Published From Aurangabad & Buldhana

چندرابابو نائیڈو کی TDP نے چھوڑا مودی کا ساتھ، ہوئی این ڈی اے سے الگ

پارلیمنٹ میں پیش کریں گے عدم اعتماد تحریک

حیدرآباد:- آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ نہ دینے جانے کو لیکر چندرا بابو نائیڈو کی تیلگو دیسم پارٹی نے وزیر اعظم مودی کے اتحاد سے خود کو الگ کرلیا ہے۔ ساتھ ہی ٹی ڈی پی نے پارلیمنٹ میں حکومت کے خلاف عدم اعتماد تحریک بھی پیش کردی ہے۔ وائے ایس آر کانگریس نے بھی عدم اعتماد تحریک کی نوٹس پیش کی تھی لیکن ٹی ڈی پی نے علیحدہ سے اس کو جاری کرانے کا اعلان کیا تھا۔
واضح رہے کہ ٹی ڈی پی کے پاس 16 ممبران پارلیمنٹ ہیں لیکن یہ تعداد عدم اعتماد تحریک کے لیے کافی نہیں ہے۔ پچھلے ہفتہ ہی TDP کے جانب سے موجودہ حکومت میں شامل دو وزرا نے استعفیٰ دیا تھا۔ اس موقع پر نائیڈو نے کہا تھا کہ ہم نے وزیر اعظم سے بات کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انکی طرف سے جواب نہیں آیا۔
یو تو فلحال مرکز میں اس اتحاد کے ختم ہونے سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اس کا اثر آنے والے سال میں لوک سبھا انتخابات پر ضرور پڑھ سکتا ہے۔
شیو سینا جس نے بھی مہاراشٹر میں اکیلے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا یہ کہا کہ اب مودی لہر ختم ہو چکی ہے۔ یہی بات کل نائیڈو نے اپنے ممبران پارلیمنٹ سے بات کرتے ہوئے بھی کہی جس میں انھوں نے حال ہی میں یو پی کے ضمنی انتخابات کے نتائج کا بھی ذکر کیا۔
نائیڈو نے یہ بھی کہا کہ اب بی جے پی انکے خلاف آندھرا پردیش میں جگن ریڈی اور جن سینا کے پون کلیان سے ہاتھ ملانے کی کوشش کررہی ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!