Published From Aurangabad & Buldhana

ڈیزل کی بڑھی قیمتوں کے خلاف ٹرک مالکان کی ملک گیر ہڑتال

ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں اور ٹھرڈ پارٹی پریمیم میں اضافہ کے خلاف ٹرک مالکان نے آج سے ہڑتال شروع کر دی ہے، جس کی وجہ سے ملک بھر میں 90 لاکھ ٹرکوں کی رفتار رک گئی ہے۔

پچھلے کچھ دنوں سے جس طرح سے لگاتار پٹرول اورڈیزل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اس سے ہر کوئی پریشان ہے۔ پریشان ہو کر آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ نے ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرک مالکان اور آپریٹروں نے ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں اور تھرڈ پارٹی بیمہ پریمیم میں اضافہ کے خلاف غیر معینہ مدت کے لئے ملک گیر ہڑتال شروع کی ہے۔آل انڈیا کنفیڈریشن آف گڈس وہیکل آنرس ایسوسی ایشن کے صدر چننا ریڈی نے بتایا، ’’ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں اور تھرڈ پارٹی بیمہ پریمیم میں اضافے کے خلاف آج صبح غیر معینہ ہڑتال شروع ہوئی۔

اس دوران تقریباً 90 لاکھ ٹرکوں کے پہیے تھمے رہیں گے اور ملک بھر میں تقریباً 60 فیصد ٹرک سڑکوں پر نہیں اتریں گے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’حکومت کی یہ دلیل ہے کہ ایندھن کی قیمت میں اضافہ بین الاقوامی بازاروں میں تیل قیمتوں میں اضافے کے سبب ہوئی ہے لیکن ہمیں لگتا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ کا سبب بین الاقوامی قیمتیں نہیں بلکہ وہ ٹیکس ہے جو حکومت نے لگایا ہوا ہے۔‘‘

ڈیزل کی قیمتوں اور پٹرولیم مصنوعات کو جی ایس ٹی کے دائرے میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مغربی بنگال ٹرک آپریٹر ایسو سی ایشن کے جوائنٹ سکریٹری سجل گھوش نے کہا کہ صوبہ میں ہڑتال کو لے کر اچھا رجحان سامنے آیا ہے، جہاں تقریباً 3.5 لاکھ ٹرک سڑکوں سے غائب ہیں۔ٹرک مالکان کا کہنا ہے کہ ہم پہلے سے ہی مہنگے ڈیزل سے پریشان ہیں، ساتھ ہی ٹائر اور اسپیئر پارٹس کی قیمتیں بھی کافی بڑھ گئی ہیں جس کی وجہ سے گاڑیوں کا رکھ رکھاؤ کافی مہنگا ہو گیا ہے۔

اس کے علاوہ گاڑی پر لون اور روڈ ٹیکس بھی کافی زیادہ ہے۔ٹرکوں کی اس ہڑتال کا اثر سیدھے عام آدمی کی جیب پر پڑ سکتا ہے کیوں کہ آنے والے دنوں میں دودھ، سبزی اور دیگر سامانوں کی سپلائی پر سیدھا اثر پڑے گا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!