Published From Aurangabad & Buldhana

کرلا : طالبعلم سیلفی لیتے ہوئے ٹیریس سےگر گیا، جاں بحق

ممبئی: کرلا ایل آئی جی کا لو نی میں رہنے والا اور اسی سال اچھے نمبرات سے ایس ایس سی میں کامیابی حاصل کرنےوالا محمد زید یہاںایک بلڈنگ کے ٹیریس سے سیلفی لیتے ہوئے گرپڑا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔ جمعہ کو یہ حادثہ پیش آیا جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کرلا کی پریمیر کالونی کی ایک خالی بلڈنگ میں تفریح کی غرض سے گیا تھا ۔عمارت سے گرنے کے بعد جائے وقوع پر ہی اس کی موت واقع ہوگئی ۔ پولیس نے اے ڈی آر کا معاملہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔ اس حادثے کی وجہ سےجہاںمتوفی کے گھروا لے صدمے سے نڈھال ہیں اور علاقے کا ماحول سوگوار ہوگیا ہے وہیں بلڈر کے خلاف بھی ناراضگی پائی جارہی ہے ۔ بعد نماز عصرمتوفی کو قریش نگر قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔ زید آگےتعلیم کیلئے ۲۵؍ اکتوبر کودہرہ دون جانے والا تھا ۔
کرلا کے مغربی علاقے میںواقع ایل آئی جی کالونی بلڈنگ نمبر ۷؍ فلیٹ نمبر ۲؍ میں محمد زید (ساڑھے ۱۵سال ) اپنےبڑے بھائی محمد انس اور والد کے ساتھ رہتا تھا ۔ جمعہ کی شام ۵؍بجے زید کے والد محمد فہیم ونوبا بھاوے نگر پولیس اسٹیشن میں کسی کام سے پولیس اہلکاروں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اسی دوران پولیس کو فون آیا کہ پریمیر کالونی میں کوئی لڑکا بلڈنگ سے گرکر ہلاک ہوگیا ہے ۔ زید کے والد کو پولیس اسٹیشن میں بٹھاکر پولیس اہلکار جائے وقوع پر گئے ۔ تھوڑی دیر بعد والد کو بھی بیٹے کے حادثے کی خبر ملی ۔
زید کے ایک ساتھی نے بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ پریمیر کالونی میں واقع کوہ نور اسپتال کے سامنے ایس ڈی آئی ایل بلڈرس کے ذریعہ میونسپل کارپوریشن کیلئے تعمیر کی جانے والی بلڈنگ میں تفریح کیلئے گیا تھا ۔ وہاں تقریباً شام ۶؍بجے وہ بلڈنگ کے ۱۰؍ویں منزلےسے سیلفی لیتے ہوئے نیچے گر پڑا ۔ حادثہ کے بعد اسے کوہ نور اسپتال لے جایا گیا لیکن اس وقت تک کافی دیر ہوچکی تھی ۔ ڈاکٹروں نے داخلے سے قبل اسے مردہ قرار دے دیا ۔
اس معاملے میں نمائندہ انقلاب نے متوفی محمد زید کے والد محمد فہیم سے راجا واڑی اسپتال میں اس وقت گفتگو کی جب وہ پوسٹ مارٹم کیلئے آئے تھے ۔ انھوں نے اپنی نمناک آنکھوں سےکہا کہ میرے ۲؍ بیٹے تھے ۔ بڑا بیٹا انس ہے جبکہ زید کی عمر ابھی ۱۵؍ سال تھی ۔پڑھنے میں کافی اچھا اور ذہین تھا اور اسی سال اس نے کرلا کے البرکات اسکول سے ایس ایس سی میں بہترین کامیابی حاصل کی تھی ۔ ایک سوال کے جواب میں فہیم نے مزید کہا کہ زید پہلے سے بھی سیلفی لینے اور فوٹوگرافی کا شوقین تھا۔انسٹاگرام اور فیس بک وغیرہ پر آئے دن وہ الگ الگ طریقے سے فوٹو کھینچ کر اپ لوڈ کرتا تھا ۔ اسے گھومنے اور تفریح کرنے کا بہت شوق تھا ۔ وہ سفر کے دوران بھی ویڈیوگرافی اور سیلفی وغیرہ لیتا تھا ۔
محمد زید کے دادا قمرالزماںنے بتایا کہ حادثہ کے بعد جائے وقوع پر موجود اس کے ایک دوست نے مدد کیلئے لوگوں کو پکارا لیکن اس کی مدد کیلئے کوئی نہیں آیا اور کچھ لوگ وہاں پر آئے بھی لیکن کسی نے بھی زید کو اسپتال پہنچانے کی زحمت نہیں کی ۔ زید کا دوست عمر میں چھوٹا اور دبلا پتلا تھا اس لئے وہ بھی اکیلے اسے اٹھا نہیں سکتا تھا۔ وہ حادثے کے بعد کافی دیر تک جائے وقوع پر خون میں لت پت پڑا تھا ۔ اگر اسے حادثہ کے بعد اسپتال پہنچایا گیا ہوتا تو شاید اس کی جان بچ سکتی تھی ۔ انھوں نے بتایا کہ زید کے دوستوں نے اس حادثے کی اطلاع دی اور زید کو جائے وقوع سے متصل کوہ نور اسپتال میں آدھے گھنٹہ بعد علاج کیلئے لے جایا گیا ۔
قمرالزماں نے الزام لگایا کہ پریمیر کی بلڈنگیں خالی اور لاوارث حالت میں پڑی ہیں ۔ اگر اس کو سیکوریٹی کی نگرانی میں دے دی جائے تو اس طرح کے حادثات روکے جاسکتے ہیں ۔ جائے وقوع پر موجود ایک سیکوریٹی گارڈ کا کہنا ہے کہ ہم لوگوں کو یہاں پر ہونے والی بھنگار چوری کو روکنے کیلئے بٹھایا گیا ہے ۔ اگر ہم یہاں آنے کیلئے کسی کو روکنا بھی چاہیں تو نہیں روک سکتے ۔ کیوں کہ یہاں پر روکنے والے پولیس اہلکاروں پر منشیات کا استعمال کرنے والے حملہ کردیتے ہیں ۔
کرلا کے مقامی کارپوریٹر اشرف اعظمی نے بتایا کہ ایس ڈی آئی ایل بلڈر نے پریمیر کالونی میں ۳۰؍ بلڈنگیں جھوپڑاواسیوں کیلئے بنائی ہیں اور ان میں سے ۵؍ ۶؍ ۷: ۱۰؍۱۸؍ اور ۱۹؍نمبر بلڈنگوں میں مکین رہائش پزیر ہیں ۔ اس کے علاوہ تمام بلڈنگیں خالی اور لاوارث حالت میں پڑی ہیں۔اس کے علاوہ بلڈر بھابھااسپتال کیلئے ایک بڑی بلڈنگ تعمیر کررہا ہے لیکن فی الحال بلڈنگ کا کام بھی بند پڑا ہے۔انہی عمارتوں میںمنشیات کے عادی اور آوارہ قسم کے نوجوان ڈیرہ جمائے رہتے ہیں۔بھابھا اسپتال کیلئے بنائی جانے والی بلڈنگ میں ہی زید حادثے کا شکار ہوا ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایس ڈی آئی ایل کی تعمیر کی ہوئی بلڈنگیں خالی پڑی ہیں اور ان عمارتوں کی حفاظت کیلئے سیکوریٹی کا کوئی خاص انتظام نہیں ہے ۔ مذکورہ اسپتال کی بلڈنگ کے تحتانی ہال( پارکنگ ہال) میں پانی بھرا ہوا ہے۔ جہاں نہانے کے لئے بچوں کا تانتا لگا رہتا ہے اور انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ چند ماہ قبل اسی تحتانی ہال کے پانی میں ایک لڑکا ڈوب گیا تھا ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!