Published From Aurangabad & Buldhana

کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں منموہن سنگھ کا مودی پرسخت حملہ "جملوں سے نہیں ہوسکتی کسانوں کی دوگنی آمدنی”۔

درالحکومت دہلی واقع پارلیمنٹ انیکسی میں کانگریس کی نئی ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی اتوارکو پہلی میٹنگ ہورہی ہے۔ میٹنگ میں شریک سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اس دوران ملک کی موجودہ معاشی اورکسانوں کی حالت کو لے کروزیراعظم نریندر مودی کی تنقید کی۔

منموہن سنگھ نے خود اپنی تعریف کرنے اورجملے بازی کو لے کروزیراعظم مودی پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ صرف جملوں سے کسانوں کی آمدنی دوگنی نہیں ہوگی۔ مشہور ماہرمعاشیات ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ وزیراعظم کی توجہ جملے بنانے میں زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے دعووں کے لئے زرعی علاقے میں سالانہ 14 فیصد کی ترقی شرح چاہئے، جو کہیں آس پاس نہیں نظرآرہی ہے۔ منموہن سنگھ نے کہا کہ ترقی کی رفتاربڑھانے کے لئے فریم ورک بنانے کی جگہ وزیراعظم مودی اپنی تعریفوں کے پل باندھنے میں مصرف ہیں۔ جملے گڑھنے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ہے۔ ملک کو کام کرکے دکھانا ہے۔

سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے اس کے ساتھ ہی کہا کہ میں راہل گاندھی کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ہندوستان سماجی ہم آہنگی اوراقتصادی ترقی کو بحال کرنے کے کام پرپوری طرح سے حمایت کریں گے۔

وہیں سی ڈبلیوسی کی میٹنگ میں سونیا گاندھی نے کہا "ہم اتحاد کوموثربنانے کےلئے پابند عہد ہیں، اس کوشش میں ہم سبھی کانگریس صدر راہل گاندھی کے ساتھ ہیں۔ ہمیں اپنے لوگوں کو اس خطرناک حکومت سے بچانا ہے۔ وہیں کانگریس صدرراہل گاندھی نے نئی کانگریس ورکنگ کمیٹی کو ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان کا پل بتایا ہے۔ انہوں نے کانگریس لیڈروں اورکارکنان کو ملک کے استحصال اور پسماندہ طبقے کے لئے کام کرنے کی بات بھی کہی۔

واضح رہے کہ نئی کانگریس ورکنگ کمیٹی کی تشکیل 17 جولائی کو کی گئی تھی، اس میں 23 رکن ہیں۔ اس کمیٹی میں کانگریس کی نئی ورکنگ کمیٹی میں دگوجے سنگھ، جناردن دویدی، کرن سنگھ، محسنہ قدوائی، آسکرفرنانڈیز جیسے کئی کانگریس کے بڑے لیڈروں کو جگہ نہیں ملی ہے۔ جبکہ نئی سی ڈبلیو سی کے اراکین میں پارٹی صدرراہل گاندھی ، سونیا گاندھی ، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ ، موتی لال ووہرا، اشوک گہلوت ، غلام نبی آزاد، ملکاارجن کھڑگے، اے کے انٹونی، احمد پٹیل، امبیکا سونی اوراومن چانڈی کو جگہ دی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ یہ میٹنگ ایسے وقت میں ہورہی ہے ، جب دو دن پہلے ہی یعنی20 جولائی کو پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک کے دوران کانگریس صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی ، بی جے پی اور آر ایس ایس پر جم کر نشانہ سادھا تھا۔ راہل گاندھی اپنی تقریر کے دوران وزیراعظم مودی کے خلاف کافی جارحانہ رخ اختیارکرتے ہوئے نظر آئے تھے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!