Published From Aurangabad & Buldhana

ڈرائیونگ اور فٹ بال میچ کے بعد اب سعودی خواتین کو ملی ایک اور آزادی ، بدل گیا یہ قانون

ریاض : سعودی عرب میں خواتین اب اپنے شوہر یا کسی قریبی مرد رشتے دار کی اجازت کے بغیر بھی اپنا کوئی کاروبار شروع کرسکتی ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی حکومت نے گذشتہ جمعرات کو خواتین سے متعلق پالیسی میں اس اہم تبدیلی کا اعلان کیا ہے اور یہ اس وقت مملکت میں نافذ سخت تولیتی نظام میں نمایاں تبدیلی کا بھی مظہر ہے۔اس نام کے تحت خواتین اپنے قریبی مرد رشتے داروں کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر کام کے لیے نہیں جاسکتی ہیں۔

سعودی عرب کی وزارتِ تجارت اور سرمایہ کاری نے اپنی ویب سائٹ پر یہ اعلان کیا ہے کہ ’’ خواتین اب اپنے کاروبار شروع کرسکتی ہیں اور حکومت کی ای خدمات سے مرد سرپرست کی رضا مندی کے بغیر فائدہ اٹھا سکتی ہیں‘‘۔ سعودی عرب میں نافذ العمل سرپرستی کے نظام کے تحت خواتین کو حکومت کے ہاں کوئی کاغذات جمع کرانے ، سفر یا تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے مرد سرپرست بالعموم خاوند ، باپ یا بھائی سے حاصل کردہ اجازت نامے کا ثبوت پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔

سعودی عرب اس وقت ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی نگرانی میں جامع اصلاحات کے پروگرام ویژن 2030ء پر عمل پیرا ہے۔اس کے تحت تیل کی معیشت پر انحصار کم کرنے کے لیے معیشت کے دوسرے شعبوں پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔خواتین کو بھی نجی اور سرکاری شعبوں میں ملازمتوں میں ترجیح دی جارہی ہے اور ان کے لیے بھی کاروبار کرنے کے مواقع پیدا کیے جارہے ہیں۔

سعودی عرب کے پراسیکیوٹر جنرل نے اسی ماہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کو تحقیقات کار کے طور پر بھرتی کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس سے پہلے سعودی مملکت نے ہوائی اڈوں ، سرحدی گذرگاہوں اور بندرگاہوں پر 140 مختلف اسامیوں پر خواتین کی بھرتی کا اعلان کیا تھا۔ان اسامیوں کے لیے قریباً 107000 خواتین نے درخواستیں جمع کرائی تھیں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!