Published From Aurangabad & Buldhana

پی این بی گھوٹالہ : 2011 سے نہیں ، 2017 – 18 میں ہوا پورا گھوٹالہ ، سی بی آئی کی ایف آئی آر میں انکشاف

ممبئی : ارب پتی ہیرا کاروباری نیرو مودی نے دو ہزار گیارہ نہیں بلکہ دو ہزار سترہ اور اٹھارہ کے درمیان ہی پنجاب نیشنل بینک سے گیارہ ہزار تین سو کروڑ روپے کی دھوکہ دھڑی کی تھی ۔ سی بی آئی کی جانب سے درج ایف آئی آر میں یہ بتایا گیا ہے ۔ ملک کی تاریخ میں ہوئے اس سب سے بڑے بینکنگ گھوٹالہ میں مرکزی وزیر اور حکمراں بی جے پی کے ترجمان دعوی کررہے ہیں یہ کانگریس کے دور اقتدار دو ہزار گیارہ میں شروع ہوا تھا ۔

سی بی آئی دو ہزار سترہ اور اٹھارہ کے درمیان ہوئے لین دین تک ہی محدود ہے ۔ وہیں اگر یہ گھوٹالہ دو ہزار گیارہ میں شروع ہوا تو غبن کی گئی رقم گیارہ ہزارتین سو کروڑ نہیں بلکہ اس سے کافی زیادہ ہوسکتی ہے۔

ادھر اس معاملہ میں پنجاب نیشنل بینک کے جن چار افسران سے پوچھ تاچھ ہوئی ہے وہ سبھی ان برانچ میں جو سوالات کی زد پر ہے ، دو ہزار چودہ کے بعد ہی تعینات ہوئے تھے ۔ ان افسران میں شامل بیچو تیوار فروری دوہزار پندرہ سے لے کر اکتوبر دو ہزار سترہ تک نریمن پوائنٹ برانچ کے چیف منیجر تھے ۔ اس کے علاوہ سنجے کمار پرساد مئی دو ہزار سولہ اور اکتوبر دو ہزار سترہ کے درمیان برینڈی ہاوس برانچ میں اسسٹنٹ منیجر تھے ۔ مہندر کمار شرما نومبر دو ہزار پندرہ سے جولائی دو ہزار سترہ کے درمیان آڈیٹر تھے اور منوج کرات نومبر دو ہزار چودہ سے دسمبر دو ہزار سترہ تک سنگل ونڈو آپریٹر تھے ۔

اس گھوٹالہ کو لے کردرج ایف آئی آر میں منوج کرات اور گوکل ناتھ سیٹی کا نام ہے ۔ گوکل ناتھ کو پانچ دنوں پہلے آخری مرتبہ ان کے گھر پر دیکھا گیا تھا ، لیکن تب سے وہ فرار ہیں ۔ سی بی آئی نے جمعہ کو ان کے گھر پر تیسری مرتبہ چھاپہ مارا اور ان کی اہلیہ اور بھائی سے پوچھ تاچھ کی ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!