Published From Aurangabad & Buldhana

شیو سینا نے نوراتری کے عنوان سے جبراً بند کرائی 400؍ گوشت کی دکانیں

گروگرام میں مسجد کے بعد گوشت کی دکانوں پر غنڈہ گردی

گروگرام: دہلی کے قریب واقع حو پی کا ضلع گروگرام اپنے فرقہ وارانہ تنازعہ کے سبب مستقل خبروں میں رہ رہا ہے۔ حال ہی میں بھگوا تنظیموں کی جانب سے مساجد پر غنڈہ گردی اور کھلے میں مسلمانوں کو نماز نہ پڑھنے دینے سے پریشانی موجود تھی کہ اب نوراتری کے تہوار کے شروع ہوتے ہی شدت پسند بھگوا تنظیموں نے جبراً400گوشت و مرغی کی دکانوں کو بند کروایا ہے۔

شیو سینا گروگرام کے صدر گوتم سائینی نے میڈیا سے بتایا کہ مندر میں مختلف ہندو تنظیمیوں جمع ہوئی تھی جس کے بعد تقریباً 300ممبران نے راستوں پر ریلی نکال کر گوشت کی دکانوں کو جبراً بند کرایا۔ سائینی نے کہا ’’ ہم نے گروگرام کے سیکٹر 4,5,7,9,10,21,22، پلم وہار، بادشاہ پور، اوم وہار، سورت نگر، صدر بازار، اناج منڈی دھنواپوراور دیگر رعلاقوں پر پہنچ کرزبر دستی گوشت کی دکانوں کو بند کروایا‘‘۔ سائینی بتایا کہ 50فیصد دکانیں تو پہلے ہی سے بند ہوچکی تھیں۔ واضح ہوکہ گروگرام میں 3000کے قریب گوشت و مرغی کی دکانیں ہیں۔

ہندو سینا کے ریاستی صدر ریتو راج نے کہا کہ ہندو تنظیمیں نوراتری کے موقع پر اس طرح کی کوشیشیں کرتی رہیں گی‘‘۔ انکے حساب سے ان چیزوں سے ہندو جذبات کوٹھیس پہنچتی ہے اس لئے کہ ہندوؤں کی اکثریت گوشت کھانے سے پرہیز کرتی ہے۔ شیو سینا ممبر سنجئے ٹھکرال نے کہا کہ ’’ ہم نے تمام ہوٹلوں، دھابوں اور دیگر کھانے کے مقامات کو بھی نوٹس روانہ کی ہے جس میں انہیں نوراتری کے دنوں میں گوشت والا کھانہ لوگوں کو نہ دینے کی ہدایت دی ہے‘‘۔

بھگوا تنظیموں نے گروگرام کے نائب کمشنر ونئے پرتاپ سنگھ کو میمورنڈم پیش کیا ہے جس میں گوشت کی دکانوں کو 9دنوں کے لئے بند کرانے کی درخواست کی ہے۔ بھگوا تنظیموں کی جانب سے ریلی کے دوران تنازعہ پیدا ہونے سے پولس نے ریلی کے 4لوگوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ گروگرام پولس کے عوامی روابط افسر شبھم بوکن نے بتایا کہ ’’ ہم نے ریلی کے دوران ہندو تنظیموں کے 4لیڈران کو گرفتار کیا ہے۔ انکے خلاف FIRبھی درج کی جاچکی ہے‘‘۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!