Published From Aurangabad & Buldhana

ڈاکٹروں کی ہڑتال: دہلی سے مہاراشٹر تک پھیلی بنگال کی آگ

کولکاتا میں ڈاکٹروں پر حملے کے خلاف چل رہی ڈاکٹروں کی ہڑتال نے ملک گیر احتجاج کی شکل اختیار کر لی ہے۔ کولکاتا میں سرکاری اور ریذیڈنٹ ڈاکٹرز کئی دنوں سے ہڑتال پر ہیں اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی طرف سے کام پر لوٹنے کا الٹی میٹم دیئے جانے کے باوجود وہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ دریں اثنا کولکاتا کی یہ آگ اب ملک کی مختلف ریاستوں تک پہنچ گئی ہے اور ڈاکٹروں نے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دہلی، ممبئی، پونے، پٹنہ، رائے پور، بھوپال وغیرہ متعدد شہروں میں ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں۔

ممتا کا الٹی میٹم بھی بے اثر

مغربی بنگال میں تین دنوں تک طبی خدمات ٹھپ رہنے کے بعد جمعرات کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے دوپہر کو کولکاتا میں واقعہ ریاست کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال ایس ایس کے ایم میڈیکل کالج اسپتال کا دورہ کیا تھا۔ وہاں انہوں نے احتجاجی ڈاکٹروں کو فوری ہڑتال ختم کرنے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ ممتا نے ڈاکٹروں سے دوپہر دو بجے تک احتجاج ختم کرنے کے لئے کہا تھا۔ حالانکہ ان پر ممتا کے الٹی میٹم کا کوئی اثر نہیں پڑا اور انہوں نے اسپتال میں ہی ممتا کے خلاف نعرے بازی کی۔

کولکاتا سے شروع ہوئے ڈاکٹروں کے اس احتجاج کی ہوا ملک کی کئی ریاستوں تک پہنچ گئی ہے اور جگہ جگہ پر ڈاکٹرز گول بند ہو رہے ہیں۔

دہلی کی سڑکوں پر احتجاج

دہلی میں تمام سرکاری اور ریذیڈنٹ ڈاکٹر کولکاتا میں ڈاکٹروں پر ہوئے حملہ کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ محض ایمرجنسی خدمات کو چھوڑ کر او پی ڈی وغیرہ کی خدمات بند پڑی ہیں۔ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی ایمس کے علاوہ یہاں کے کئی سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کا برا حال ہے۔

ایمس کی ریذیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر رنجن نے کہا کہ جمعرات کو ڈاکٹروں نے کولکاتا کے واقعہ کے خلاف خاموش مظاہرہ کیا، لیکن آج یعنی جمعہ کے روز وہ سڑکوں پر اتر کر اس واقعہ کے خلاف احتجاج کریں گے۔ تمام سرکاری ڈاکٹروں سے ایمس کے آڈیٹوریم پر جمع ہونے کی اپیل کی گئی ہے جہاں سے جلوس کے شکل میں ڈاکٹر نرمان بھون تک جائیں گے۔ وہ وزیر صحت سے مل کر ایک مکتوب سونپیں گے جس میں کئی طرح کی مانگیں اٹھائی گئی ہیں۔

او پی ڈی میں ڈاکٹروں کی غیر موجودگی نے ہنگامی صورت حال بنا دی ہے۔ ہر سرکاری اسپتال کے باہر مریض اور ان کے اہل خانہ بے حال ہیں۔ خاص طور پر ایمس اور صفدر گنج اسپتال میں جہاں حالات کافی بگڑے ہوئے ہیں۔ صفدر گنج اسپتال کے چوراہے کے نزدیک مریضوں کا ہجوم لگا ہوا ہے جو علاج نہ ہونے کی وجہ سے بری طرح پریشان ہیں۔

مہاراشٹر کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال

ادھر، مہاراشٹر ایسوسی ایشن آف ریذیڈنٹ ڈاکٹرز (ایم اے آر ڈی) سے وابستہ ڈاکٹروں نے ریاست کے تمام 26 سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو دیکھنا بند کر دیا ہے۔ ایم اے آّر ڈی کے جنرل سکریٹری دیپک منڈے نے بتایا کہ تمام ڈاکٹر صبح 8 بجے سے 5 بجے تک اپنی خدمات بند رکھیں گے۔ اس کے ساتھ ہی اسپتال انتظامیہ کو مطلع کر دیا گیا ہے کہ کسی بھی طرح سے مریضوں کو کوئی پریشانی نہ ہو اور دیگر خدمات بند نہیں کی جائیں۔ ایم اے آر ڈی کے ارکان کی طرف سے پونے، اورنگ آباد اور ناگپور میں بھی مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

کیا ہے کولکاتا کا معاملہ؟

کولکاتا کے سرکاری این آر ایس اسپتال میں ایک 75 سالہ مریض کی موت کے بعد اس کے اہل خانہ نے مبینہ طور پر جونیئر ڈاکٹر کے ساتھ مار پیٹ کی تھی، اس کے بعد منگل کی صبح سے وہاں احتجاج کی آگ بھڑک اٹھی اور معمول کی خدمات کو ٹھپ کر دیا گیا۔ فوت ہونے والے شخص کے اہل خانہ نے ڈاکٹر پر لاپروائی کا الزام عائد کیا ہے۔ مار پیٹ میں ایک زیر تربیت ڈاکٹر پریباہا مکھرجی کے سر پر گہری چوٹ لگی ہے۔ اسے کولکاتا کے پارک سرکس واقع انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنس کے آئی سی یو میں داخل کرایا گیا ہے۔

ڈاکٹروں پر کارروائی کی تیاری

میڈیا رپورٹوں کے مطابق بنگال کی حکومت ہڑتالی ڈاکٹروں پر سخت کارروائی کر سکتی ہے۔ مغربی بنگال میڈیکل کونسل کے صدر نرمل ماجی نے جمعرات کو کہا کہ ہڑتالی ڈاکٹر اگر کام پر نہیں لوٹے تو ان کا رجسٹریشن منسوخ ہو سکتا ہے اور ان کا انٹرنشپ مکمل ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی روک دیا جائے گا۔

انہوں نے حزب اختلاف کی جماعتوں پر ہڑتالی ڈاکٹروں کو بھڑکانے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا کہ اپوزیشن جماعتیں ممتا بنرجی حکومت کی مفت طبی خدمات اسکیم کو بند کرانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت سرکاری اسپتالوں میں ہر میڈیکل اسٹوڈنٹ پر 50 لاکھ روپے خرچ کرتی ہے۔ اگر وہ مریضوں کی خدمات کو ہی انجام نہیں دیں گے تو انہیں مل رہی سہولیات بھی روک دی جائیں گی۔

سیاست کا شکار نہ بنیں ڈاکٹر: ممتا بنرجی

مغربی بنگال میں ڈاکٹروں کے ہڑتال کے دوران وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے فیس بک پر حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”تین دن قبل این آر ایس اسپتال میں افسوس ناک واقعہ پیش آیا اس کے فوری بعد ہم نے ریاستی وزیر مملکت چندریما بھٹاچاریہ کو اسپتال بھیجا اور انہوں نے زخمی جونیئرڈاکٹر سے ملاقات کرکے احتجاج کو ختم کرنے کی اپیل کی۔ اسپتال میں بڑی تعداد میں مریض، کینسر کے مریض، کڈنی کے مریض اور دیگر مریض جو دور دراز علاقوں سے آتے ہیں ان کا علاج نہیں ہو رہا تھا۔

وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی حکومت ہرضروری کارروائی کرنے کو تیار ہے ایڈیشنل چیف سکریٹری ہیلتھ نے اسپتال کا دورہ کرکے زخمی طالب علم کی حالت کاجائزہ لیا اور ڈاکٹروں سے اپیل کی کہ ہڑتال کو ختم کردیں۔ ہماری حکومت ڈاکٹروں کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے اور ہر ضروری کارروائی کرنے کو تیار ہے۔ مگر سیاسی جماعتیں اس معاملے میں سیاست کر رہی ہیں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!