہی نہ کم از کم اخلاقی اقدار کو مد نظر رکھتے ہوئے ادبی میلے میں آنے والوں کے لیے دو شرطیں تو لازمی کر ہی دینا چاہیے.
ایک تو یہ کہ آنے والوں کو انسانوں کی طرح ہی آنا ہے. مطلب یہ کہ کپڑے پہن کر آنا ہے. دوسرے کہ سب کو اپنے اپنے کپڑے پہن کر آنا ہے، یعنی لڑکیوں کو لڑکوں کے کپڑے پہن کر نہیں آنا ہے اور نہ ہی لڑکوں کو لڑکیوں کے. باقی سب خیریت ہے
(بشکریہ ایشیاءٹائمز)

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!