Published From Aurangabad & Buldhana

کرناٹک انتخابات: کرناٹک کے گورنر ویجوبھائی والا پر سب کی نظر، جنھوں نے کبھی مودی کے لیے اپنی اسمبلی سیٹ چھوڑ دی تھی

گورنر ویجوبھائی نے آج انتخابات کے نتائج کے بعد بی جے پی اور جنتا دل سیکیولر دونوں سے علیحدہ ملاقات کی، اب دیکھنا ہے کہ وہ پہلے کس کو دعوی پورا کرنے کا موقع دیتے ہیں۔

 بنگلور:- کرناٹک کے انتخابات کے نتائج نے ریاست کو معلق کر دیا ہے۔اب حکومت کے بننے میں سب سے اہم رول ریاست کے گورنر کا ہے جن کا تعلق گجرات سے ہیں۔
ویجوبھائی والا (عمر 80 سال) کو کرناٹک کے گورنر کے طور پر 2014 میں نامزد کیا گیا تھا۔
آج جب انتخابات کے نتائج بڑی حد تک آگئے تھے اور شام کے 5 بجے کے آس پاس بنگلور کے راج بھون پر افراتفری مچی ہوئی تھی۔ جے ڈی ایس اور بی جے پی دونوں پارٹیاں حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کر رہے تھے۔ اس موقع پر گورنر کے پاس دو راستے ہیں۔ ایک یا تو وہ اکثریت والے اتحاد کو حکومت بنانے کی دعوت دے یا پھر سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری بی جے پی کو اکثریت ثابت کرنے کا موقع دے۔
اس موقع پر یدویورپا نے کا کہنا ہے کہ پہلے انہیں موقع ملے جبکہ کانگریس کہہ رہی ہیکہ گوا اور منی پور میں بھی کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی لیکن وہاں گورنر اسے موقع نہیں دیا تھا۔ لیکن یہ اب گورنر پر منحصر ہے۔
ویجو بھائی سابق میں بی جے پی کے دو مرتبہ صدر رہ چکے ہیں۔ انھوں نے 2001 میں وزیر اعظم مودی کے گجرات کے پہلے الیکشن کے لئے اپنی راجکوٹ مغرب کی سیٹ چھوڑ دی تھی۔ ویجو بھائی نے اس سیٹ سے 7 مرتبہ انتخاب جیتا تھا۔ جب مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ بنے تھے ویجو بھائی اس وقت گجرات کے وزیر خزانہ تھے۔ انھوں نے مودی کے تحت 18 بار بجٹ پیش کیا تھا۔ ساتھ ہی وہ گجرات اسمبلی کے اسپیکر بھی رہیں ہیں۔
ویجو بھائی اپنے اسکول کے وقت ہی سی RSS سے جڑ گئے تھے۔ وہ اسکے بعد بی جے پی سے پہلے بنی پارٹی جن سنگھ سے جڑے اور گجرات کے قد آور لیڈر کیشو بھائی پٹیل کے کافی قریب ہوگئے تھے۔ ویجوبھائی کو گجرات میں بحران کو کنٹرول کرنے کے ماہر مانے جاتے تھےاور انھیں شنکر بھائی واگیلا کی بغاوت کے بعد پارٹی صدر بنایا گیا تھا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!