Published From Aurangabad & Buldhana

کشمیر کے ہلال احمد ’رافیل‘ اڑانے والے بھارت کے پہلے پائلٹ

نئی دہلی : ایک لمبے وقت کے انتظار کے بعد بھارت کی فضائیہ میں فرانس میں تیار پانچ رافیل لڑاکو جہاز آج شامل ہونے والےہیں۔ ویسے ان جہازوں کی خرید وفروخت میں بہت سے نام سنے ہوں گے لیکن ایک نام ایسا بھی ہے جس کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہوں گے۔ ایئر کوموڈور ہلال احمد جو نہ صرف بھارت کے فرانس میں ایئر اٹیچی ہیں بلکہ ان کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ رافیل اڑانے والے وہ پہلے بھارت کے پائلٹ ہیں۔

ہلال احمد جن کا تعلق کشمیر کے جنوبی آننت ناگ ضلع سے ہے ان کی تین بہنیں ہیں اور وہ ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کےوالد مرحوم محمد عبداللہ جموںو کشمیر کے محکمہ پولیس میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ ان کی تعلیم جمو ں و کشمیر کے نگروٹا شہرکے سینک اسکول میں ہوئی ہے۔ انہوں نے گریجیوویشن ڈفینس سروسز اسٹاف کالج سے کیا۔

17 جولائی 1988 کو انہوں نے انڈین ائیر فورس میں جوائن کیاتھا اور وہ ایک بہترین فلائنگ آفیسر ہیں۔ سال 1993 میں فلائٹ لیفٹیننٹ بن گئے، سال 2004 میں ونگ کمانڈراور سال 2014 میں گروپ کیپٹین اور سال 2019 میں ایئر کوموڈور بن گئے۔ ان کو اپنی بہترین کارکردگی کے لئے وایوسینا میڈل اور وششٹ سیوا میڈل مل چکا ہے۔ ہلال احمد رافیل کے ہتھیاروں کےپروگرام سے منسلک رہے ہیں۔

واضح رہے یوپی اے کے دورحکومت میں رافیل لڑاکو جہاز کاسودا شروع ہواتھا جس کے تحت سوسے زیادہ جہاز خریدے جانے تھے اور ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی بات ہوئی تھی جس میں بھارت ایرونوٹکس لمیٹد مرکزی کردار میں تھا لیکن بعد میں جب این ڈی اے حکومت نے معاہدہ کیاتوجہازوں کی تعداد 36 کردی گئی اور بھارت ایرونوٹکس لمیٹد کا کردارختم کر دیا گیا۔

قومی آوازبیورو

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!