Published From Aurangabad & Buldhana

ڈاکٹر ذاکر نائیک کو بڑا جھٹکا ، الہ آباد ہائی کورٹ نے غیر ضمانتی وارنٹ پر لگی روک ہٹائی

الہ آباد : الہ آباد ہائی کورٹ سے اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ ہائی کورٹ نے غداری کے معاملہ میں یوپی کے جھانسی ضلع میں درج مقدمہ میں ضلع عدالت سے جاری غیر ضمانتی وارنٹ پر لگی روک ہٹالی ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک پر لوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکانے اور غداری پر اکسانے کا الزام ہے ۔
جھانسی تھانے میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف آئی پی سی کے دفعہ 121 کے تحت کیس درج ہے۔ مقامی عدالت سے غیر ضمانتی وارنٹ جاری ہونے پر سال 2010 میں ڈاکٹر ذاکر نائیک نے الہ آباد ہائی کورٹ سے اپنی گرفتاری پر اسٹے آرڈر لے لیا تھا۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کو گرفتاری پر لگی روک ہٹاتے ہوئے ان پر عام کارروائی کے تحت کیس چلانے کا حکم دیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی 28 مارچ کو معاملہ کی سماعت کی آخری تاریخ مقرر کی ہے۔ جسٹس امر سنگھ چوہان کی ایک رکنی بینچ نے عرضی گزار مدثر اللہ خان کی عرضی پر اسٹے آرڈر واپس لینے کا حکم دیا ہے۔
غور طلب ہے ڈاکٹر ذاکر نائیک پر 2008 میں بنگلور میں پیس ٹی وی کے ایک پروگرام میں روحانی مذہبی رہنما شری شری روی شنکر کے ساتھ اشتعال انگیز تقریر کرنے کا الزام لگایا گیا ہے ۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران ہر مسلم کو دہشت گرد اور غیر مسلم کو غیر سماجی عناصر قرار دیا تھا ۔ اس کے ساتھ ہی جھانسی میں سوار گیٹ میں کچھ دستاویزت بھی تقسیم کئے تھے۔
عرضی گزار مدثر اللہ خان کی جانب سے جھانسی میں غداری کا مقدمہ درج کرایا تھا ، جس معاملہ کی سماعت جھانسی ضلع عدالت میں سال 2008 سے 2010 تک چلی ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!