Published From Aurangabad & Buldhana

کانوڑ یاترا میں ہنگامہ کے خوف سے نقل مکانی کر گئی اس گاؤں کی آدھی مسلم آبادی

پولیس کے ریڈ کارڈ نوٹس کی وجہ سے مسلم کمیونٹی کے 150 سے زیادہ کنبہ اپنے ۔ اپنے گھروں پر تالا لگاکر چلے گئے ۔ انہیں ڈر ہے کہ گاؤں سے گزرنے والی کانوڑ یاترا میں اگر کچھ ہنگامہ ہوا تو الزام ان پر لگے گا۔

یوپی کے بریلی جن پد کے کھیلم گاؤں میں ان دنوں سناٹا پسرا ہے۔ مسلم اکثریتی اس گاؤں کے زیادہ گھرو ں میں تالا لٹکا ہوا ہے۔ لوگ کم اور پولیس کی وردی میں جوان زیادہ نظر آرہے ہیں۔ وجہ ہے کانوڑ یاترا ۔ در اصل گزشتہ سال شو راتری کے دن ہی کانوڑ یاترا کے دوران اس گاؤں میں فرقہ وارانہ وبال ہوا تھا۔ پچھلے ساک کے واقعے سے سبق لیتے ہوئے اس مرتبہ سخت الرٹ دیا تھا کہ کوئی شرارت نہیں ہونی چاہئے۔

پولیس کے ریڈ کارڈ نوٹس کی وجہ سے مسلم کمیونٹی کے 150 سے زیادہ کنبہ اپنے ۔ اپنے گھروں پر تالا لگاکر چلے گئے ۔ انہیں ڈر ہے کہ گاؤں سے گزرنے والی کانوڑ یاترا میں اگر کچھ ہنگامہ ہوا تو الزام ان پر لگے گا۔ جمعرات کو یہاں بھاری پولیس فورس کی موجودگی میں کانوڑ یاترا گزری۔ گاؤں کی گلیوں میں ہر جانب خاکی وردی میں پولیس کے جوان نظر آ رہے تھے۔

مسلم اکثریتی بستی میں گھروں کے باہر تالے لگے تھے اور جہاں تالے نہیں لگے وہاں صرف کچھ ہی لوگ نظر آ رہےہیں۔ پولیس نے کانوڑ یاترا کو امن کے ساتھ نکالنے کیلئے گاؤں کے 445 لوگوں کے خلاف کارروئی کےساتھ ۔ساتھ ریڈ کارڈ بھی جاری کیا تھا ۔کچھ لوگوں کے خلاف غنڈہ ایکٹ کی بھی کارروائی کی تھی جس میں دونوں طرف کے لوگوں پر مقدمہ درج ہوا تھا۔

مسلم سماج کے لوگوں کی مانیں تو گاؤں کے تقریبا 150 کنبہ پولیس کی کارروائی کے ڈڑ سے گھروں میں تالا لگاکر چلے گئے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ڈر ہے کہ اگر کانوڑ یاترا میں کوئی ہنگامہ ہوا تو بے قصور لوگوں پر بھی کارروائی کی جائے گی۔ اگر وہ گاؤںمیں ہی نہیں رہیں گے تو پھر ان کا نام نہیں آئے گا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!