Published From Aurangabad & Buldhana

کیرالہ سے کو رونا وائرس سے متاثر ایک اور شخص کی ہوئی تصدیق،ہندوستان نے دوسرے مرحلے میں 323بھارتیوں کوووہان سے بھارت لایا

نئی دہلی : چین کے ووہان شہر سے 323 ہندوستانی مسافروں کو لے کر ایئرانڈیا کا دوسرا خصوصی طیارہ اتوار کی صبح نئی دہلی ہوائی اڈے پہنچ گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او) کی جانب سے مہلک کورونا وائرس کے حوالہ سے عالمی صحت ایمرجنسی نافذ کئے جانے کے بعد ووہان سے آج ہندوستانی شہریوں کو ایئر انڈیا کے دوسرے خصوصی طیارے سے دہلی لایا گیا۔ اس سے پہلے سنیچر کے روز وہان سے 324 ہندوتانیوں کو دہلی لایا گیا تھا۔


چین میں اس مہلک وائرس سے اب تک 300 سے زیادہ لوگوں کی موت ہو گئی ہے جبکہ ہندوستان کے کیرالہ میں اس وائرس میں مبتلا دو مریضوں کا معائنہ کرنے پر ان میں نمونے پازیٹو پائے گئے۔ مرکزی وزارت صحت نے اتوار کو یہ معلومات دی۔ وزارت کے مطابق، مریض کو وارڈ میں تنہا رکھا گیا ہے۔ فی الحال مریض کی حالت مستحکم ہے اور اس کی صحت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ یہ مریض چین کے دورے سے وطن لوٹا تھا۔


اس سے قبل 30 جنوری کو کیرالہ میں پہلے کورونا وائرس کیس کی تصدیق ہوئی تھی۔ چین کے صوبہ ووہان سے واپس آنے والی ایک خاتون کورونا وائرس میں مبتلا پائی گئی تھی۔ کیرالہ کی وزیر صحت کے کے سیلجا نے کہا تھا کہ وائرس میں مبتلا مریض کو تھرسور اسپتال سے تھرسور میڈیکل کالج منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ ریاست میں 15 افراد کو ڈاکٹروں کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

ادھر، کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر چین میں مقیم ہندوستانیوں کو وطن واپس لانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کے روز 323 ہندوستانیوں کو لے کر ایئر انڈیا کا دوسرا طیارہ نئی دہلی ایئرپورٹ پر پہنچا۔ ایئر انڈیا کے خصوصی طیارے نے ووہان سے آج صبح تین بج کر 10 منٹ پر پرواز بھری اور صبح نو بج کر 45 منٹ پر نئی دہلی ہوائی اڈے پر اترا۔


کورونا وائرس کیا ہے اور اس کی علامات کیا ہیں؟
کورونا وائرس ایک وائرل بیماری ہے جو چین میں بڑے پیمانے پر پھیل رہی ہے۔ آہستہ آہستہ یہ وائرس دوسرے ممالک میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس بیماری کی علامات بخار، کھانسی، نزلہ اور گلے کی سوزش ہیں۔ جب حالت زیادہ سنگین ہوجاتی ہے تو مریض نمونیا میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اسے سانس لینے میں تکلیف ہونے لگتی ہے۔

کورونا وائرس سے کیسے بچیں؟
کورونا وائرس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق احتیاط اور چوکسی کے ساتھ اس سے آسانی سے بچا سکتا ہے۔ فی الحال کورونا وائرس کی کوئی مخصوص دوا یا ویکسین موجود نہیں ہے۔ تاہم، اس کا علاج علامات کی بنیاد اور ڈاکٹروں کے مشورے سے ہوتا ہے۔

قومی آوازبیورو

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!