Published From Aurangabad & Buldhana

ہرسول کی 1 ایکر 29 گنٹھے وقف اراضی پر ناجائز قبضہ مقدمہ ،ٹریبیونل ، ہائی کورٹ اورسپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد تیہرے بھائیوں کے خلاف چھاونی پولس میں شکایت

2016 میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ہونے کے باوجود مہاراشٹر وقف بورڈ اب تک خاموش کیوں رہا؟ شہریان کا سوال

اورنگ آباد ۱۱فروری (سینئر رپورٹر)درگاہ حضرت شیخن اولیاؒ نواب پورہ کی ہرسول کے سروے نمبر300 میں واقع 1 ایکر 29 گنٹھے وقف اراضی پر ناجائز قبضہ اور غیر قانونی تعمیرات کرنے کے ساتھ عدالتی حکم عدولی کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے بھی مذکورہ وقف اراضی ہونے پر مہر ثبت کرتے ہوئے ناجائز قبضہ کرنے والے بھاسکر ببن تیہرے اور پرمود تیہرے کو حکم دیا کہ مذکورہ وقف اراضی اندرون چھ ماہ پرامن طریقہ سے مہاراشٹر وقف بورڈکے قبضہ میں دے دیں۔ ساتھ ہی اس وقف اراضی پر مزید کوئی تعمیری کام نہ کریں ، یہاں تعمیرشدہ تمام املاک کے ساتھ وقف بورڈ کو یہ جگہ سپرد کریں۔ سپریم کورٹ کے اس حکم کے مطابق مہاراشٹر وقف بورڈ کے چیف ایکزیکٹیو آفیسر ایس سی تڑوی نے اورنگ آباد ڈسٹرکٹ وقف آفیسر کی معرفت چھاونی پولس اسٹیشن میں شکایت درج کرواکر بھاسکرتیہرے اور پرمود تیہرے کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ مہاراشٹر وقف ٹریبیونل اور ہائی کورٹ اورنگ آباد بنچ کے علاوہ سپریم کورٹ میں بھی تیہرے بھائیوں کی فریب دہی، ناجائز قبضہ اور عدالتی حکم عدولی ثابت ہونے کے باوجود چھاونی پولس نے متعلقین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے معاملہ کی جانچ کرنے اور تصدیق ہونے کے بعد کیس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ سید مظہرالدین سید یعقوب شطاری ہرسول میں واقع مذکورہ وقف اراضی کے 1972 سے متولی ہیں ۔ جنھوں نے گنورکر نامی کسان کو یہ اراضی 1985 میں زراعت کے لئے دی تھی۔ لیکن متولی اور مہاراشٹر وقف بورڈ کی عدم توجہی کے سبب گنورکر کی نیت میں کھوٹ آ گئی ۔ غفلت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے گنورکر نے2005 میں اس وقف اراضی کو اپنی ملکیت دکھا کر جعلی دستاویزات اور متعلقہ افسران کو رشوت دے کر بھاسکر تیہرے اور پرمود تیہرے کو فروخت کر دی تھی۔ متولی سید مظہرالدین اور ان کے وارثین کو اس غیر قانونی خریدو فروخت کا علم 2009 میں ہوا ۔تب تک تیہرے نے یہاں میونسپل کارپوریشن سے بلڈنگ پرمیشن لئے بغیرغیر قانونی طریقہ سے مکان، تین مندر اور دھرم شالہ کے علاوہ سوئمنگ پول اور پولس چوکی کا غیر قانونی تعمیر ی کام شروع کردیا تھا۔اطلاع ملتے ہی وقف بورڈ کی مدد سے متولی نے وقف ٹریبیونل میں اس تعلق سے مقدمہ دائر کروایا۔ ٹریبیونل میں سماعت جاری ہونے کے سبب تیہرے بھائیوں نے کچھ عرصہ تک تعمیری کام روکے رکھا مگر بعد میں پھر شروع کر دیا۔ وقف ٹریبیونل کی توجہ اس جانب مبذول کروائی گئی تب تیہرے بھائیوں کے خلاف حکم عدولی کا معاملہ بھی داخل کیا گیا۔ وقف ٹریبیونل نے 15-4-2013 کو متولی سید مظہرالدین کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ جس کے خلاف بھاسکر اور پرمود تیہرے نے ہائی کورٹ اورنگ آباد بنچ میں مقدمہ دائر کیا ۔ لیکن اورنگ آباد بنچ نے بھی حقائق کی بنیاد پر 26-7-2016 کو تیہرے بھائیوں کے دعوے کو مسترد کردیا۔ بعدازیں تیہرے بھائیوں نے سپریم کورٹ میں اس فیصلہ کو چیلینج کیا تھا۔ لیکن سپریم کورٹ نے بھی12-7-2016 کو اسے وقف اراضی قراردیتے ہوئے وقف بورڈ کو پرامن طریقہ سے لوٹانے کا تیہرے بھائیوں کو حکم دیا۔ 2016 میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے باوجود یہ معاملہ اب تک سردخانہ میں رکھا گیا ۔لیکن آزاد یوا بریگیڈ صدر مبین انصاری نے اس معاملہ میں ہلچل شروع کی تب موجودہ سی ای او تڑوی نے تیہرے بھائیوں کے خلاف چھاونی پولس میں کیس دائر کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!