Published From Aurangabad & Buldhana

گڈکری اور ان کی فیملی نے شیئر ہولڈروں کے کروڑوں روپے ہضم کیے!

دو لوگوں نے ناگپور عدالت میں ایک عرضی داخل کر الزام عائد کیا ہے کہ مرکزی وزیر نتن گڈکری نے ایک سوسائٹی کے 1330 شیئر ہولڈروں کے ساتھ دغا کیا اور کروڑوں کی ہیرا پھیری کی۔

ناگپور واقع چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک عرضی داخل کی گئی ہے جس میں مرکزی وزیر نتن گڈکری اور ان کے بیٹوں پر دھوکہ دہی، دغا بازی اور ہیرا پھیری کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ 7 اگست 2018 کو پیش اس عرضی میں عدالت سے ان کے اور کچھ دیگر لوگوں کے خلاف اس سے متعلق مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر کے مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی دہندہ 72 سالہ بھگوان داس راٹھی اور 62 سالہ اجے نامی دو اشخاص ہیں۔یہ معاملہ ایک سوسائٹی اور اس کو الاٹ کیے گئے خطہ ارضی سے متعلق ہے۔

اس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سوسائٹی کے بانی نتن گڈکری نے اس کے شیئر ہولڈروں کو مبینہ طور پر دھوکہ دیا ہے۔ 1988 میں پولیسیک انڈسٹریل کو آپریٹو سوسائٹی لمیٹڈ کے نام سے ایک سوسائٹی تشکیل کی گئی۔ نتن گڈکری کے پرموٹرشپ میں اس میں کل 1330 لوگ شیئر ہولڈر تھے جس میں عرضی دہندہ بھگوان داس راٹھی بھی ایک شیئر ہولڈر تھے۔اس درمیان مہاراشٹر حکومت کے ذریعہ سوسائٹی کو 24.77 لاکھ روپے دیے گئے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس کے بعد مہاراشٹر حکومت بھی اس سوسائٹی میں ایک شیئر ہولڈر بن گئی۔

بعد ازاں سوسائٹی کو مہاراشٹر انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم آئی ڈی سی) کی جانب سے 4950 اسکوائر میٹر کا پلاٹ 20 روپے فی اسکوائر میٹر کے حساب سے الاٹ کر دیا گیا۔ اس کا سالانہ کرایہ ایک روپے فی اسکوائر میٹر تھا۔عرضی دہندہ نے شیئر ہولڈروں کی جو فہرست منسلک کی ہے اس میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا نام بھی سوسائٹی کے شیئر ہولڈروں میں شامل ہے۔ ساتھ ہی مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور ان کے بھائی کا نام بھی اس سوسائٹی کے شیئر ہولڈروں کی فہرست میں ہے۔بھگوان داس راٹھی کی عرضی کے مطابق 2003 کے بعد سوسائٹی نے کام کرنا بند کر دیا۔ 23 ستمبر 2016 کو بھگوان داس راٹھی نے ایک آر ٹی آئی ڈال کر سوسائٹی کی حالت کے بارے میں ایم آئی ڈی سی سے جانکاری طلب کی۔

اس میں پتہ چلا کہ 2012 میں سوسائٹی کے پلاٹ کو ’پورتی سولر پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ عرضی دہندہ کا کہنا ہے کہ ’پورتی سولر سسٹم‘ نتن گڈکری کی ذاتی کمپنی ہے۔ الزام ہے کہ اسی پلاٹ کو گروی رکھ کر سارسوت بینک سے میسرس جی ایم ٹی مائننگ اینڈ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے لیے 42.83 کروڑ روپے کا قرض لے لیا جاتا ہے۔ عرضی دہندہ کے مطابق جی ایم ٹی کے مالکان میں نتن گڈکری کے دونوں بیٹے نکھل این گڈکری اور سارنگ این گڈکری شامل ہیں۔

اس سلسلے میں بھگوان داس راٹھی نے رجسٹرار کو آپریٹو سوسائٹی کے پاس آر ٹی آئی ڈال کر جانکاری طلب کی۔ اس کے جواب میں انھیں 8 مارچ 2017 کو بتایا گیا کہ ’’پلاٹ نمبر جے-17، ایم آئی ڈی سی، ہنگنا ناگپور کے ٹرانسفر یا پھر اس کے سارسوت کو آپریٹو بینک، ناگپور کو گروی رکھے جانے کی کوئی جانکاری دستیاب نہیں ہے۔‘‘ اس کے علاوہ اس میں بتایا گیا کہ سوسائٹی کے پاس پلاٹ کی قیمت کو جمع کرنے کی اطلاع نہیں ہے اور کو آپریٹو سوسائٹی سے کسی طرح کی اجازت بھی نہیں لی گئی۔بھگوان داس کے مطابق ضلع ڈپٹی رجسٹرار نے 19 اکتوبر 2016 کو انھیں بتایا تھا کہ کو آپریٹو سوسائٹی سے جڑی فیکٹری مارچ 2003 میں ہی بند ہو گئی تھی۔ 31 مارچ 2003 کے بعد سوسائٹی کی کوئی سالانہ رپورٹ دستیاب نہیں ہے۔

اس کے علاوہ سوسائٹی کے ذریعہ اکٹھا کیے گئے 24.77 لاکھ روپے کی بھی کوئی اطلاع دستیاب نہیں ہے۔اس کے پہلے بھگوان داس راٹھی نے اقتصادی جرائم برانچ یعنی ای او ڈبلیو میں کی گئی اپنی شکایت میں کہا تھا کہ اوپری حالات کو دیکھتے ہوئے یہ صاف طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ان کے جیسے شیئر ہولڈروں کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پلاٹ کو ’پورتی سولر سسٹم‘ کو منتقل کرنے سے پہلے حکومت کی اجازت نہ لیا جانا بھی اسی درجے میں آتا ہے۔

بھگوان داس کا کہنا ہے کہ ایک دوسری کمپنی جی ایم ٹی مائننگ اینڈ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ کو سارسوت بینک کے ذریعہ تقریباً 43 کروڑ روپے دیے جاتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ لین دین سوسائٹی کے عام اراکین کے بغیر لین دین کے ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ گڈکری اور ان کی فیملی نے مل کر نہ صرف دھوکہ دہی اور چیٹنگ کی بلکہ ایک بڑی رقم کو وہ ہضم بھی کر گئے۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ نہ ہی شیئر ہولڈروں کو مطلع کیا گیا اور نہ ہی کوئی جنرل باڈی میٹنگ بلائی گئی۔ یہاں تک کہ کو آپریٹو سوسائٹی کے ڈپٹی رجسٹرار سے کوئی اجازت لینا بھی ضرور نہیں سمجھا گیا اور 4950 اسکوائر میٹر کا پلاٹ غیر قانونی طریقے سے ’پورتی سولر سسٹم‘ اور اس کی معاون کمپنی جی ایم ٹی مائننگ اینڈ پاور لمیٹڈ کو منتقل کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی منتقلی سے قبل قرض حاصل کر لیا گیا۔ حیرانی کی بات ہے کہ سارسوت بینک کے ڈائریکٹر نے بغیر ریکارڈ کی جانچ کیے 42.83 کروڑ روپے جی ایم ٹی مائننگ اینڈ پاور لمیٹڈ کے مالکان کو دے دیا۔ بھگوان داس کا کہنا ہے کہ یہ پورا لین دین نتن گڈکری کی نگرانی میں ہوا۔

بھگوان داس نے بتایا کہ آر ٹی آئی کے ذریعہ سارے دستاویزات اکٹھا کر انھوں نے اس کی شکایت ای او ڈبلیو یعنی اقتصادی جرائم برانچ سے کی تھی۔ حالانہ عرضی میں درج تمام لوگوں کے خلاف سنگین جرم کا معاملہ بنتا ہے۔ لیکن ای او ڈبلیو نے اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی جگہ معاملے کو کو آپریٹو سوسائٹی کے ڈپٹی رجسٹرار کے پاس بھیج دیا۔ 20 دسمبر 2017 کو بھیجی گئی اس رپورٹ میں ای او ڈبلیو نے رجسٹرار سے ان کے محکمہ کا معاملہ بتا کر انھیں سپرد کر دیا۔

اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنی ذمہ داری سے پلّہ بھی جھاڑ لیا۔بھگوان داس کا کہنا تھا کہ جب انھیں لگا کہ بینک کے افسر اور ای او ڈبلیو افسر معاملے کی جانچ کرنے کی جگہ اسے رفع دفع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو انھوں نے ان کے خلاف ہی کارروائی کرنے کا عمل شروع کر دیا جس کے تحت انھوں نے کسی سرکاری ملازم کے خلاف اجازت لینے سے متعلق سی آر پی سی کے سیکشن 197 کے تحت حکومت کے متعلقہ محکمے میں درخواست تک کر دیا۔ اور اس کی کاپی کو آپریٹو سوسائٹی اور مختلف متعلقہ محکموں کے پاس بھیج دیا۔ایک دوسری حقیقت یہ ہے کہ ناگپور کا ہی ای او ڈبلیو 17 سال قدیم ایک ایسے زمین کے معاملے میں ایڈووکیٹ ستیش اوئیکے کو گرفتار کر لیا تھا جو بالکل بوگس تھا اور اس میں کہیں دور دور تک کوئی سچائی نہیں تھی۔ اور نہ ہی اوئیکے کے خلاف کوئی معاملہ بنتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ای او ڈبلیو کے خلاف کیس کر دیا ہے، جب کہ یہاں تو پورا معاملہ شیشے کی طرح صاف ہے اور ہر چیز کے ثبوت اور دستاویز موجود ہیں۔ لیکن ای او ڈبلیو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا ہوا ہے۔ اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو اسے یہاں بھی ویسا ہی دِکھنا چاہیے۔

’نیشنل ہیرالڈ‘ نے اس خبر سے متعلق کچھ سوال نتن گڈکری کو ان کا نظریہ جاننے کے لیے بھیجے ہیں جو اس طرح ہیں:

کیا آپ کو عدالت سے کوئی اطلاع ملی ہے؟
اگر ہاں، تو آپ نے عدالت کو کوئی رد عمل بھیجا ہے؟
کیا آپ عرضی میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے انکار کریں گے؟
اگر ہاں، تو کیوں 2003 سے شیئر ہولڈروں کی کوئی میٹنگ نہیں ہوئی؟
کیا آپ نے پلاٹ کو گروی رکھنے سے پہلے شیئر ہولڈروں سے کوئی صلاح و مشورہ کیا تھا، جس کا عرضی میں الزام لگایا گیا ہے؟
کیا کو آپریٹو میں مہاراشٹر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت اس کے شیئر ہولڈر ہیں؟
کیا آپ نے پلاٹ کو گروی رکھنے سے قبل بھاگوت جی اور فڑنویس جی سے صلاح مشورہ کیا؟
عرضی دہندہ نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت کی مدد سے آپ نے ثبوتوں کو ختم کر دیا۔ آپ کے اس الزام پر کیا رد عمل ہے؟

جیسے ہی ان سوالات کے جواب گڈکری دیں گے، اس خبر سے آپ کو مطلع کیا جائے گا۔

(بشکریہ: قومی آوازویب سائٹ)

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!