Published From Aurangabad & Buldhana

کشمیر میں سیکورٹی وجوہات کی بناء پر ریل خدمات ایک بار پھر معطل

سری نگر: وادی کشمیر میں چلنے والی ریل خدمات ہفتہ کو ایک دن کے لئے معطل کردی گئیں۔ یہ خدمات جمعہ کو ایک روز کی معطلی کے بعد بحال کی گئی تھیں۔ ریل خدمات ظاہری طور پر جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے کھرم سری گفوارہ میں جمعہ کے روز دہشت گردوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ہوئے مسلح تصادم میں 4 دہشت گردوں اور ایک عام شہری کی ہلاکت اور جھڑپوں میں تقریبا دو درجن لوگوں کے زخمی ہونے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے خدشہ کے پیش نظر احتیاطی طور پر معطل کی گئی ہیں۔

مسلح تصادم کے دوران ریاستی پولیس کا ایک کانسٹیبل بھی جاں بحق ہوا تھا۔ ریلوے کے ایک سینئر عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’ہم نے ریاستی پولیس کے مشورے پر آج (ہفتہ کو) چلنے والی تمام ٹرینوں کو منسوخ کردیا ہے‘۔ انہوں نے بتایا ’بارہمولہ اور سری نگر کے درمیان کوئی ٹرین نہیں چلے گی۔ اسی طرح سری نگر اور بانیہال کے درمیان بھی کوئی ٹرین نہیں چلے گی‘۔ انہوں نے بتایا کہ ریل خدمات کی معطلی کا مقصد ریلوے املاک اور مسافروں کو نقصان سے بچانا ہوتا ہے۔

بتادیں وادی میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں مسافر ریل گاڑیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ کشمیر میں ملک کے دوسرے حصوں کا سفر کرنے والے بیشتر لوگ جموں کے بانیہال تک کا سفر ریل گاڑیوں کے ذریعہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اضلاع میں تعینات سرکاری اور نجی اداروں کے ملازم بھی اپنے کام کی جگہوں پر پہنچنے کے لئے ریل گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ریل گاڑیوں کو کشمیر میں آمدورفت کا سستا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم خدمات کی بار بار کی معطلی کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!