Published From Aurangabad & Buldhana

ڈمپل کیمیکل کمپنی نے پیش کیا جدید تکنیک کے پیچ ورک کا ڈیمو

اورنگ آباد (سینئر رپورٹر)شہری حدود میں واقع راستوں کے گڑھوں کو پیچ ورک کے ذریعہ بند کرنے کی خاطر متعدد پرائیویٹ ایجنسیاں میئر اور میونسپل کمشنر سے رابطہ کر رہی ہیں ۔ آج ڈمپل کیمیکل کمپنی پونہ کے پروپرائٹر آبا شندے نے ریلوے اسٹیشن علاقہ میں میئر بنگلہ کے باہر راستہ کے گڑھوں پر پیچ ورک کا ڈیمو دکھایا ۔ اس موقع پر میئر نندکمار گھوڑیلے، ڈپٹی میئر وجئے اوتاڑے، چیئرمن گجانن باروال اور ہاؤس لیڈر وکاس جین کے علاوہ میونسپل کمشنر مگلیکر، سٹی انجینئر ایس ڈی پانجھڑے، ایکزیکٹیو انجینئر اینڈ بی او ٹی چیف سید سکندر علی، ایکزیکٹیو انجینئر ڈی پی کلکرنی اور ڈپٹی انجینئر س و جونیئر انجینئرس بھی موجود تھے ۔ آبا شندے نے عہدیداران کے روبرونامہ نگاروں کو پیچ ورک کے متعلق تفصیلات بتلائیں کہ پیچ ورک کیلئے پی آئی سی سی ٹیکنیک کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس تکنیک کی خاصیت یہ ہے کہ ڈامر (تارکول) اور کانکریٹ دونوں راستوں کے گڑھوں میں بہتر ڈھنگ سے تحلیل ہو کر چٹک جاتے ہیں ۔ اسی طرح پیچ ورک کے بعد گڑھے والا حصہ اوپر نیچے نہیں رہتا بلکہ راستہ کے بالکل ہموار ہو جاتا ہے ۔ساتھ ہی سب سے اہم پہلو یہ کہ صرف تین گھنٹوں میں ہی پیچ ورک پوری طرح سیٹ ہو جاتا ہے ۔ اسے کیورنگ کی بھی ضرورت نہیں ۔ یہ زمین سے پانی ازخود جذب کرتا ہے ۔ پیچ ورک کی گارنٹی تین سال ہے۔ شندے نے بتایا 50 ایم ایم گہرے گڑھے کیلئے 2500 مربع میٹر ریٹ پر پیچ ورک کیا جاتا ہے ۔ اس تکنیک نے میئر سمیت تمام عہدیداران کو بہت متاثر کیا ۔ میئر نے واضح کیا کہ اس تکنیک سے پیچ ورک کروانے کے ضمن میں سردست کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔ عہدیداران کے ہمراہ ہر پہلو کا جائزہ لیا جائے گا کہ اس تکنیک سے پیچ ورک کہاں کہاں کئے جاسکتے ہیں، ایجنسی کے ریٹ کارپوریشن کے لئے قابل برداشت ہوں گے یا نہیں۔ میئر نے مزید کہا اگر حتمی فیصلہ ہو جائے تو شہر کے ایسے راستے جہاں بار بار گڑھوں پر پیچ ورک کرنا پڑتا ہے، فلائی اوور س کے نیچے اور شہر سے گزرنے والے ہائی وے کا وہ حصہ جو میونسپل کارپوریشن کے ذمہ ہے ، وہاں اسی تکنیک سے پیچ ورک کئے جائیں گے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!