Published From Aurangabad & Buldhana

کلمنوری ضلع ہنگولی میں شریعت بچاؤ تاریخ سا زریلی ،ہزاروں خواتین وافرادکی شرکت

ڈپٹی کلکٹر وتحصیلدار کی مبینہ غیر حاضری ،کرسی کو یادداشت پیش کی گئی

کلمنوری( نامہ نگار)ہنگولی ضلع کے کلمنوری شہر میں شریعت بچاؤ احتجاج سمیتی کی جانب سے خواتین کی ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی۔ اس دوران کلمنوری شہر میں مکمل بند رکھ کر اس ریلی کووہاں کے عوام نے کامیاب بنایا۔ لیکن جہاں ایک طرف مرکزی حکومت اس بابت سنجیدہ نہیں ہے وہیںآج ضلع انتظامیہ بھی اس بابت پرغیر سنجیدہ نظر آیا کیونکہ جس وقت مرد وخواتین کا مورچہ دفتر تحصیل پہنچا تووہاں پرنہ ڈپٹی کلکٹر موجود تھے نہ تو تحصیلدار موجود تھے بالآخر خواتین نے ڈپٹی کلکٹر کی کرسی پراپنا مطالباتی محضر چسپاں کر دیا۔ صبح گیارہ بجے اس ریلی کا آغاز رضا میدان سے ہوا۔ اس احتجاجی ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین وبچیوں نے شرکت کی۔یہ ریلی شہر کے مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے دفتر تحصیل پہنچی ۔جہاں پرخواتین نے اپنے خطابات کے ذریعے اپنے احساسات پیش کئے خواتین نے اپنے خطاب میں کہاکہ مرکزی حکومت در اصل جان بوجھ کر مسلم خواتین کو تحفظ کے نام پربدنام کررہی ہے اور خواتین کا سہارا لیکر شریعت میں مداخلت کر رہی ہے۔ حکومت جو تین طلاق بل لیکرآئی ہے وہ سراسر غلط ہے۔یہ بل خواتین کے تحفظ کا نہیں بلکہ خواتین کیلئے نقصاندہ ہے۔اس لئے حکومت قطعی طور پرشریعت میں مداخلت نہ کرے اور شریعت مخالف بل کو فوری ردکرے ورنہ اس سے بڑے پیمانے پر احتجاج کا انتباہ بھی دیا گیا۔ مسلسل تین گھنٹے دفتر تحصیل کے سامنے خواتین نے راستہ روکو کیا جس کی وجہ سے شہر میں داخل ہونے والی گاڑیاں اور شہر سے باہر جانے والی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ خواتین نے اپنے خطابات کے دوران یہ بات واضح کردی کہ مرکزی حکومت چند نام نہاد مسلم خواتین کو سامنے پیش کرکے خود کو ان کی حمایت میں بتا رہی ہے لیکن اس ملک کی کروڑوں خواتین اس بل کی مخالفت کرتی ہیں۔ اسلئے اب حکومت سنبھل جائے اور اسلام کی سچی تصویر کو بگاڑنے کی کوشش نہ کرے۔اس احتجاجی جلوس سے شہر کی آٹھ تا دس خواتین نے خطاب کیا اور سبھی نے متحد ہوکر طلاق مخالف بل کی مذمت کی اور اپنا غصہ ظاہر کیا۔فردوس فاطمہ، حبیبہ ناز، غزالہ یا سمین وغیرہ پرمشتمل خواتین کا ایک وفد ڈپٹی کلکٹر کو میمورنڈم دینے کیلئے دفتر پہنچا تو وہاں نہ ڈپٹی کلکٹر تھے اور نہ ہی تحصیلدار اس بابت مسلم خواتین نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور اپنامطالباتی محضر ڈپٹی کلکٹر کی کرسی پرچسپاں کر دیا۔اس موقع پرخواتین نے کہاکہ جہاں مسلم خواتین کیلئے مرکزی حکومت غیر سنجیدہ ہے اب اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ انتظامیہ کے لوگ بھی کتنے غیر سنجیدہ ہے ۔انکا کہناتھا کہ انتظامیہ کو کئی روز قبل ہی اس بابت اطلاع دی جا چکی تھی۔ اس کے باوجود کوئی بھی افسر یہاں موجود نہیں رہا۔دوسری خاص بات یہ ہے کہ شہر کے تمام علماء کرام اورحفاظ کرام بھی اس ریلی میں شامل تھے اور تمام لوگ خواتین کے پیچھے پیچھے ریلی میں شامل رہے۔مسلم کاروباریوں نے مکمل طور پراپنے کارباری ادارے بند رکھے تھے۔ اس موقع پرپولس کا سخت بند وبست تعینات کیا گیا تھا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!