Published From Aurangabad & Buldhana

کمپوسٹنگ کی مخالفت نہ کریں، مضراثرات نہ ہونے کی گارنٹی ہماری: کلکٹر

*ڈمپنگ لفظ انتظامیہ کی ڈکشنری سے خارج ہو چکا ہے اب کچرے پر صرف پروسیسنگ ہوگی *57 کمپوسٹنگ پوائنٹ سے 1 ہزار ٹن کھاد تیار،کمپوسٹنگ کیلئے102 نئی اراضیات کی نشاندہی

اورنگ آباد 17 مارچ (سینئر رپورٹر)ڈمپنگ لفظ انتظامیہ کی ڈکشنری سے ہمیشہ کے لئے خارج کر دیا گیا ہے ۔ اب کچرے پر پروسیسنگ کو عدالت اور حکومت نے لازمی قرار دیا ہے ۔ لہذا شہریان اورنگ آباد اپنے حلقہ میں واقع میونسپل اور سرکاری اراضیات پر کمپوسٹنگ کرنے کی مخالفت نہ کریں۔ کچرے پر کمپوسٹنگ سے کسی بھی طرح کے کوئی مضر اثرات مرتب نہیں ہوں گے ۔ نہ بدبو کا مسئلہ ہوگا، نہ مکھیوں و مچھروں کا ۔ میں بحیثیت ضلع کلکٹر اس بات کی گارنٹی لیتا ہوں۔ کچرا نکاسی مسئلہ حل کرنے کی خاطر انتظامیہ نے شہر میں 102 مقامات کی نشاندہی کی ہے، ان سبھی جگہوں پر کمپوسٹنگ کرنے دیں، اس طرح کی اپیل ضلع کلکٹر و ایڈیشنل میونسپل کمشنر نول کشور رام نے کی ۔ کچرے کے متعلق منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کچرا نکاسی کی منصوبہ بندی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا گذشتہ 27 دنوں سے شہر میں موجود 1500 میٹرک ٹن کچرے کو کچھ اراضیات پر ڈالے جانے اور کمپوسٹنگ کی جانے کے سبب ختم ہوا لیکن 340 ٹن کچراروزانہ نکل رہا ہے، اس میں سے بھی کمپوسٹنگ کے باوجود آج 1829 میٹرک ٹن کچرا راستوں، کھلی اراضیات اور ٹرکوں میں پڑا ہوا ہے۔ اس کچرے کی نکاسی ہمارا سب سے بڑا چیلینج ہے ۔گوکہ فی الحال شہر میں 57 مقامات پر کمپوسٹنگ جاری ہے ۔ جن سے اب تک 1000 ٹن کھاد تیار بھی ہو چکی ہے ۔کلکٹر نے کہا وارڈ آفیسر س کو 3 لاکھ تک کے اختیارات دینے کے علاوہ ایمرجنسی حالات میں بڑے سے بڑا فیصلہ کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ البتہ اس کام سے قبل کمشنر کو مطلع کرنا لازمی ہوگا۔ کلکٹر نے مزید کہا افسوس کی بات ہے کہ راستوں اور ڈیوائیڈرس پر قریبی مکانات اور ہوٹلوں کا کچرا رات کے وقت ڈالا جا رہا ہے ۔ اسی لئے 100 نئے ٹیمپو مہیا کروائے جائیں گے ۔نول کشور رام نے اطلاع دی کہ اسی ضمن میں کل این جی اوز اور سوشل ورکرس کی مشترکہ میٹنگ طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ نارے گاؤں کو ڈمپنگ گراؤنڈ بنانا اور اس کچرے پر کسی طرح کا کوئی پروسیس نہ کرنا بہت بڑی غلطی تھی ۔ کچرانکاسی کا موجودہ مسئلہ انتظامیہ کی عدم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ شہرمیں مختلف اراضیات پر کمپوسٹنگ کے علاوہ ہمیں 2 ہزار میٹرک ٹن کچرے پر پروسیسنگ کے لئے دو تا تین ایکر وسیع اراضی بھی درکار ہوگی ۔ اگر یہ جگہ مل جاتی ہے تو ایک ہی دن میں پورے شہر کا کچرا ہٹا دیا جائے گا۔ لیکن یہ طئے ہے کہ اب کہیں پر بھی ڈمپنگ گراؤنڈ نہیں بنے گا بلکہ ہر جگہ پروسیسنگ ہوگی۔شہریان کو ذہنیت بدلنی ضروری ہے ۔ کیونکہ ابھی تک کچرے کے سبب پیدا شدہ حالات قابو میں ہیں، مگر مستقبل قریب میں تشویشناک ہو سکتے ہیں ۔ اس وقت لوگوں کو خود احساس ہوگا اور وہ ذہنیت بدلنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ کلکٹر نے کہا چونکہ سابقہ تجربہ اور اب تک پروسیسنگ نہ کئے جانے کے باعث لوگ ہر جگہ مخالفت کر رہے ہیں ۔ انہیں اعتماد میں لیا جائے گا اور ان کے تحفظ کی گارنٹی لی جائے گی۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!