Published From Aurangabad & Buldhana

کچرا ڈپو کیلئے کھدان کی جگہ دینے کلکٹر رضامند

16 جنوری سے نارے گاؤں کچرا ڈپو پر نہیں جانے دیں گے کچرے کے ٹرک :دیہی عوام

اورنگ آباد ۱۲؍جنوری (سینئر رپورٹر)نارے گاؤں ڈمپنگ گراؤنڈ پر موجود کچرا نکاسی اور متبادل نظم کے لئے میونسپل انتظامیہ کو دی گئی تین مہینوں کی معیاد 16 جنوری کو ختم ہو رہی ہے ۔ اب انتظامیہ کو مزید مہلت نہیں دی جا سکتی۔16 جنوری کے بعد نارے گاؤں کچرا ڈپو پر ایک بھی کچرے کی ٹرک کو آنے نہیں دیا جائے گا، نارے گاؤں اور مقامی دیہی عوام نے یہ انتباہ دیا ہے۔ اس ضمن میں آج میونسپل کمشنر ڈی ایم مگلیکر سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے اطلاع دی کہ اول تو یہ کہ دی گئی مہلت کے دوران ہم نے متبادل انتظام کے لئے دیانتدارانہ کوششیں کیں ۔ ہم مظاہرین کو پھر سمجھانے کی کوشش کریں گے۔ اس کے علاوہ نارے گاؤں کے دیہی عوام کے مذکورہ انتباہ اور احتجاج کے پیش نظر ضلع کلکٹر کومکتوب ارسال کرکے شہر کے مضافات میں واقع پہاڑیوں کی کھدانوں میں کچرا ڈالنے کی اجازت مانگی گئی ہے ۔ ضلع کلکٹر نول کشور رام چونکہ اس مسئلہ سے بخوبی واقف ہے اس لئے انہوں نے کھدان میں کچرا ڈالنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ عین ممکن ہے کہ کل یا پرسوں تک کلکٹر آفس سے باقاعدہ تحریری اجازت مل جائے ۔ نامہ نگاروں کو تفصیلات بتلاتے ہوئے کمشنر مگلیکر نے کہا گذشتہ ڈھائی مہینوں کے دوران ہم نے ہر ممکنہ اقدامات کئے ۔ افسران و عہدیداران وفدنے چین دورہ کیا ۔ نئی ممبئی کے پروسیسنگ پلانٹ کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ دو تین ایجنسیاں بھی نارے گاؤں کچرا ڈپو پر موجود 20 لاکھ میٹرک ٹن کچرے کو سائنٹفک طریقہ سے ختم کرنے کی خواہاں ہیں ۔ آج ہی چین کی ایک ایجنسی نے اسی ضمن میں پاور پوائنٹ پرزنٹیشن پیش کیا ۔ اس ایجنسی نے کچرے پر پروسیسنگ کے لئے صرف 5 کروڑلاگت پر مشتمل منصوبہ پیش کیا ہے ۔ یومیہ 30 میٹرک ٹن کچرے پر پروسیسنگ کا ڈی پی آر بھی تیار کیا ہے ۔ حکومت سے منظوری ملنے پر فوری کام شروع کر دیا جائے گا۔ اس مرحلہ کی تکمیل میں کم و بیش دو ماہ لگیں گے، یہ اطلاع بھی کمشنر مگلیکر نے دی۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!