Published From Aurangabad & Buldhana

کیا ’لو جہاد‘ قانون دوسرے مذاہب میں شادی کرنے والے بی جے پی لیڈران پر نافذ ہوگا: بھوپیش بگھیل

ان دنوں ’لو جہاد‘ کے خلاف قانون بنانے کو لے کر بی جے پی حکمراں کچھ ریاستوں میں ہو رہی تیاریاں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہیں۔ کئی سیاسی لیڈروں کا اس طرح کے قانون کے خلاف اور حق میں رد عمل سامنے آ چکا ہے۔ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے آج اپنی رائے ظاہر کی۔ انھوں نے بی جے پی لیڈروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سیدھے یہ سوال داغ دیا کہ ’’پہلے یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ جن بی جے پی لیڈروں نے دوسرے مذاہب میں شادی کی ہے، ان پر ’لو جہاد‘ قانون نافذ ہوگیا یا نہیں؟‘‘

بھوپیش بگھیل نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’بدقسمتی ہے کہ جو پبلک ادارے جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی نے شروع کیے تھے، وہ سب اب پرائیویٹ ہاتھوں میں جا رہے ہیں۔ اس کا نقصان ملک کو ہو رہا ہے۔ اب (مرکزی حکومت) صرف ہندو-مسلمان اور طلاق ثلاثہ میں لگے ہیں، اور اب ’لو جہاد‘ آ گیا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’لو جہاد آ گیا تو ذات سے باہر شادی کرنے والوں پر قانون بنانے کی بات ہو رہی ہے۔ بی جے پی کے ان لیڈروں پر ’لو جہاد‘ نافذ ہوتا ہے کہ نہیں جنھوں نے دوسرے مذہب میں شادی کی ہے۔‘‘

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ نے بی جے پی کے کچھ لیڈران کے نام بھی شمار کرائے جنھوں نے دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین سےشادی کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’مرلی منوہر جوشی ہیں، سبرامنیم سوامی ہیں، اڈوانی جی ہیں، ان لوگوں پر ’لو جہاد‘ قانون نافذ ہوتا ہے یا نہیں… پہلے تو یہی پوچھنا چاہیے۔ یہ صرف تقسیم کرنے کا کام کر رہے ہیں، لوگوں کو کیسے جوڑنا ہے، کیسے بڑھانا ہے، اس پر کام نہیں ہو رہا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ اس سے پہلے راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے ’لو جہاد‘ کو لے کر بی جے پی پر حملہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ بی جے پی نے یہ لفظ فرقہ وارانہ خیر سگالی کو بگاڑنے کے مقصد سے تیار کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یو پی کی یوگی حکومت اس قانون کو نافذ کرنے کی تیاری میں ہے۔ علاوہ ازیں مدھیہ پردیش حکومت نے بھی کہا تھا کہ اس کو لے کر اسمبلی اجلاس میں بل لانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

قومی آواز بیورو

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!